واشنگٹن :خلیجِ فارس میں جاری فوجی تصادم کے درمیان امریکی سینیٹ کا ایوان اس وقت ابل پڑا جب سینیٹر کوری بُکر اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ایران پالیسی پر شدید تلخ کلامی ہوئی۔ سینیٹر کوری بُکر نے بائیڈن-ہیرس انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے پوچھا کہ جب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے عالمی معیشت کا گلا گھونٹ رکھا ہے، تو امریکہ کیوں ایک ایسے معاہدے کی "بھیک" مانگ رہا ہے جسے وہ خود کچرے کے ڈبے کی نذر کر چکا تھا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی موجودہ پالیسی دنیا بھر میں ہماری کمزوری کا اشتہار بن چکی ہے۔ ایران نے عالمی تجارتی شاہراہ (آبنائے ہرمز) بلاک کر دی ہے اور امریکی حکومت فوجی جواب دینے کے بجائے تہران کے سامنے گڑگڑا رہی ہے۔ ہم اسی ناکام جوہری ڈیل (JCPOA) کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں جسے امریکہ نے خود مسترد کیا تھا؟۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے کوری بُکر کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کی روک تھام کا معاملہ جذبات سے حل نہیں ہوتا۔
ایران کا نیوکلیئر پروگرام ایک انتہائی پیچیدہ اور ٹیکنیکل معاملہ ہے، جسے جنگ کے ذریعے راتوں رات ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے سینیٹ کو بتایا کہ یہ بحران 5 دن میں حل ہونے والا نہیں، ماہرین اور سائنسدانوں کے درمیان یہ تکنیکی مذاکرات 3 ماہ سے بھی زیادہ طویل ہو سکتے ہیں۔