پشاور : خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (PTI) شدید اندرونی خلفشار کا شکار ہو گئی ہے، جہاں سابق اور موجودہ وزرائے اعلیٰ کے حامیوں کے درمیان اختلافات اب کھلی دشمنی میں بدل چکے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق صوبائی تنظیم تین واضح دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے، جس سے حکومت کا انتظامی ڈھانچہ مفلوج ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
علی امین گنڈاپور گروپ نے موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کا ’ہنی مون پیریڈ‘ ختم ہو چکا ہے اور اب انہیں اپنی کارکردگی کا حساب دینا ہوگا۔ علی امین گروپ نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف باقاعدہ ڈیجیٹل وار کا آغاز کر دیا ہے، جس میں حکومت کی مبینہ ناکامیوں اور انتظامی سستی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی کے اندر اس وقت تین نمایاں گروپ سرگرم ہیں؛ ایک موجودہ وزیراعلیٰ کا وفادار، دوسرا سابق وزیراعلیٰ کا حامی، جبکہ تیسرا دھڑا خاموشی سے قیادت کی تبدیلی کا منتظر ہے۔