Wed, September 16, 2026

توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا

توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا

اسلام آباد:توشہ خانہ ٹو کیس میں عدالت نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مختلف الزامات میں مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق دونوں ملزمان کو توشہ خانہ کے سرکاری تحائف سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی پر سخت سزا دی گئی۔

عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 409 کے تحت 7، 7 سال قید کی سزا سنائی، جبکہ دیگر الزامات میں 10، 10 سال قید بھی دی گئی۔ اس طرح مجموعی سزا 17 سال بنتی ہے۔ عدالت کی جانب سے دونوں پر ایک، ایک کروڑ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

یہ مقدمہ توشہ خانہ میں جمع کروائے جانے والے قیمتی سرکاری تحائف کے غلط استعمال اور قواعد کے برخلاف فوائد حاصل کرنے کے الزامات پر مبنی تھا۔ یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے اس کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 13 جولائی 2024 کو گرفتار کیا تھا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ نے اپنے مقدمے کو مضبوط اور قابل اعتماد شواہد کے ذریعے ثابت کیا، جس کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی، عمران خان، اور بشریٰ بی بی کو مجرمانہ خیانت کے الزامات میں مجرم قرار دیا گیا۔ دونوں کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 34 اور 409 کے تحت سزا سنائی گئی، اور انہیں کرپشن کے مختلف دفعات کے تحت بھی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔اس فیصلے کی بنیاد پر عدالت نے استغاثہ کے شواہد کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو مجرمانہ اقدامات کا ذمہ دار قرار دیا اور انہیں سزا دی۔

ٹیگز: