دنیا کی تہذیبیں دراصل انسان کے اجتماعی حافظے کی وہ کتاب ہیں جس کے صفحات صدیوں اور ہزاروں برس میں لکھے گئے۔ قدیم میسوپوٹیمیا اور وادی نیل کی مصری تہذیب سے لے کر یونانی و رومی تمدن تک، ایران کی قدیم روایتوں سے ہندوستان، سندھ اور پنجاب کی تہذیبی یادداشتوں تک، اور پھر چینی، ترک، روسی، یورپی، سامی اور برطانوی معاشروں تک، ہر قوم نے اپنے تجربات، مشاہدات، حکایتیں، مکالمے، کہاوتیں اور کردار اگلی نسلوں کے حوالے کیے۔ زبانیں بدلتی رہیں، سلطنتیں بنتی اور مٹتی رہیں، مذہبی اور سیاسی نظام تبدیل ہوتے رہے، مگر انسان کو انسان کے طور پر پرکھنے کا بنیادی سوال ہمیشہ اپنی جگہ موجود رہا: اصل عظمت کہاں ہے؟ لباس میں، منصب میں، علم میں، نسب میں یا کردار میں؟
اسی سوال کے گرد دنیا کی بہت سی تہذیبوں میں ایسی حکایتیں گردش کرتی رہی ہیں جو بظاہر معمولی واقعہ معلوم ہوتی ہیں، مگر اپنے اندر ایک پورا اخلاقی فلسفہ رکھتی ہیں۔
ایسی ہی ایک مشہور حکایت ایک بازار سے متعلق بیان کی جاتی ہے۔ ایک معلم صاحب وہاں سے گزر رہے تھے۔ سر پر عمامہ، بدن پر جبہ، وضع قطع مکمل دینی اور چہرے پر مذہبی وقار۔ سامنے ایک عورت اپنے اڈے پر بیٹھی تھی۔ معلم صاحب رکے، چند لمحے اسے دیکھا اور پوچھا: تم یہ کام کیوں کرتی ہو؟ اسے چھوڑ کیوں نہیں دیتیں؟ عورت نے بھی انہیں غور سے دیکھا اور نہایت سکون سے جواب دیا: حضرت !میں جو ہوں، وہ آپ کو نظر آ رہی ہوں، لیکن آپ جو ہیں، وہ مجھے نظر نہیں آ رہے۔
یہ جملہ اگرچہ ایک حکایت کا حصہ ہے، مگر انسانی کردار کے بارے میں ایک گہرا سوال اٹھاتا ہے۔ یہاں عورت اپنے پیشے کا دفاع نہیں کر رہی، نہ معلم کے علم سے انکار کر رہی ہے۔ وہ صرف یہ کہہ رہی ہے کہ ظاہر کسی انسان کی مکمل حقیقت نہیں ہوتا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں حکایت اخلاقی آئینہ بن جاتی ہے۔
ہم اکثر دوسروں کے عیب دیکھنے میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ اپنے باطن کی طرف دیکھنے کا وقت نہیں نکالتے۔ حالانکہ انسانی تاریخ کی بڑی حکمتوں میں ایک مشترک نکتہ یہی ہے کہ انسان کی اصل قدر اس کے عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔
قدیم یونانی روایت میں سقراط سے منسوب ایک معروف تصور ہے کہ حقیقی علم انسان کو اپنے جہل کا احساس دلاتا ہے۔ اس روایت کی اخلاقی
معنویت یہی ہے کہ علم اگر انسان میں انکسار پیدا نہ کرے تو وہ محض معلومات کا ذخیرہ رہ جاتا ہے۔ اسی طرح مشرقی حکمت کی بے شمار روایتوں میں عالم اور دانا کی پہچان اس کے الفاظ سے زیادہ اس کے عمل کو قرار دیا گیا ہے۔
چینی فلسفی کنفیوشس کی تعلیمات میں بھی انسانی کردار، ذمہ داری اور عمل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ان کی فکر میں محض دعویٰ کافی نہیں، انسان کی اخلاقی حیثیت اس کے طرزِ عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔ افلاطون کے ہاں بھی انصاف صرف ایک سیاسی یا قانونی اصطلاح نہیں بلکہ انسانی نفس کی ترتیب اور کردار کی درستی سے وابستہ تصور ہے۔ ہندوستانی اور ایرانی حکمت کی روایتوں میں بھی یہ خیال بار بار سامنے آتا ہے کہ ظاہری مرتبہ اور حقیقی بزرگی دو الگ چیزیں ہیں۔
اسلامی روایت تو اس معاملے میں اور بھی واضح ہے۔ قرآن مجید انسان کی ظاہری شناختوں سے آگے بڑھ کر تقویٰ کو معیار بناتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ متقی ہے۔(مفہوم)۔
اسی لیے ہمارے معاشرے میں خاندانی ہونے کی اصطلاح پر بھی دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ خاندانی ہونا صرف اس بات کا نام نہیں کہ باپ کے پاس بڑی جائیداد تھی، دادا کسی بڑے عہدے پر تھا یا خاندان کا نام کسی پرانی فہرست میں درج ہے۔ باپ کی جائیداد انسان کو وارث بنا سکتی ہے، مگر باپ کی دیانت ہی انسان کو اس کی اخلاقی میراث کا وارث بناتی ہے۔
اصل خاندانی پن وہ ہے جو نسل در نسل جائیداد کے ساتھ نہیں بلکہ کردار کے ساتھ منتقل ہو۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تہذیبی حکایتوں میں اکثر استاد کے سامنے شاگرد، بادشاہ کے سامنے فقیر، عالم کے سامنے عام آدمی اور طاقتور کے سامنے کمزور کردار کو کھڑا کر کے ایک ایسا سوال پیدا کیا گیا ہے جس کا جواب منصب نہیں دے سکتا، صرف کردار دے سکتا ہے۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے شرافت کو بھی ایک سماجی پروٹوکول بنا دیا ہے۔ حج کر لیا، عمرہ کر لیا، کسی بڑے خاندان سے تعلق نکل آیا، مذہبی لباس پہن لیا، بڑی گاڑی آ گئی، عہدہ مل گیا، تو ہم نے سمجھ لیا کہ انسان بھی بڑا ہو گیا۔ حالانکہ یہ سب چیزیں اپنی جگہ قابل احترام ہو سکتی ہیں، مگر ان میں سے کوئی چیز بذاتِ خود انسان کے کردار کی ضمانت نہیں۔
کردار کی اصل آزمائش وہاں شروع ہوتی ہے جہاں انسان کو کوئی دیکھنے والا نہ ہو۔
دفتر میں فائل سامنے ہو اور اختیار صرف آپ کے ہاتھ میں ہو، وہاں کردار ظاہر ہوتا ہے۔ بازار میں کسی غریب کا حق آپ کے ہاتھ میں ہو، وہاں کردار ظاہر ہوتا ہے۔ گھر میں کوئی کمزور آپ کے رویے کا محتاج ہو، وہاں کردار ظاہر ہوتا ہے۔ عدالت میں اپنے مقدمے کے مفاد اور اصول کے درمیان انتخاب کرنا ہو، وہاں کردار ظاہر ہوتا ہے۔ اور تنہائی میں جب انسان کو یہ یقین ہو کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا، وہاں اس کی اصل شخصیت اپنے آپ کو ظاہر کرتی ہے۔
اسی لیے انسان کی سب سے بڑی گواہی اس کا اپنا ضمیر ہے۔
ڈاکو ہو یا ڈاکٹر، ڈانسر ہو یا افسر، استاد ہو یا تاجر، مزدور ہو یا مالک، سیاست دان ہو یا عام شہری، کسی مذہب، مسلک یا پیشے سے وابستہ ہو، انسان کی آخری پہچان اس کا کردار ہے۔ پیشہ انسان کی معاشی شناخت ہو سکتا ہے، منصب اس کی انتظامی شناخت، خاندان اس کی سماجی شناخت اور لباس اس کی ظاہری شناخت، مگر اخلاق اس کی انسانی شناخت ہے۔
یہاں ایک اور تہذیبی سبق بھی قابل غور ہے: قومیں صرف عمارتوں سے تہذیب نہیں بنتیں، کرداروں سے تہذیب بنتی ہیں۔ تہذیب دراصل اینٹوں، پتھروں اور عمارتوں کا نام نہیں؛ تہذیب انسان کے اندر تعمیر ہونے والی عمارت کا نام ہے۔ اور شاید اسی لیے معلم اور طوائف کی یہ حکایت اپنے ظاہری کرداروں سے کہیں بڑی ہے۔ یہ کسی ایک پیشے کو پاک اور دوسرے کو ناپاک قرار دینے کی بحث نہیں۔ یہ ہمیں خبردار کرتی ہے کہ دوسروں کے ظاہر پر فیصلہ صادر کرنے سے پہلے اپنے باطن کی عدالت میں پیش ہونا چاہیے۔
کیونکہ ممکن ہے جس شخص کو ہم نیچا سمجھ رہے ہوں، وہ کسی ایک اخلاقی مقام پر ہم سے بلند ہو۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ جس مقام، لباس، علم یا منصب پر ہمیں ناز ہے، وہی ہماری آزمائش بن جائے۔
اسی لیے شرافت وراثت میں ملنے والی جائیداد نہیں، کردار سے کمائی جانے والی میراث ہے۔
اور شاید اس پوری حکایت کا سب سے بڑا سبق یہی ہے:
میں جو ہوں، وہ تمہیں نظر آ رہا ہے؛ مگر تم جو ہو، وہ مجھے نظر نہیں آ رہا۔
اس ایک جملے میں انسان کے ظاہر اور باطن کے درمیان پوری دنیا آباد ہے۔