ہسپتال کسی بھی معاشرے میں زندگی، امید اور صحت کا مرکز ہوتے ہیں۔ یہاں آنے والا ہر شخص اپنے ساتھ ایک امید لے کر آتا ہے کہ اسے بیماری سے نجات، تکلیف سے آرام اور زندگی کی طرف واپسی کا راستہ ملے گا۔ لیکن ہسپتال کے ان گوشوں میں جہاں زندگی انتہائی نازک حالت میں سانس لے رہی ہو، وہاں علاج کے ساتھ تحفظ کی ذمہ داری بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ لاہور جنرل ہسپتال کی بچہ نرسری بھی ایسا ہی ایک حساس مقام ہے جہاں ننھے نومولود اپنی زندگی کے ابتدائی اور انتہائی اہم دن طبی نگہداشت میں گزارتے ہیں۔ کسی کی سانس وینٹی لیٹر کے سہارے قائم ہے، کوئی آکسیجن سپورٹ پر ہے اور کسی کی ننھی سی دھڑکن مانیٹر پر امید کا پیغام دے رہی ہے۔ ایسے ماحول میں ہر ممکن خطرے سے تحفظ یقینی بنانا محض انتظامی ضرورت نہیں بلکہ انسانی، اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔
نرسری کیئر ہسپتال میں علاج کا معیار صرف ادویات، جدید مشینوں، آپریشن تھیٹرز یا تشخیصی سہولیات سے نہیں پرکھا جاتا بلکہ مریضوں کی حفاظت، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری، انفیکشن سے بچا¶ اور محفوظ ماحول کی فراہمی بھی طبی خدمات کا بنیادی حصہ ہیں۔ خصوصاً نومولود بچے اپنی حفاظت کے لیے خود کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے، اس لیے ان کا تحفظ طبی عملے کی مہارت، انتظامیہ کی منصوبہ بندی اور بروقت حفاظتی اقدامات سے وابستہ ہوتا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے صحت عامہ کے وژن کے تحت عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ہسپتالوں میں محفوظ ماحول یقینی بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ جنرل ہسپتال کی بچہ نرسری میں کیے گئے اقدامات اسی ترجیح کی عملی تصویر ہیں۔ 47 بستروں پر مشتمل بچہ نرسری میں 13 وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں جہاں تشویش ناک حالت میں آنے والے نومولود بچوں کو مسلسل طبی نگرانی اور ضروری معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ ساتھ ہی انفیکشن سے بچائو کے لیے ہیلتھ کیئر کمیشن کے ایس او پیز پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔
حکومت پنجاب کی ہدایات پر بچہ نرسری میں فائر سیفٹی کے فول پروف انتظامات مکمل کیے گئے ہیں۔ ایم ایس پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین کی نگرانی میں ہنگامی اخراج کے لیے جدید فائر سیفٹی ایگزٹ ڈور نصب کیا گیا ہے جبکہ سموک الارمز، آکسیجن سینسرز، فائر بالز، فائر بلینکیٹس اور ماسکس سمیت ضروری حفاظتی سامان بھی دستیاب ہے۔ یہ انتظامات اس لیے اہم ہیں کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں خطرے کی بروقت نشاندہی ہو، عملہ فوری متحرک ہو اور نومولود بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔نومولود بچوں کی منتقلی عام مریضوں کے مقابلے میں انتہائی حساس عمل ہے۔ بعض بچے وینٹی لیٹر یا آکسیجن سپورٹ کے ساتھ زیر علاج ہوتے ہیں، اس لیے ان کی منتقلی کے دوران سانس، جسمانی درجہ حرارت، طبی آلات اور مسلسل نگرانی کو برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک محفوظ فائر ایگزٹ ڈور یا الارم صرف ایک تنصیب نہیں بلکہ ایسے نظام کا حصہ ہے جس میں عملے کی تربیت، ذمہ داریوں کی تقسیم اور ہنگامی صورتحال میں فوری رابطہ کاری بھی شامل ہوتی ہے۔
فائر سیفٹی کے نظام میں فائر ڈرلز اور ہنگامی مشقوں کی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ ایسی مشقوں کے ذریعے عملے کو یہ تربیت ملتی ہے کہ خطرے کی صورت میں کس طرح فوری کارروائی کرنی ہے، حفاظتی آلات کیسے استعمال کرنے ہیں اور نازک حالت میں موجود بچوں کو کس ترتیب اور احتیاط سے محفوظ مقام تک منتقل کرنا ہے۔ کسی بھی حفاظتی نظام کی اصل طاقت صرف آلات نہیں بلکہ وہ تربیت یافتہ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف ہوتے ہیں جو مشکل وقت میں اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں۔اسی طرح بائیومیڈیکل اور الیکٹریکل نظام کی نگرانی بھی ناگزیر ہے۔ وینٹی لیٹرز، مانیٹرز، آکسیجن سپورٹ سسٹم اور دیگر طبی آلات مسلسل استعمال میں رہتے ہیں۔ ان کی بروقت جانچ اور مناسب دیکھ بھال کسی بھی ممکنہ خرابی کے خطرے کو کم کرتی ہے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی بھی محفوظ اور منظم ماحول برقرار رکھنے میں معاون ہے۔
بچہ نرسری میں فائر سیفٹی کے ساتھ انفیکشن کنٹرول بھی بنیادی ترجیح ہے۔ نومولود بچوں کا مدافعتی نظام مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوتا، اس لیے صفائی، ہاتھوں کی حفظانِ صحت، جراثیم سے پاک ماحول، حفاظتی لباس اور غیر ضروری آمدورفت کی روک تھام خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ ایک محفوظ نرسری وہی ہے جہاں آگ، انفیکشن اور دیگر ممکنہ خطرات سے بچا¶ کے لیے مربوط اقدامات موجود ہوں۔والدین جب اپنے نومولود بچے کو ہسپتال کے سپرد کرتے ہیں تو وہ صرف علاج کی امید نہیں رکھتے بلکہ یہ اعتماد بھی چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس کی سانس کی نگرانی ہو، بروقت علاج ملے، انفیکشن سے تحفظ حاصل ہو اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اقدامات کیے جائیں۔ اس اعتماد کو مضبوط بنانا بھی طبی ادارے کی ذمہ داری ہے۔
درحقیقت حفاظتی نظام کی اصل کامیابی حادثہ پیش آنے کے بعد کارروائی میں نہیں بلکہ خطرے کو پہلے محسوس کرکے اس کے امکانات کم کرنے میں ہے۔ فائر الارمز کی فعالیت، محفوظ اخراج کا راستہ، آکسیجن کی نگرانی، برقی و طبی آلات کی جانچ، حفاظتی سامان کی دستیابی اور عملے کی تربیت وہ اقدامات ہیں جو کسی بڑے نقصان سے پہلے حفاظتی حصار قائم کرتے ہیں۔ جنرل ہسپتال کی بچہ نرسری میں کیے گئے یہ انتظامات محض چند حفاظتی آلات کی تنصیب نہیں بلکہ ایک ایسے عزم کی علامت ہیں جس کے مرکز میں ننھی اور بے زبان زندگیوں کا تحفظ ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے صحت عامہ کے وژن اور ہسپتال انتظامیہ کی حفاظتی ترجیحات اسی سوچ کی ترجمانی کرتی ہیں کہ علاج، نگہداشت اور تحفظ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔