Sun, September 20, 2026

بھارت کو بادام کھلاﺅ

بھارت کو بادام کھلاﺅ

بھارت میں برکس سربراہی اجلاس دو ہزار چھبیس سے پورے ایشیائی خطے کو توقعات تھیں مگر اجلاس میں کھانے پینے اور بیمار ہونے کی اطلاعات آتی رہیں جن سے خاصی مایوسی پھیلی ہے۔ نئی دہلی میں دو روزہ برکس اجلاس منعقد ہوا جس میں دنیا کی اہم ترین شخصیات چینی اور روسی صدر کے علاوہ رکن ممالک کے سربراہان شریک ہوئے۔ اس اجلاس کی تیاریاں اور پریس ریلیز جس قدر اہم تھیں وہیں خبروں اور ویڈیوز نے پورے اجلاس کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ 
برکس اجلاس سے عین ایک روز قبل بین الاقوامی میڈیا رائٹرز نے خبر بریک کی کہ بھارت میں ہونے والے برکس اجلاس میں برکس ممالک کی معیشتوں کی مضبوطی کے لئے نئی کرنسی کی تجویز اجلاس کے ایجنڈے پر موجود نہیں ہے۔
اجلاس سے قبل تمام شریک ممالک نے اپنے وزرا اعظم اور صدور کی آمد مقررہ وقت پر بھارت کو کنفرم کر دی تھی مگر چین کی جانب سے چینی صدر شی جن پنگ کے دفتر نے بھارتی حکام کو چینی صدر کی آمد کی کنفرمیشن نہیں کی۔ اس کے بعد ہر گھنٹے بعد نئی دہلی کی جانب سے بیجنگ کو درخواست کی گئی کہ زیڈ پروف سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں براہ مہربانی آپ ہمیں چینی صدر کی آمد کے حوالے سے کنفرم کریں۔ مگر سب بے سود۔ ذرائع کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ٹیلی فون پر چینی صدر شی جن پنگ سے درخواست کی جس کے دو گھنٹے بعد چین نے بھارت کو ہری جھنڈی دی۔
چین اور بھارت کے سال دوہزار بیس میں سرحدی علاقے لداغ میں وادی گلوان میں فوجی جھڑپوں کے سات سال بعد چینی صدر شی جن پنگ کا بھارت کا یہ پہلا دورہ تھا۔ وادی گلوان میں چینی افواج کے ساتھ تصادم میں بیس بھارتی فوجی جوان جانبحق ہوئے تھے اور چینی فوج نے کئی بھارتی فوجی اپنی تحویل میں لے لئے تھے۔ اس سرحدی کشیدگی پر بھارت نے کوئی دفاعی اور سفارتی اقدامات نہیں اٹھائے تھے اور بھارتی فوج نے لداغ میں چینی فوج سے چائے کی میز پر بات چیت سے اپنے فوجی جوان چھڑوائے تھے۔ 
ان سالوں میں چین اور بھارت کے تعلقات خاصے خراب رہے۔ تاہم برکس اجلاس میں بھارت کے پاس چین کی ناراضگی دور کرنے کا موقع تھا۔ مگر بھارت کو اس موقع سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ چینی صدر نے برکس اجلاس میں سرکاری سطح پر تو شرکت کی مگر وزیراعظم نریندرمودی کے برکس رکن ممالک سربراہان کے اعزاز میں عشائیے میں شریک نہیں ہوئے۔ جس سے یہ واضح ہو گیا کہ چین نے بھارت کے ساتھ تعلقات بحال کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
بس پھر یہاں پر بھارت کے گودی میڈیا کو ایکٹو کیا گیا اور بھارتی ٹی وی چینلز پر یہ خبریں نشرکی گئیں کہ چینی صدر اپنی طبیعت ناسازی کی وجہ سے عشائیے میں شریک نہیں ہوئے۔ 
سوشل میڈیا بھی کمبخت چیز ہے جو ہر خبر کے پرخچے اڑا کر رکھ دیتا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے چینی صدر کی ناراضگی کی وجہ عشائیے میں ویجیٹیرین فوڈ یعنی گوشت اور مرغم مسلم کا نہ ہونا بتایا۔ اور اس پر بھارت کا خوب مذاق بنایا گیا کہ چینی صدر کو گھاس پھوس پسند نہیں آئی۔ عشائیے کے مینیو پر بھارتی حکومت نے موقف اپنایا کہ تمام بین الاقوامی کانفرسز اور سیمیناز میں بھی ویجیٹیرین کھانا مہمانوں کو پیش کیا جاتا ہے۔
کھانا کھا چکے تو اگلے روز برکس اجلاس کی لائیو میڈیا کوریج میں بھارتی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول اور ترجمان وزارت خارجہ رندھیر جیسوال ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے پیچھے بیٹھ کر دبا دب ڈرائی فروٹ کھاتے نظر آئے۔ نہ جانے بھوک تھی یا ان حضرات کی شوگر ڈاو¿ن تھی یا پھر خشک میوہ جات پہلی دفعہ دیکھے تھے کہ لائیو نشریات کے دوران بھی دونوں کے ہاتھ رک نہیں سکے۔ ویسے یہ دونوں عہدے صحت کے لحاظ سے تگڑے ہیں اس لئے ممکن ہے بادام پستے کھانے کے شوقین ہیں اور شوق پورا کرنے کے لئے برکس موزوں جگہ تھی جہاں اور کچھ کرنے کو نہیں تھا۔
برکس اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ملاقات کی پریس ریلیزز مختلف تھیں۔ ایک ملاقات میں جن امور پر گفتگو ہوئی وہ دونوں ممالک نے مختلف رپورٹ کیں جس سے یہ تاثر ملا کہ چین کی بھارت کے ساتھ سرحدی امور پر کشیدگی برقرار ہے۔ 
برکس اجلاس سے واپسی پر جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا شدید بیمار پڑ گئے ہیں۔ طبیعت اتنی خراب ہے کہ صدر نے ڈاکٹرز کی ہدایت پر اپنی دفتری مصروفیات ترک کر دیں ہیں مکمل آرام اور ادویات دی جا رہی ہیں۔ اسکی وجہ بھارت میں فضائی آلودگی اور ناقص خوراک بتائی جا رہی ہے۔ بھارت میں آلودہ آب و ہوا، گندگی اور خوش خوراک کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ہی اجلاس میں بادام پستے رکھے گئے تھے جو اعلیٰ حکام کھا رہے تھے۔ اور میڈیا پر بھارت کے باداموں کی تشہیر کروا رہے تھے۔ اس سب میں یہ تو ذہن سے نکل ہی گیا کہ برکس اجلاس میں بھارت کے زیر قبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی وادی بیسران میں پہلگام کے مقام پر دہشت گردی کے حملے کی مذمتی قرار داد پیش کی گئی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

ٹیگز: