Tue, September 22, 2026

ٹرمپ کا ایران سے متعلق بڑا اعلان، مڈٹرم انتخابات کے بعد معاہدے کی امید

ٹرمپ کا ایران سے متعلق بڑا اعلان، مڈٹرم انتخابات کے بعد معاہدے کی امید

نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف امریکی کارروائی کا دفاع کیا اور کہا ہے کہ ایران کو کبھی ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ معاہدے کی امید بھی ظاہر کردی۔

 ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران بیلسٹک میزائلوں کی آڑ میں جوہری ہتھیار تیار کرنا چاہتا تھا۔ ان کے بقول امریکی فوجی کارروائی کے نتیجے میں ایران کا جوہری پروگرام شدید متاثر ہوا اور امریکی فوج نے ایرانی جوہری پروگرام کو پہاڑوں کے نیچے دفن کردیا۔

 امریکی صدر نے کہا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی، تاہم ایرانی حکام نے ابتدائی پیشکش قبول نہیں کی، جس کے بعد امریکا نے ’’آپریشن مڈ نائٹ ہیمر‘‘ کیا۔

 ٹرمپ نے ایران پر خطے میں دہشت گردی اور بدامنی پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے خلاف کارروائی اور پابندیوں کے لیے عالمی تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے ایران کی معاشی صورتحال پر بھی بات کی اور دعویٰ کیا کہ ایرانی معیشت شدید مشکلات سے دوچار ہے۔

 ایران کے مستقبل سے متعلق امریکی صدر نے کہا کہ اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ تہران کے خلاف مزید کارروائی کی جائے یا معاہدے کی طرف بڑھا جائے۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔

 آبنائے ہرمز کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ امریکی نیوی نے محفوظ راستہ یقینی بنایا ہے اور آبنائے سے تیل کی ترسیل جاری ہے۔ انہوں نے خطے کی موجودہ صورتحال کو انتہائی کشیدہ قرار دیا۔

 ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جنگ بندی سے بہت سی جانوں کا تحفظ ممکن ہوا۔ روس اور یوکرین جنگ پر انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی تنازعات کو جہاں تک ممکن ہو سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔

 امریکی صدر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوانے کا کریڈٹ بھی لیا اور جنرل اسمبلی کے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف کا ذکر کرتے ہوئے انہیں سراہا۔

ٹیگز: