Wed, September 16, 2026

استنبول مذاکرات میں امید کی کرن نظر آئی، محتاط امید پسندی موجود ہے: وزیر دفاع خواجہ آصف

استنبول مذاکرات میں امید کی کرن نظر آئی، محتاط امید پسندی موجود ہے: وزیر دفاع خواجہ آصف

اسلام آباد:وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں امید کی ایک کرن نظر آئی ہے، تاہم اس مرحلے پر کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ جہاں پہلے تمام امیدیں دم توڑ چکی تھیں، اب کچھ مثبت آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا عمل جاری ہے اور مختلف مسودوں پر فریقین کے درمیان تبادلہ ہو رہا ہے۔

خواجہ آصف کے مطابق جب ایک فریق کسی مسودے سے اتفاق کرتا ہے تو اسے دوسرے فریق کو ترمیم کے لیے بھیجا جاتا ہے، اور پھر وہ مسودہ دوبارہ نظرِ ثانی کے لیے واپس آتا ہے۔ “یہ ایک تدریجی عمل ہے، جس میں احتیاط کے ساتھ امید پسندی برقرار ہے۔”

انہوں نے کہا کہ اگر کابل اپنے رویے میں تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار دہشت گردی پر مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

وزیر دفاع نے بتایا کہ قطر اور ترکیہ اس عمل میں فعال ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ “ترکیہ اور قطر ہمارے لیے قابلِ احترام اور خیر خواہ ممالک ہیں، جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے مؤقف کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔”

انہوں نے انکشاف کیا کہ جب مذاکرات میں تعطل پیدا ہوا تو ترک اور قطری ثالثوں نے دونوں وفود کو ہوائی اڈے سے واپس بلا کر بات چیت دوبارہ شروع کرائی، جس کے نتیجے میں مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھ سکا۔

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان تحریری معاہدے کے بغیر کسی وعدے کو قبول نہیں کرے گا۔ “جو بھی معاملات طے پائیں گے، وہ تحریری ہوں گے اور ان کی تصدیق قطر اور ترکیہ کریں گے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان حکومت کسی حد تک قطر پر انحصار رکھتی ہے کیونکہ ماضی میں قطر نے ان کے بین الاقوامی روابط میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے امریکی ناظم الامور سے ملاقات کو معمول کی ملاقات قرار دیا اور کہا کہ مذاکراتی امور پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔

دریائے کنڑ پر ڈیم کی تعمیر کے معاملے پر وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کے پاس کافی اثر و رسوخ ہے اور کابل یکطرفہ طور پر دریا کا رخ موڑ کر اسلام آباد کے پانی کے حقوق سے انکار نہیں کر سکتا۔

بعد ازاں ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں وزیر دفاع نے افغان وفد کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے جنگجو افغان سرزمین پر پناہ گزین نہیں بلکہ مسلح دہشت گرد ہیں، جو چوروں کی طرح پہاڑی راستوں سے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مؤقف افغانستان کے خلوصِ نیت پر سوال اٹھاتا ہے۔

ٹیگز: