Wed, September 16, 2026

آبنائے ہرمز میدانِ جنگ بن گئی: امریکی بحریہ اور پاسدارانِ انقلاب میں آمنے سامنے کی لڑائی شروع

آبنائے ہرمز میدانِ جنگ بن گئی: امریکی بحریہ اور پاسدارانِ انقلاب میں آمنے سامنے کی لڑائی شروع

واشنگٹن / تہران: امریکا اور ایران کے درمیان جاری عسکری تصادم کے دوران ایران نے دنیا کی اہم ترین تجارتی شہ رگ "آبنائے ہرمز" کو ہر قسم کے بحری جہازوں کے لیے مکمل بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی اسٹیٹ میڈیا کے مطابق، اس تزویراتی (اسٹریٹجک) گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کے پانیوں میں امریکی فوج اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے درمیان براہِ راست اور شدید جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔
امریکی فضائی کارروائیوں اور صدر ٹرمپ کے الٹی میٹم کے جواب میں ایران نے عالمی سپلائی لائن پر کاری ضرب لگائی ہے۔ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بین الاقوامی تجارتی اور تیل بردار جہازوں (Oil Tankers) کو زبردستی روک دیا ہے۔
    دنیا بھر کے خام تیل کی کل سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ (20 فیصد) اسی راستے سے ہوتا ہے، جس کی بندش سے عالمی منڈیوں میں تیل کا شدید ترین بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، امریکی بحریہ نے تجارتی راستے کو کھلا رکھنے اور بندش کو ناکام بنانے کے لیے پیش قدمی کی۔   سمندری حدود میں امریکی بحری بیڑے اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے کمانڈوز اور تیز رفتار جنگی کشتیوں کے درمیان شدید فائرنگ اور میزائلوں کا تبادلہ ہوا ہے۔
    تہران نے دوٹوک مؤقف اپنایا ہے کہ جب تک امریکی فوج ایران پر بمباری بند نہیں کرتی، تب تک کسی بھی جہاز کو گزرنے کا راستہ نہیں دیا جائے گا۔

ٹیگز: