Wed, September 16, 2026

میں ایک نکما اْاستاد تھا

میں ایک نکما اْاستاد تھا

میرے والدین مجھے ٹیچر بنانا چاہتے تھے میں اللہ کا شکر گزار ہوں اللہ نے میرے والدین کی خواہش کے مطابق مجھے ٹیچر ہی بنایا، میرے ان پڑھ والد محترم یہ بات ہمیشہ بہت زور دے کر کہتے تھے’’اپنی عزت آبرو کو ہر حال میں مقدم رکھنا‘‘ وہ فرماتے تھے’’عزت کون سی تمہاری اپنی بنائی ہوئی ہے کہ ہر کوئی اسے اْچھالتا یا برباد کرتا پھرے ، یا تم خود اسے برباد کرنے پر تْل جاؤ، یہ عزت اللہ کی عطا کردہ ہے ، اس عزت کو تم مقدم نہیں رکھو گے اس کی تکریم نہیں کرو گے تو یہ کفران نعمت ہے‘‘، سو اپنی طرف سے پوری کوشش کی عزت آبرو ہر حال میں مقدم رہے، ٹیچر بھی میں اسی لئے بنا کہ اْس وقت سرکاری ملازمت میں یہ واحد شعبہ تھا جس کی معاشرے میں کچھ نہ کچھ عزت تھی ، پاکستان میں عزت کو بحال رکھنا انتہائی مشکل ہے، عزت بحال رکھنے کی اب کوئی کوشش بھی نہیں کرتا ، یہاں ہر کوئی شہرت چاہتا ہے عزت نہیں چاہتا ،شہرت چاہے اپنے کپڑے اْتار کے ملے یا کسی کے کپڑے اْتار کے ملے، بس ملنی چاہئے، جیسے حرام حلال میں اب کوئی تمیز نہیں کرتا، مال بس آنا چاہئے، حرام کا ہو یا حلال کا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، خصوصا ًہمارے اکثر حکمرانوں اور اصلی حکمرانوں یعنی ہمارے بیشمار افسروں کا دین ایمان اب صرف پیسہ ہے،کوئی کام کرنے کا اْن کا موڈ ہی نہیں بنتا جب تک اْنہیں کوئی نوٹ نہ دکھادے ، میں اکثر سوچتا ہوں یہ گانا شاعر نے شاید اپنی بیوروکریسی کے کچھ بد کرداروں کے لیے ہی لکھا تھا’’مینوں نوٹ ویکھا میرا موڈ بنے‘‘ ، کچھ افسروں کا کردار اب سڑکوں پر کھڑے اْن کھسروں یا عورتوں کی طرح ہے جنہیں نوٹ ویکھا کر اْن کے ساتھ کچھ بھی کیا جا سکتا ہے ، خیر میں یہ عرض کر رہا تھا والدین کی خواہش کے مطابق میں ٹیچر بنا ، البتہ کبھی کبھی دل میں سی ایس ایس کرنے کی خواہش ضرور جاگتی تھی ، مگر اتنے ذرائع نہیں تھے کسی اکیڈمی میں داخلہ لے لیتا نہ میں اتنا لائق تھا بغیر کسی اکیڈمی کے سی ایس ایس کر لیتا ، میرے گورنمنٹ کالج لاہور جسے اب جی سی یو کہہ کر پکارا یا بگاڑا جاتا ہے کے کچھ قریبی دوستوں اور کلاس فیلوز نے جب سی ایس ایس کر لیا ایک روز میں نے اپنی ماں سے بڑے دکھ بھرے لہجے میں کہا ’’ماں جی میرے بہت سے دوستوں نے سی ایس ایس کر لیا ہے، آج رزلٹ آیا ہے اشعر حمید بھی اے ایس پی بن گیا ھے‘‘ ، پہلے تو اْنہوں نے اشعر حمید کو دعائیں دیں پھر میرا سر اپنی گود میں رکھ کر فرمانے لگی’’پْتر فکر نہ کرو یہ جو تمہارے دوستوں نے سی ایس ایس کیاہے ، اللہ تمہیں اتنی عزت دے گا یہ تمہارے پاس اپنے کام لے کر آیا کریں گے‘‘ ، اب کوئی افسر دوست جب میرے پاس اپنے کسی کام کے سلسلے میں آتا ہے اور اللہ مجھے یہ توفیق بخشتا ہے میں اْس کے کام آؤں مجھے اپنی ماں یاد آ جاتی ہے اور اْس کے یہ الفاظ یاد آ جاتے ہیں’’پْتر فکر نہ کر اک دن تیرے ایہہ افسر دوست تیرے کول اپنے کام لے کے آیا کرن گے‘‘ بطور ایک نکمے استاد کے میں نے کچھ نئی روایتیں متعارف کروائیں ، میری پہلی پوسٹنگ 20 جنوری 1993ء کو اْس وقت کے گورنمنٹ ایف سی کالج لاہور میں ہوئی ، تب ڈاکٹر عابد قریشی وہاں پرنسپل تھے اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ، بہت خوش لباس خوش گفتار انسان تھے ، وہ مجھے میری بطور لیکچرار ایف سی کالج میں تقرری سے پہلے ہی جانتے تھے اور محبت کرتے تھے ، پہلے روز اْنہوں نے فرمایا’’میں آپ کو خود کلاس روم میں چھوڑ کر آؤں گا‘‘ ، مجھ سے پہلے میرے محترم واصف ناگی جو معروف صحافی ہیں وہاں بطور لیکچرار فرائض انجام دیتے تھے ، تب جرنلزم کے دو سیکشنوں کو ملا کر ایک ہی سیکشن بنا دیا گیا تھا ، جس میں ستر سے زائد طالب علم تھے ، طلبہ کی زیادہ تعداد کی وجہ سے کلاس ایف سی کالج کے سب سے بڑے کلاس روم پی 10 میں ہوتی تھی ، جو کیمسٹری بلاک میں تھا ، میں نے اپنے پرنسپل ڈاکٹر عابد قریشی صاحب سے کہا ’’آپ کیوں زحمت کریں گے اور مجھے خود کلاس روم میں چھوڑ کے آئیں گے ؟‘‘ ، وہ فرمانے لگے’’اس لئے کہ تم ابھی فریش ماسٹر کر کے آئے ہو اور ابھی تم خود ایک سٹوڈنٹ لگتے ہو ، ایف سی کالج کے بچے بڑے تیز اور شرارتی ہیں کہیں یہ نہ ہو کلاس روم میں تم کسی مشکل کا شکار ہو جاؤ‘‘ ، میں نے عرض کیا ’’اگر اپ صرف اس خدشے کے تحت خود چل کر میرے ساتھ کلاس روم میں جانا چاہتے ہیں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں ایسا نہیں ہوگا‘‘ ، اور ایسے ہی ہوا ، میں اْن کے بغیر کلاس روم میں گیا اور اللہ نے جو ایک رعب دار شخصیت مجھے بخشی تھی اْس کی وجہ سے پہلے ہی روز ستر سے زائد طالب علموں کو کنٹرول کر لیا ، میں نے بچوں سے کہا ’’میں جب کلاس روم میں داخل ہوں گا روایتی انداز میں کوئی اپنی سیٹ سے نہیں اْٹھے گا بس میں السلام علیکم کہوں گا جواب میں آپ وعلیکم السلام کہہ دیجئے گا‘‘ ، دوسری بات میں نے یہ کہی ’’کسی بچے کا گریبان کھلا نہیں ہوگا ،کوئی طالب علم کلاس میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر نہیں بیٹھے گا‘‘ ، میں خود بھی کلاس روم میں داخل ہونے سے پہلے چیک کرتا تھا میرا گریبان کہیں کھلا تو نہیں ہے ، تیسری عرض میں نے یہ کی ’’دوران لیکچر ہر طالب علم میری طرف متوجہ رہے گا ، لیکچر پورے غور سے سنے گا اس دوران اگر کوئی سوال کسی کے دل و دماغ میں پیدا ہو وہ اْسے نوٹ کر لے گا ، بعد میں اس کے ہر سوال کا جواب دینے کا میں پابند ہوں گا‘‘ ، بطور ایک نکمے استاد اپنے فرائض کی ادائیگی کے آخری روز تک میں نے کوشش کی میں کلاس روم میں بروقت داخل ہوں اور ایک سیکنڈ سے پہلے کلاس نہ چھوڑوں ،یہ پابندی میں نے اپنے سٹوڈنٹس پر عائد نہیں کی تھی ، وہ کلاس ختم ہونے سے ایک منٹ پہلے تک کلاس روم میں اگر آ جاتے میں اْنہیں نہیں روکتا تھا ، البتہ میں نے یہ پابندی عائد کر رکھی تھی کلاس روم میں داخل ہونے سے پہلے روایتی انداز میں کوئی مجھ سے اجازت نہیں لے گا ، بس خاموشی سے آ کر جہاں جگہ ملے گی بیٹھ جائے گا ، کیونکہ جب کلاس روم میں داخل ہونے کے لیے بار بار طالب علم اجازت لیتے تو میرے لیکچر میں خلل پڑتا تھا ، اس دوران سٹوڈنٹس کی توجہ بھی کلاس روم میں داخل ہونے والے اپنے ساتھی طالب علموں کی طرف چلی جاتی تھی ، میں نے اپنے بچوں سے کہتا تھا ’’مجھے ٹیچر مت سمجھیں ،ہم سب طالب علم ہیں ، میں بس آپ سے ذرا سینئر طالب علم ہوں ، ہم سب ایک دوسرے کو سکھائیں گے‘‘ ، میں اپنے بچوں کو پڑھانے کے بجائے سکھاتا تھا ، جس ٹاپک پر میں نے بات کرنی ہوتی تھی یا لیکچر دینا ہوتا تھا وہ میں اپنے سٹوڈنٹس کو ایک روز پہلے ہی بتا دیتا تھا، اْن سے گزارش کرتا تھا ’’کل آپ اس کی تیاری کر کے آئیں ، میں بھی تیاری کر کے آؤں گا، اگلے روز ہم کلاس روم میں اپنی اپنی تیاری کے مطابق اْس ٹاپک کو زیر بحث لاتے کلاس روم میں ڈیبیٹ کا ایک ماحول قائم ہو جاتا ، پھر وہ ٹاپک سٹوڈنٹس کو کبھی نہیں بھولتا تھا جبکہ اْس دور کے بہت سے اْستاد اور آج کے بہت سے لائک فائق اْستاد بھی اپنے سٹوڈنٹس کو نوٹس لکھ کر دے دیتے ہیں یا اْن سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ نوٹس لے لیں اور ان کی فوٹو کاپیاں کروا لیں ، مجھے یہ طریقہ کبھی پسند نہیں رہا ۔      (جاری ہے )

ٹیگز: