Wed, September 16, 2026

یہاں پھول آرزووں کے کبھی نہیں کِھل سکے !

یہاں پھول آرزووں کے کبھی نہیں کِھل سکے !

قارئین کرام !جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں سے تیل لے جانے والے بحری جہازوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے جو گزرنا چاہیں وہ چینی کرنسی میں کچھ ادائی کرکے گزر سکتے ہیں امریکا تلملا رہا ہے اور آبنائے ہرمز پر اپنا قبضہ جمانے کے لئے بے چین ہے جو کہ بظاہر ناممکنات میں سے ہے۔ پاکستان پر مبینہ طور سے شروع دن سے کوئی قدغن نہیں وہ جتنے مرضی تیل کے جہاز اپنے ملک لے جائے اس کو نہیں روکا جارہا اور اس سے کوئی پیسا بھی وصول نہیں کیا جا رہا تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب تیل کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ نہیں تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیوں کیا گیا اگرچہ اب چار سو اٹھاون میں سے اسّی روپے کم کر دئیے گئے ہیں مگر پچاس روپے تب بھی بڑھے ہیں اس سے پہلے پچپن روپوں کا اضافہ کیا گیا۔ یہ بات درست ہے کہ تیل پیدا کرنے والے ملکوں نے ایرانی میزائلوں کی وجہ سے خام تیل کو صاف کرنا کم کر دیا ہے لہٰذا ان کی مجموعی پیداوار کم ہو چکی ہے چنانچہ قیمتیں منطقی اعتبار سے بڑھنا ہی تھیں مگر حیرت یہ ہے کہ دیگر ممالک میں اس قدر نہیں بڑھیں جس قدر اِدھر بڑھیں جب ایران اور روس نے کہا کہ ان سے تیل معمولی پیسوں کے عوض حاصل کیا جا سکتا ہے تو حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا جس کا مطلب واضح تھا کہ پاکستان کے پاس تیل موجود ہے موجود نہ بھی ہو اسے تو تیل کی بندش کا سامنا ہی نہیں ہے۔
اس تاثر کو کیسے زائل کیا جا سکتا ہے حکومت کو سوچنا چاہیے مگر وہ کب ایسا سوچتی ہے اسے تو بس اپنے فکر رہتی ہے ہم یہ موجودہ حکومت کی ہی بات نہیں کر رہے یہاں جو بھی کوئی اقتدار میں آتا ہے اپنی ڈگڈگی بجاتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ اسی لئے ہم بھاری قرضوں کے چ±نگل میں پھنس چکے ہیں۔اس وقت بھی ایسا ہی ہو رہا ہے تیل مخصوص ذرائع سے نہیں حاصل کیا جا رہا مگر مہنگا کر دیا گیا ہے۔ ویسے کوئی ہمیں بتا دے اور سمجھا دے کہ اگر کوئی چیز زیادہ پیسوں کے عوض دستیاب ہو سکتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ وافر مقدار و تعداد میں موجود ہے ؟
اب تیل کی قیمت بڑھنے سے ہر چیز کی قیمت نہیں بڑھے گی کیا ضرور بڑھے گی۔ ہمیں نہیں لگتا کہ عوام کا کچومر نکال کر مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں کیونکہ ان میں سکت ہی نہیں رہی ان کی آمدنیوں میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ کمی آئی ہے۔ اب تو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی کٹوتیاں ہونے لگی ہیں۔ پینشن میں بھی کٹوتی کی گئی ہے اس طرح لوگوں کی مجموعی معاشی حالت روز بروز خراب ہو رہی ہے۔ بے روزگاری کی وجہ سے نوجوان نسل میں مایوسی گہری سے گہری ہوتی چلی جا رہی ہے۔ بہرحال حکومت نے موٹرسائیکل رکھنے والوں پر خصوصی عنایت یہ فرمائی ہے کہ انہیں کوئی مخصوص فارم پ±ر کرنے کے بعد مبلغ ایک سو روپے کی رعایت دی جائے گی مگر شاید اب نہ دی جائے کیونکہ اس نے اسّی روپے کم کر دئیے ہیں اسی طرح ہو سکتا ہے کسانوں اور بڑی گاڑیاں رکھنے والوں کو بھی کوئی رعایت نہ دی جائے۔
عجیب منطق ہے جند روپوں کی چھوٹ دے کر بھاری رقوم حاصل کی جائیں گے۔یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہونی چاہیے کہ اب لوگ پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرنے کے بجائے اپنی سواری استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جس سے گھریلو بجٹ پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں اس سے ماحولیات کا مسلہ بھی پیدا ہو رہا ہے کہ آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ پٹرول جلنے سے جو سیسہ دھوئیں کی شکل میں رگوں میں اترتا ہے اس سے سانس اور سرطان ایسے امراض جنم لیتے ہیں۔ حکومت نے اگرچہ اس مسئلہ کو کنٹرول کرنے کےلئے بجلی سے چلنے والی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں متعارف کروا دی ہیں مگر وہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں لہٰذا تیل کے ”بحران “ کے پیش نظر حکومت کو آسان شرائط پر سستی گاڑیاں اور موٹر سائکلیں متعارف کروانی چاہئیں علاوہ ازیں سستی سائیکلیں بھی مہیا کرنے کا انتظام کرے۔ پوری دنیا میں ان کا رواج ہے چین ایسے ملک میں یہ عام استعمال کی جاتی ہیں اس سے صحت کے پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل بھی ختم ہو جاتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ عوامِ پاکستان کی رگوں سے خون کشید کیا جائے۔ اب انہیں بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ انہیں بخوبی علم ہے کہ جنگ کی وجہ سے ہونے والی تیل کی قلت وقیمت کا اثر ان پر نہیں پڑ سکتا اگر اہل اختیار کوئی متبادل راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں تو اور وہ راستہ واضح ہے مگر نہیں امریکا خفا ہو جاتا ہے ہمارے کرتا دھرتاو¿ں نے اب تک ا±سے ہی راضی رکھا ہے اس کے ساتھ عالمی مالیاتی اداروں کو‘ غریب عوام کو خوش رکھنے کی کبھی کوئی کوشش نہیں کی گئی اسی لئے وہ خوشحال ہو سکے ہیں نہ پ±ر سکون زندگی سے لطف اندوز ہو سکے ہیں انہیں ہر حکمران نے پریشانیوں کے سوا کچھ نہیں دیا یوں‘ یہاں پھول آرزو¿ں کے نہیں کھِل سکے ؟

ٹیگز: