نیویارک: خالصتان تحریک کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ چھتیس سنگھ پورہ میں 35 سکھوں کا قتل ایک منظم فالس فلیگ آپریشن تھا، جسے بھارتی فوج نے بی جے پی حکومت کے احکامات پر انجام دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ 20 مارچ 2000 کو امریکی صدر بل کلنٹن بھارت کے دورے پر پیش آیا تھا اور اسی دورے کے دوران سکھ آبادی پر حملہ کر کے پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔
گرپتونت سنگھ پنوں کے مطابق بھارتی فوج کے کیپٹن راٹھور نے نیویارک میں ان سے ملاقاتوں کے دوران تسلیم کیا کہ وہ فائرنگ سکواڈ کا حصہ تھا جسے سکھوں کے قتل کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ راٹھور کے انکشافات کے مطابق فوجی دستے نے گاؤں میں داخل ہو کر مقامی سکھوں کو فائرنگ کر کے شہید کیا، اور بعد ازاں "جے ہند" کے نعرے لگا کر حملے کو دہشتگردی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔
خالصتان رہنما نے بتایا کہ بھارتی حکومت نے بعد میں ثبوت مٹانے کے لیے فائرنگ سکواڈ کے اہلکاروں کو ایک ایک کر کے قتل کروا دیا، اور واقعے کی سچائی کو دبانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ 2006 میں بھارتی سی بی آئی نے بھی تسلیم کیا کہ سانحے کے بعد جن افراد کو دہشتگرد قرار دے کر مارا گیا، وہ بے گناہ مقامی شہری تھے۔
گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ آج بھی یہ سوال باقی ہے کہ سکھوں کے اس قتل عام کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ اور عالمی برادری کب تک خاموش تماشائی بنی رہے گی؟