پچھلے چند دنوں سے لوگ مصنوعی ذہانت کے حوالہ سے اس قدر مختلف انداز میں بول رہے ہیں کہ سننے والا الجھ کر ہی رہ جائے۔ کوئی کہتا ہے رک جا، کوئی کہتا ہے دوڑتے رہو، کوئی اسے انسانیت کی بقا کا مسئلہ بتاتا ہے اور کوئی کاروباری چال۔ اس صورتحال میں ایک عام انسان تو چکرا کر رہ گیا ہے کہ کس بات پر یقین کرے اور کس پر نہیں۔ہر دلیل طاقتور ہے اور ہر تجزیہ مدلل۔ زندگی میں پہلے ہی پریشانیاں کم تھیں جو ایک اور سیاپا میدان میں آ گیا ہے۔
کوئی پرانی بات نہیں ماہ جولائی میں اوپن اے آئی کی ایک آزمائش کے دوران اے آئی ایجنٹ حفاظتی پابندیاں توڑ کر ہگنگ فیس کے نظام میں گھس گئے تھے۔ اگرچہ اس عمل میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا، مگر اس عمل نے خطرے کی گھنٹی تو بجا ہی دی تھی۔ پھر بارہ ستمبر کو اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی نے لکھا کہ کمپنیوں کو جان بوجھ کر اپنی رفتار کم کرنی چاہیے، کیونکہ یہ نظام ہماری سمجھ اور قابو سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اسی ہفتے ایک محقق جیکب کوکسن نے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ کمپنیاں ایسے نظاموں کی طرف جا رہی ہیں جو شاید قابو میں نہ رہیں۔
اموڈی کی دلیل سادہ ہے کہ رفتار کم ہو گی تو بھی ترقی تیز ہی لگے گی، بس ملنے والی مہلت کو سمجھ داری سے استعمال کرنا ہو گا۔ سیم آلٹمین نے اتفاق کیا کہ اس سلسلہ میں رفتار کو قدرے سست کیا جانا چاہیے اورحفاظت کے لیے مزید مضبوط نظام بنانا چاہیے۔ ایلون مسک نے بھی اس سوچ کی تائید کی ، اور ڈیمس ہاسابس نے سمت سے اتفاق کیا مگر تفصیلات پر رائے محفوظ رکھی ہے۔ مائیکروسافٹ اے آئی کے سربراہ مصطفیٰ سلیمان نے کہا ہے کہ اپنے سے زیادہ ذہین شے کو قابو میں رکھنا اب تک کے ہر چیلنج سے بڑا چیلنج ہے۔
اس معاملہ پرکچھ بڑے نام الگ کھڑے ہیں۔ مارک زکربرگ کہتے ہیں کہ ہر کمپنی خود اپنی رفتار طے کرے، اور جینسن ہوانگ نے بھی مشترکہ سست روی سے فاصلہ رکھا ہے۔ کاروباری حلقوں کی بنیادی فکر مقابلے کی ہے، کیونکہ اگر ایک کمپنی رک جائے اور باقی نہ رکیں تو بازار کا حصہ انہی کو مل جائے گا۔ اس قسم کی گفتگو میں بازار نے بھی فوری طور پر اپنا فیصلہ سنا بھی دیا ہے اور شئیر مارکیٹ میں اے آئی سے جڑی کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں اور سائبر سکیورٹی کمپنیوں کے شئیرز چڑھ گئے ہیں۔ مگر تجزیہ کاروںکا کہنا ہے کہ کسی بھی کمپنی نے سرمایہ کاری کم کی ہے اور نہ چپس کے آرڈر گھٹائے ہیں، مطلب کوئی واقعی رک نہیں رہا۔
سیاست دانوں کی سوچیںبھی الگ ہیں۔ صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ امریکہ چین سے پیچھے نہیں رہ سکتا کیونکہ جو اے آئی جیت گیا، وہی اصل فاتح ہو گا، اور انہوں نے خبردار کرنے والوں کو’منفی قوتیں‘ کہا ہے۔ سینیٹر برنی سینڈرز کا موقف الٹ ہے۔ وہ خطرے کی گھنٹی بجانے والا کہلانے کو سوتے رہ جانے والا کہلانے پر ترجیح دیتے ہیں اور سپر انٹیلیجنس پر پابندی کا بل لا رہے ہیں۔ واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک کا خیال ہے کہ ترقی کو جرم بنانا الٹا نقصان دہ ہو گا۔ چین کی طرف سے تین مختلف آوازیں آ رہی ہیں۔ وزارت خارجہ نے مخاصمت کو عالمی نظم کے لیے نقصان دہ کہا، سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے اموڈی کی تجویز کو ’سرد جنگ کا نسخہ‘ قرار دیا، اور پیپلز ڈیلی نے کہا کہ اے آئی کسی سپر پاور کی اجارہ داری نہیں اور خطرات سنبھالنے کے لیے امریکہ چین تعاون ہونا چاہیے۔ یعنی معاملہ صرف مخالفت کا نہیں، شرائط طے کرنے کا ہے۔
پاکستا ن کی مشیر برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے جولائی میں جنیوا میں کہا تھا کہ اے آئی کی حفاظت کی تعریف شفاف اور سب کو شامل کرنے والی ہونی چاہیے، اور محفوظ اے آئی کا مطلب یہ نہیں کہ چند لوگوں کے لیے حفاظت ہو اور باقی دنیا کے لیے وہ دھندلی رہے۔ ایک پاکستانی ٹیکنالوجی ویب سائٹ کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ سست رفتاری سے نئے فیچرز متعارف کروانے میں تاخیر ہو سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں خود کو ڈھالنے کی مہلت بھی ملے گی۔ اسی تجزیے میں یہ الجھن بھی ہے کہ پاکستان چین کی قیادت والے اے آئی تعاون ادارے کا رکن ہے جبکہ روزمرہ کام کے لیے امریکی اوزار استعمال کرتا ہے۔ تجزیہ نگار عماد اسلم لکھتے ہیں کہ قومی اے آئی پالیسی ابھی محض ایک دستاویز ہے اور بھارت، فلپائن اور ویتنام اپنی افرادی قوت نئے سرے سے تیار کر رہے ہیں۔روزنامہ ڈان میں آصف سعد کہتے ہیں کہ ادارے نئی ٹیکنالوجی اپنانے سے زیادہ سیکھنے کی صلاحیت بنائیں۔
ان سب کو ملا کر دیکھیں تو ایک بات مشترک ہے۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ اے آئی بے ضرر ہے۔ ٹرمپ اور زکربرگ جیسے ناقدین بھی خطرے سے انکار نہیں کرتے۔ اختلاف اس پر ہے کہ بریک کس کے ہاتھ میں ہو، اور اگر ایک فریق رک جائے تو باقیوں کو کیسے روکا جائے۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ بریک ایسے ہاتھ میں ہو جسے منافع کمانے کی فکر نہ ہو۔ آزاد انہ تجزیہ کرنے والوں کو کمپنیوں کے اندر تک رسائی ملے اور ان کی رپورٹیں عام کی جائیں۔ ہوائی جہاز حادثوں کی طرح اس قسم کے حادثوں کی اطلاع دینا بھی لازمی ہو، تاکہ ان کا سدباب کیا جا سکے۔ اے آئی میں ترقی اس لیے بھی نہیں رکنی چاہیے کیونکہ اس سے صحت، تعلیم اور زراعت جیسے شعبوں میں بے شمار فائدے حاصل کیے جا رہے ہیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی کے بھی رک جانے سے یہ دوڑ ختم نہیں ہوگی ہاں البتہ اس کے بے لگام ہاتھوں میں چلے جانے کا خدشہ ضرور ہے۔ لہذا ہونا تو یہ چاہیے کہ اگلا قدم تب اٹھایا جائے جب پچھلا جانچ پر پورا اترے، جیسے کوئی بھی دوا بازار میں آنے سے پہلے کئی مرحلوں سے گزرتی ہے۔
جن فیصلوں کا تعلق انسان کی جان یا آزادی سے ہو، وہاں آخری بٹن انسان کے پاس ہی رہناچاہے، اور اگر کوئی نقصان ہو جائے تو اس کی ذمہ داری کسی نہ کسی پر تو فکس ہونی ہی چاہیے۔
پاکستان کو کسی ایک کیمپ کا جھنڈا اٹھانے کے بجائے اپنے کارڈ مضبوط کرنے چاہییں۔ نوجوانوں کو اے آئی چلانا ہی نہیں بلکہ پرکھنا بھی سکھایا جانا چاہیے۔ سائبر سکیورٹی اور ڈیٹا کے قوانین ایسے ہوں کہ اگر کل کو کوئی بے قابو نظام ہمارے دفاعی نظام، حکومتی امور، زراعت کے شعبے بینکوں یا ہسپتالوں تک آن بھی پہنچے تو بھی ہمارے دروازے مضبوط ہوں۔
اس وقت ہم ایک ایسی گاڑی میں سوار ہیں جس کی رفتارمسلسل بڑھ رہی ہے۔ ڈرائیور بھی وہی ہیں جو انجن بنا رہے ہیں۔ اور جب انہی کے منہ سے یہ سنا جائے گا کہ بریک کی فکر کرو تو دو باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ ایک، خطرہ کاغذی نہیں اور دوسرہ کہ وعدے اور اعلانات کافی نہیں، انہیں قانون، آزاد نگرانی اور شفافیت کی شکل میں ڈھلنا چاہیے۔
یقینا تباہی ہمارا مقدر نہیں ہے، لیکن غفلت ہمیں وہاں ضرور پہنچا سکتی ہے۔ مقدر وہ ہوتا ہے جس پر ہمارا زور نہ چلے اور غفلت وہ ہے جس پر ہمارا زور چلتا ہے لہذا دنیا کے راہنماوں کو اب یقینی بنانا ہو گا کہ کہیں جانے انجانے ہم غفلت کا شکار نہ ہو جائیں۔