Wed, September 16, 2026

پاکستان کی سفارتی کوششیں، امن کی امید 

پاکستان کی سفارتی کوششیں، امن کی امید 

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود پاکستان کی سفارتی کوششیں خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اگرچہ جنگ بندی کے باوجود واشنگٹن کا رویہ بدستور سخت اور بعض حلقوں کے مطابق غیر لچکدار دکھائی دیتا ہے، اور امریکی بیانات سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے خدشات اب بھی موجود ہیں، تاہم پاکستان کی قیادت مسلسل امن کے قیام کے لیے سرگرم عمل ہے۔وزیراعظم میاں شہبازشریف اورفیلڈ مارشل سید عاصم منیرکی قیادت میں پاکستان نے سفارتی محاذ پر متحرک کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم کے حالیہ دورے.... جن میںسعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر اور بذریعہ ٹیلیفونک کینیڈا اور پولینڈ سمیت دیگر مختلف عالمی رہنما¶ں سے رابطے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے۔ عالمی سطح پر بھی ان کوششوں کو سراہا جا رہا ہے، اور پاکستان کو ایک م¶ثر ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ایرانی صدر مسعودپزشکیان کی جانب سے امریکی اقدامات کو اشتعال انگیز قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔ تاہم پاکستان اور ایران کے درمیان مسلسل مکالمہ اور رابطے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک مسائل کے حل اور امن کے فروغ کے لیے سفارتکاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ پاکستان کی ان کوششوں نے عالمی سطح پرفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شخصیت کو بھی نمایاں کیا ہے، جو عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں۔ گزشتہ برس بھارت کے ساتھ مختصر مگر اہم فضائی تنازع میں کامیابی اور اس کے بعد عالمی سطح پر ان کی پذیرائی نے پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا۔ یہاں تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی ان کی تعریف کی گئی، جو بین الاقوامی میڈیا میں نمایاں رہی۔دوسری جانب پاکستان کو معاشی محاذ پر بھی بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے 3.45 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر پر دبا¶ بڑھا، تاہم سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے رول اوور کے اعلان نے وقتی ریلیف فراہم کیا۔ اس پیش رفت کے بعد پاکستان کے بین الاقوامی بانڈز میں بھی بہتری دیکھی گئی۔وزیر خزانہ محمداورنگزیب نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے اجلاس کے دوران تقریباً 5 ارب ڈالر کے پانڈا بانڈز، یوروبانڈز یا سکوک جاری کرنے کا عندیہ دیا۔ تاہم ان تجارتی قرضوں پر منافع کا انحصار پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ اور معاشی صورتحال پر ہوگا، جو تاحال نان-انویسٹمنٹ کیٹیگری میں ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مارچ 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر 16.38 ارب ڈالر تھے، جن میں یو اے ای کی واپسی تقریباً 21 فیصد بنتی ہے۔ اگر سعودی تعاون نہ ہوتا تو یہ صورتحال درآمدات، روپے کی قدر اور مجموعی معاشی استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔ مزید برآں، آئی ایم ایف کی جانب سے مہنگائی کا تخمینہ 8.4 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے، جس سے مانیٹری پالیسی پر دبا¶ بڑھ رہا ہے اور شرح سود میں اضافے کا امکان موجود ہے۔اس تمام صورتحال میں وزارتِ خارجہ اور وزارتِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ یو اے ای کو قرض کی واپسی ایک معمول کا مالیاتی عمل ہے، جسے غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بدستور مضبوط ہیں، اور تاریخی طور پر یہ تعلق باہمی اعتماد پر مبنی رہا ہے، جس کی بنیاد شیخ زید بن سلطان النہیان نے رکھی۔مزید برآں، یو اے ای میں مقیم 15 لاکھ سے زائد پاکستانی ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان بھیجتے ہیں، جو معیشت کے لیے ایک اہم سہارا ہیں۔ نائب وزیراعظم پاکستان اسحاق ڈار کے مطابق یو اے ای میں پاکستانیوں کے اثاثے تقریباً 200 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو دونوں ممالک کے معاشی تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔جبکہ یو اے ای میں کام کرنے والے ہزاروں پاکستانی سالانہ کروڑوں ڈالر کی ترسیلات پاکستان بھیجتے ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان اس وقت ایک نازک مگر اہم مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں ایک جانب وہ عالمی سطح پر امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، تو دوسری جانب اسے معاشی استحکام کے لیے مشکل فیصلے بھی کرنا ہیں۔ موجودہ جیوپولیٹیکل صورتحال نے پاکستان کو وقتی سفارتی برتری ضرور دی ہے، مگر پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اندرونی اصلاحات، بالخصوص غیر ضروری اخراجات میں کمی اور م¶ثر معاشی پالیسیوں کا نفاذ یقینی بنایا جائے تاکہ بیرونی قرضوں پر انحصار کم ہو اور معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکے۔

ٹیگز: