Wed, September 16, 2026

اب یہاں دھوپ میں سایہ نہ ملے گا تم کو

اب یہاں دھوپ میں سایہ نہ ملے گا تم کو

انسان اور فطرت کے درمیان جو رشتہ قائم ہے وہ صرف بقا کا ہی نہیں بلکہ باہمی احترام کا پیمان ہے ۔ درخت ، ہوا، مٹی اور پانی یہ تمام عناصر صرف زمین کی ساخت ہی نہیں بلکہ انسان کی روح کے اجزابھی ہیں ۔جنگلات جن سے ہماری زمین کو سانس ملتی ہے ، نمی ملتی ہے ، زندگی ملتی ہے ، ان کے پتوں میں وقت سانس لیتا ہے ، ان کی شاخوں پر کائنات کے موسم ٹھہرتے ہیں ، ان کے بغیر نہ تو زمین کی زرخیزی برقرار رہ سکتی ہے اور نا ہی توازن ۔درخت بولتے نہیں ہیں مگر ان کا ہر پتا انسان کو جینے کا سبق دیتا ہے ، یہ سجدہ بھی نہیں کرتے مگر ان کے خمیدہ تنے عاجزی کی تصویر پیش کرتے ہیں ۔ جنگلات کسی بھی قوم کی محض زینت نہیں بلکہ وہ اس کی بقا کا پہرہ ہوتے ہیں ۔ ان کی جڑوں میں زمین کی کہانیاں ہوتی ہیں ، ان کی چھال میں وقت کے لمس کے نشان ہوتے ہیںاور سائے میں انسان کی بقا کی پناہ ۔مگر افسوس کے برسوں سے غفلت ، غیر قانونی کٹائی اور کمزور انتظامی ڈھانچے نے ان سبز اثاثوں کو بے حد نقصان پہنچایا ۔ وہ جنگلات جو کبھی انسان کی پناہ گاہ تھے اب خود پناہ کے محتاج ہیں ۔ وہ جو کبھی موسموں کو ترتیب دیا کرتے تھے اب خود موسموں کی بے ترتیبی کے باعث جل رہے ہیں ۔پاکستان کے کل رقبے کا بمشکل چار سے پانچ فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے جبکہ عالمی معیار کے مطابق کسی بھی ملک کا کم از کم 25فیصد حصہ جنگلات سے ڈھکا ہواہونا چاہیے ۔پنجاب جو ہمارے ملک کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے مگرجنگلات کا تناسب یہاں صرف 3.1فیصد ہے ۔ اس کے مقابلے خیبر پختونخوا نسبتاً بہتر ہے لیکن پھر بھی پاکستان میں جنگلات کا مجموعی رقبہ بڑھنے کی رفتار انتہائی سست ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان ہر سال تقریباً 27000ہزار ہیکٹر جنگلات کھو دیتا ہے ۔ یہ صرف درختوں کا زوال ہی نہیں ہے بلکہ زمینی نظام کی بربادی ہے ۔ہر کٹنے والا درخت درجہ حرارت میں اضافے ، ہوا میں آلودگی اور زمینی 
کٹائو میں تیزی کا سبب بنتا ہے ۔ انسانوں نے ترقی کے نام پر جو جنگ چھیڑی اس کے سب سے گہرے زخم فطرت کے بدن پر ثبت ہوئے اور شاید اب وقت آ گیا ہے کہ انسان اپنے ہاتھوں لگائے گئے ان زخموں پر مرہم رکھے ۔ دنیا کی ہر مہذب قوم کی تاریخ میں ایک ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ فطرت کی طرف پلٹتی ہے ، اپنی زمین ، اپنے درختوں اور اپنی فضائوں سے از سر نو رشتہ جوڑتی ہے ۔ ویسے تو جنگلات کی حفاظت کی ذمہ داری انسانیت کے کندھوں پر نہیں بلکہ چند افراد کے ہاتھوں میں ہے ۔ یہ ہی وہ لوگ ہیں جو دن رات اپنی پروا کیے بغیر درختوں ، پرندوں اور زمین کی صحت کے محافظ بن کر کھڑے ہیں ۔ محکمہ جنگلات کے یہ افسران اس عہد کے وہ خاموش مجاہد ہیں جو انسانوں کے ہاتھوں لگائے گئے زمین کے ان زخموں پر مرہم رکھ رہے ہیں مگر افسوس کے ان مجاہدوں کے ہاتھ آج بھی کمزور ہیں ۔ وہ طاقت اور لالچ کی دنیا کے بیچ محدود واختیارات کے ساتھ ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جو کہنے کو تو جنگل کی جنگ ہے مگر حقیقت میں یہ جنگ انسانیت کی جنگ ہے ۔وقت کا تقاضا ہے کہ محکمہ جنگلات کے ان افسران کو صرف نگران نہیں بلکہ مجسٹریٹ کے اختیارات دئیے جائیں ۔یہ اختیارات کوئی طاقت نہیںبلکہ ذمہ داری ہیں ، غیر قانونی کٹائی اور سمگلنگ کے خلاف جنگ تبھی ممکن ہے جب ان کے پاس قوت ہو ۔جب تک محافظ کے ہاتھ فیصلے کی قوت سے محروم ہوں تب تک تحفظ محض ایک خواہش رہتا ہے ۔ ایک افسر اگر موقع پر کارروائی نا کر سکے تو مجرم کا خوف ختم نہیں مگر کم ضرور ہو جاتا ہے ۔ جنگلات کے تحفظ کے لیے اختیار اور احتساب دونوں ایک ہی توازن میں درکار ہیں ۔پاکستان جیسے ملک میں جہاںآب و ہوا کے تغیرات پہلے ہی خطرہ بن چکے ہیں جنگلات کا تحفظ کسی نعرے کا نہیں بلکہ بقا کا معاملہ ہے ۔ یہ محض ماحولیاتی ایجنڈا نہیں بلکہ زندگی کا مینی فیسٹو ہے ۔و قت گواہ ہے کہ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ درختوں سے رشتہ جوڑلیتی ہیں ، یہ درخت محض لکڑی نہیں بلکہ تاریخ ہیں ، ثقافت ہیں ، زندگی کی علامت ہیں ۔آج جب دھوپ تیز اور زمین پیاسی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ انسانوں نے اپنا سایہ خود ہی اجاڑ دیا ۔ ایسے میں عاصم رضا کا یہ شعر ایک فطری صدائے احتجاج بن جاتا ہے ۔
پیڑ کاٹاہے تو پھر سوچ کے آنا واپس
اب یہاں دھوپ میں سایہ نہ ملے گا تم کو 
جنگلات زمین کے پھیپھڑے ہیں ان کے اندر حیات کی وہ گردش پوشیدہ ہے جو انسان کے وجود کو بھی متوازن رکھتی ہے ۔ مگر ہم نے ان کو لکڑی کے بھائو تولا ، ان کے سائے کو زمین کی قیمت میں بدلا ، ان کے وجود کو ٹھیکوں اور ٹھپوں کی فائلوں میں گم کر دیا ۔ مری جو کبھی سبز کہانیوں کی وادی ہوا کرتی تھی مگر اب یہاں پہاڑ پتھروں کے غم میں چپ ہیں ۔ درختوں سے زیادہ گیسٹ ہائوس دکھائی دیتے ہیں ۔ہوا اب بھی وہی ہے مگر سانس بوجھل ۔ پھر بھی ایک امید باقی ہے اور یہ امید وہ کوششیں ہیں جو محکمہ جنگلات نے حالیہ برسوں میں شروع کیں ۔جیسے کے سیٹلائٹ سے نگرانی کا نظام جو ہر کٹتے درخت، جلتی زمین اور تجاوز کو آسمان سے دیکھ سکتا ہے۔ یہ یقینا ایک انقلابی قدم ہے۔ زمین پر موجود ہر انحراف کا عکس اب خلا سے دکھائی دیتا ہے مگر یہاں سوال یہ ہے کہ کیا صرف دیکھ لینا کافی ہے؟؟ ٹیکنالوجی راستہ دکھاتی ہے مگر چلنا انسان نے ہوتا ہے۔ سیٹلائٹ کی آنکھ بہت کچھ دیکھ سکتی ہے مگر انصاف کے ہاتھ انسان کے پاس ہیں ۔جنگلات کا تحفظ صرف نگرانی کا نہیں بلکہ ایک منظم، مضبوط، دیانتدار اور انسانی شعور سے جڑے نظام کا تقاضا کرتا ہے ایک ایسا نظام جو زمین کے دکھ کو محض فائل نہیں بلکہ فریاد سمجھے۔ ایک ایسا ڈھانچہ جس میں اختیار بھی ہو، اخلاقی ذمہ داری بھی اور نتیجہ خیزی بھی۔ اس لیے اب بات صرف سیٹلائٹ کی نہیں رہی ضرورت اس نظام کی ہے جو نیت سے جنم لے، اختیار سے چلتا ہو اور احتساب پر ختم ہوتا ہو۔

ٹیگز: