Thu, September 17, 2026

توشہ خانہ ٹو کیس کے 2اہم گواہان کے بیانات کے نکات سامنے آگئے

توشہ خانہ ٹو کیس کے 2اہم گواہان کے بیانات کے نکات سامنے آگئے

اسلام آباد: توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف تحقیقات میں دو اہم گواہوں کے بیانات سامنے آ گئے ہیں جنہوں نے جیولری سیٹ کی قیمت کم کر کے فائدہ اٹھانے کا پورا معاملہ کھول کر رکھ دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گواہان میں عمران خان کے سابق پرسنل سیکرٹری انعام اللہ شاہ اور پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی شامل ہیں، جنہوں نے عدالت اور نیب کے سامنے بیانات ریکارڈ کرا دیے ہیں۔

پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی نے بتایا کہ انہوں نے بلغاری جیولری سیٹ کی قیمت جان بوجھ کر کم لگائی کیونکہ ان پر دباؤ ڈالا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا "انعام اللہ شاہ نے مجھ سے کہا کہ سیٹ کی ویلیو صرف 50 لاکھ روپے لگاؤ، ورنہ بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔ میں نے خوف کی وجہ سے ایسا کیا۔"صہیب نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے بعد میں نیب کے سامنے پیش ہو کر معافی مانگی اور تمام شواہد نیب کو دے دیے۔

دوسرے گواہ انعام اللہ شاہ نے بھی اعتراف کیا کہ انہوں نے اپریزر سے قیمت کم کروائی۔ ساتھ ہی انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ پی ٹی آئی اور سرکاری نوکری دونوں سے تنخواہیں لیتے رہے، اور بشریٰ بی بی کی ناراضی پر انہیں نوکری سے نکال دیا گیا۔

نیب حکام کے مطابق یہ جیولری سیٹ سعودی ولی عہد کی طرف سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تحفے میں ملی تھی، جس کی اصل قیمت ساڑھے 7 کروڑ روپے تھی، لیکن اسے کم کروا کر صرف 59 لاکھ روپے ظاہر کیا گیا، اور اس میں سے بھی 29 لاکھ روپے ہی سرکاری خزانے میں جمع کروائے گئے۔

نیب کے مطابق یہ جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع کرانے کے بجائے پرائیویٹ ویلیوایشن کے ذریعے اپنے پاس رکھ لی گئی، جو قانون کے خلاف ہے۔

ٹیگز: