Sun, September 20, 2026

یہاں غربت جرم ہے ؟

یہاں غربت جرم ہے ؟

پاکستان میں غریب ہونا اب صرف کم پیسے ہونا نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جو آدمی کے کھانے سے پہلے اس کے انتخاب کو کم کرتی ہے، بیماری سے پہلے اس کے علاج کو محدود کرتی ہے، تعلیم سے پہلے اس کے خواب کا قد چھوٹا کرتی ہے اور زندگی کے بہت سے معمولی فیصلوں کو بھی ایک مشکل حساب کتاب بنا دیتی ہے۔ ہم غربت کو عموماً ایک خالی جیب، ایک چھوٹے سے گھر یا دسترخوان پر کم کھانے کے ذریعے دیکھتے ہیں، مگر غربت شاید اس سے کہیں زیادہ گہری چیز ہے۔ یہ انسان کے وقت، عزت، مواقع اور اختیار تک پہنچتی ہے۔ ایک غریب آدمی کے پاس پیسے کم ہوتے ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ اس کے پاس غلطی کی گنجائش کم ہوتی ہے۔ ایک بیماری، ایک حادثہ، چند دن کی بے روزگاری، بچے کی فیس، گھر کا کرایہ یا اچانک آنے والا کوئی ضروری خرچ اس کی پوری زندگی کے حساب کو بگاڑ سکتا ہے۔ متوسط طبقے کا آدمی جس مشکل کو وقتی پریشانی کہہ کر گزار دیتا ہے، غریب آدمی کے لیے وہ کئی مہینوں کا قرض، کئی دن کی بھوک یا کسی بچے کی تعلیم چھوٹ جانے کا سبب بن سکتی ہے۔ہم نے غربت کو ہمیشہ اس آدمی کی ذاتی ناکامی کے طور پر دیکھنے کی عادت بھی بنا لی ہے۔ وہ محنت نہیں کرتا، اس نے پیسے بچائے نہیں ہوں گے، اس نے کوئی ہنر نہیں سیکھا ، اس نے بچوں کی تعداد زیادہ کر لی، اسے کاروبار کرنا نہیں آتا ہو گا۔ ان باتوں میں بعض افراد کے فیصلوں کی حقیقت اپنی جگہ ہو سکتی ہے لیکن کسی پورے طبقے کی زندگی کو چند اخلاقی جملوں میں سمجھ لینا شاید ہماری اپنی آسانی ہے۔ کیونکہ اگر محنت ہی غربت سے نکلنے کی واحد ضمانت ہوتی تو اس ملک کا مزدور سب سے خوشحال طبقہ ہوتا۔ اینٹیں اٹھانے والا، سڑک بنانے والا، کھیت میں کئی گھنٹے کھڑے رہنے والا ہاری، گھر گھر کام کرنے والی عورت، رکشہ چلانے والا، بازار میں صبح سے رات تک دکان پر بیٹھنے والا، یہ سب لوگ کم محنت نہیں کرتے۔ ان میں سے بہت سے لوگ اتنی محنت کرتے ہیں جس کا تصور بھی آرام دہ زندگی گزارنے والا شخص نہیں کر سکتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہر محنت کی قیمت ایک جیسی نہیں ہوتی اور ہر انسان کو اپنی محنت کا پھل وصول کرنے کے لیے ایک جیسا میدان بھی نہیں ملتا۔
غریب آدمی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ شاید یہ نہیں کہ وہ کم کماتا ہے بلکہ اس کی آمدنی کا بڑا حصہ ایسی بنیادی ضرورتوں میں چلا جاتا ہے جن سے بچنا ممکن نہیں۔ کرایہ دینا ہے، بجلی کا بل دینا ہے، بچوں کی فیس دینی ہے، سفر کا خرچ ہے، راشن خریدنا ہے، دوا لینی ہے اور پھر اچانک کسی ایک چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو گھر کا پورا بجٹ دوبارہ بنانا پڑتا ہے۔ ایک گھر میں جب آمدنی محدود ہو تو مہنگائی صرف قیمتیں نہیں بڑھاتی، وہ بچوں کی کسی خواہش کو یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ اگلے مہینے لے دیں گے۔ اگلا مہینہ آتا ہے تو کوئی اور ضرورت سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ یوں غریب گھرانے کے بچے صرف چیزوں کی کمی کے ساتھ نہیں پلتے، وہ مسلسل مو¿خر ہوتی ہوئی خواہشوں کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں۔غربت کا ایک چہرہ ہسپتالوں میں سب سے زیادہ صاف دکھائی دیتا ہے۔ ایک بیمار آدمی کے لیے بیماری پہلے ہی ایک خوف ہے لیکن غریب گھرانے کے لیے اس خوف کے ساتھ ایک دوسرا خوف بھی چلتا ہے کہ علاج کے اخراجات کہاں سے آئیں گے۔ ڈاکٹر کی فیس، ٹیسٹ، دوا، آنے جانے کا کرایہ اور کام سے چھٹی کا نقصان، یہ سب بیماری کے ساتھ گھر کے دروازے سے اندر داخل ہوتے ہیں۔ بعض اوقات مسئلہ دوا خریدنے کی استطاعت کا نہیں ہوتا، مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ دوا خریدنے کے بعد گھر میں آٹا کم پڑ جائے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں غربت ایک معاشی مسئلے سے نکل کر انسانی المیے میں بدل جاتی ہے۔ بیماری امیر اور غریب دونوں کو ہوتی ہے لیکن بیماری دونوں کے لیے ایک جیسی نہیں ہوتی۔ 
تعلیم کے معاملے میں بھی ہم غربت کو صرف فیس کی ادائیگی تک محدود کر دیتے ہیں حالانکہ ایک بچے کو سکول تک پہنچانے کے لیے فیس کے علاوہ کتابیں، یونیفارم، جوتے، سفر، امتحانی اخراجات اور گھر میں پڑھنے کا ماحول بھی درکار ہوتا ہے۔ پھر ایسے گھر بھی ہیں جہاں بچے کو سکول بھیجنے کا مطلب ایک ہاتھ کی کمائی کم ہونا ہے۔ جب گھر میں باپ اکیلا کمانے والا ہو، ماں بیمار ہو یا کئی چھوٹے بچے ہوں تو بڑے بچے کے لیے تعلیم اور گھر کی ضرورت کے درمیان انتخاب کبھی کبھی بہت بے رحم ہو جاتا ہے۔ وہ بچہ سکول یا کبھی کالج چھوڑ دیتا ہے اور کسی دکان، فیکٹری،ورکشاپ یا چھوٹے کاروبار میں کام شروع کر دیتا ہے۔ ہم اسے محنتی کہہ دیتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں حالانکہ ممکن ہے اس کی محنت کے پیچھے ایک ایسا خواب دفن ہو گیا ہو جس کا ہمیں کبھی علم ہی نہ ہوا۔یہاں غربت صرف ایک نسل کو متاثر نہیں کرتی، یہ اگلی نسل کے امکانات بھی محدود کرتی ہے۔ 
 غریب آدمی کی اصل محرومی شاید یہ نہیں کہ اس کے پاس کم پیسہ ہے۔ اصل محرومی یہ ہے کہ اس کے پاس اپنی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کی آزادی کم ہوتی جاتی ہے۔ وہ کہاں رہے گا، کیا کھائے گا، بچے کہاں پڑھیں گے، بیماری میں کیا ہوگا، شادی کیسے ہوگی، بڑھاپا کیسے گزرے گا، ان میں سے بہت سے فیصلے اس کی خواہش سے زیادہ اس کی جیب طے کرتی ہے اور جب کسی انسان کی زندگی کے بڑے فیصلے مسلسل اس کی مجبوری کے ہاتھ میں چلے جائیں تو غربت صرف معاشی حالت نہیں رہتی، وہ سماجی سزا بن جاتی ہے۔ہم اکثر کہتے ہیں کہ پاکستان میں غریب بہت ہیں۔ شاید ہمیں ایک دن یہ جملہ بدل کر کہنا ہوگا کہ پاکستان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں غربت سے نکلنے کا حق تو دیا گیا مگر نکلنے کے لیے راستہ نہیں دیا گیا۔ پھر ہم یہ بھی دیکھ سکیں گے کہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کسی کے پاس پیسہ کم ہے، مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پاس انتخاب کم ہے، وقت کم ہے، تحفظ کم ہے اور اپنے بچوں کے لیے ایک مختلف زندگی بنانے کا موقع کم ہے اور شاید کسی معاشرے کی اصل آزمائش یہی ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین آدمی کو کس قدر کمزور ہونے سے بچاتا ہے کیونکہ غربت صرف اس وقت ظلم نہیں بنتی جب کسی کے گھر میں کھانا نہ ہو۔ غربت اس وقت بھی ظلم بن جاتی ہے جب ایک انسان کے پاس کھانا تو ہو مگر علاج کا اختیار نہ ہو، تعلیم کی گنجائش نہ ہو، آرام کا حق نہ ہو، خواب دیکھنے کی آزادی نہ ہو اور اپنی ہی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کی طاقت نہ ہو۔ہمیں غریب آدمی کو صرف زندہ رکھنے کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اسے عزت کے ساتھ زندہ رہنے کا حق کیسے ملے گا۔ ورنہ ہم غربت کم نہیں کریں گے، صرف غریبوں کو غربت برداشت کرنے کے قابل بناتے رہیں گے۔

ٹیگز: