اسلام آباد: سینیٹ آف پاکستان نے اپوزیشن کے شدید احتجاج اور شور شرابے کے درمیان ’نیشنل احتساب بیورو (نیب) ترمیمی بل 2026‘ کی منظوری دے دی ہے۔ کارروائی کے دوران ایوان میں اس وقت تلخی پیدا ہوئی جب اپوزیشن نے بل کو متعلقہ قائمہ کمیٹی (Standing Committee) کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا، جسے مسترد کر دیا گیا۔
بل کی پیشی کے دوران اپوزیشن ارکان نے ڈائس کا گھیراؤ کیا اور نعرے بازی کی۔ اپوزیشن کا موقف تھا کہ اتنے اہم قانون کو عجلت میں منظور کرنے کے بجائے اس پر کمیٹی میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔ تاہم، حکومتی ارکان کی اکثریت نے بل کے حق میں ووٹ دے کر اسے منظور کروا لیا۔
نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ایوان میں دو ٹوک موقف اپنایا۔ ان کے خطاب کے اہم نکات یہ تھے انہوں نے کہا کہ جب بل ایوان سے منظور ہو چکا ہے تو اسے دوبارہ قائمہ کمیٹی کو بھیجنے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔ اسحاق ڈار نے پی ٹی آئی دور پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ آج شور مچانے والے وہ لوگ ہیں جو اپنے دورِ اقتدار میں چند منٹوں میں درجنوں بل منظور کروا لیتے تھے، تب انہیں پارلیمانی روایات یاد نہیں آتی تھیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ نیب ترمیمی بل حکومت کی جانب سے نہیں بلکہ ایک ’پرائیویٹ ممبر بل‘ کے طور پر سینیٹر عبدالقادر نے پیش کیا ہے۔سینیٹر عبدالقادر کی جانب سے پیش کردہ اس نجی بل کا مقصد احتساب کے نظام میں مخصوص تبدیلیاں لانا ہے۔ سینیٹ سے منظوری کے بعد اب یہ بل اگلے قانونی مراحل کے لیے قومی اسمبلی کو ارسال کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بل کی منظوری سے نیب کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں، تاہم اپوزیشن اس عمل کو احتساب سے بچنے کی کوشش قرار دے رہی ہے۔