Thu, September 17, 2026

سینیٹ میں انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2025 منظور، اپوزیشن کا بھرپور احتجاج

سینیٹ میں انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2025 منظور، اپوزیشن کا بھرپور احتجاج

اسلام آباد: سینیٹ نے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2025 منظور کر لیا، مگر اپوزیشن نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اسے آئین اور بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیا اور ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔

اجلاس کی صدارت ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال ناصر نے کی۔ وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بل پیش کیا، جس پر اپوزیشن نے اعتراضات اٹھائے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بل میں ترامیم تجویز کیں اور کہا کہ اسے اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھیجا جائے، مگر ان کی تجاویز مسترد کر دی گئیں، جس پر اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے ایوان چھوڑ دیا۔

پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ قانون انصاف کے اصولوں اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، اور اس کا غلط استعمال ہو سکتا ہے، خاص طور پر سیاسی مخالفین کے خلاف۔

دوسری طرف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، اور حکومت کو نوجوانوں کو محفوظ بنانے کے لیے سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون میں ملزم کو وکیل رکھنے کا حق حاصل ہوگا اور حکومتیں ضرورت پڑنے پر فوج طلب کر سکیں گی۔

پیپلز پارٹی کی شیری رحمان اور ایم کیو ایم کے فیصل سبزواری نے بھی دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کی حمایت کی۔بحث کے بعد ایوان نے یہ بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔

ٹیگز: