جو لوگ دکھوں سے گھبرا جاتے ہیں وہ ہمیشہ کے لئے آسائشوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔اس وقت ہمیں جن حالات کا سامنا ہے وہ بڑے تلخ ہیں کہ آئے روز ٹیکسوں کی بھر مار ہو رہی ہے قومی اخراجات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ جس کے لئے بھاری رقوم درکار ہیں جو پیداواری ذرائع سے نہیں پوری ہو رہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ توانائی کا بحران ہے دوسرے آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے کاروبار روز بروز بڑھنے کے بجائے سمٹ رہے ہیں کیونکہ لوگوں میں جو قوت خرید ہونی چاہیے تھی وہ بہت کم ہو چکی ہے۔روزگار کے ذرائع وافر تعداد میں نہیں صنعتی ترقی سست پڑ گئی ہے عارضی ذرائع پیداوار بھی اس خلا کو پ±ر نہیں کر پا رہے۔ اگرچہ حکومت اپنے تئیں بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ عوام پر کسی قسم کا بوجھ نہ پڑے وہ چھوٹے چھوٹے ریلیف دے کر اجتماعی بے چینی پر قابو پانا چاہتی ہے مگر مسائل اس قدر زیادہ اور گمبھیر ہو چکے ہیں کہ جن کو ختم کرنے کے لئے ایک انقلاب کی ضرورت ہے۔ اب کوئی مانے یا نہ مانے کہ ملک میں آبادی کے تناسب سے نہ تو صنعتیں لگائی گئی ہیں نہ ہی طویل منصوبہ بندی کی گئی ہے یہ موجودہ حکومت ہی نہیں ہر نئی حکومت نے سطحی اور وقتی بندوبست کے تحت ہی ملکی نظم و نسق چلایا مقصد یہی ہوتا کہ عوام کو چند سہولتیں دے کر خوش کر دیا جائے اور ان سے کیے گئے وعدے پورے کر دئیے جائیں مگر یہ اقدامات دیرپا نہ ہونے کی بنا پر جلد ہی ختم ہو جاتے اور مزید مسائل کو جنم دیتے۔اب صورت حال یہ ہے کہ ایک شعبہئ زندگی کو بہتر کیا جاتا ہے تو دوسرا بگڑ جاتا ہے یعنی کچھ لوگ سکون محسوس کرتے ہیں تو کچھ نہیں۔یوں عرصہ اقتدار آگے بڑھ رہا ہے۔ جب تک ٹھوس بنیادوں پر معاشی اصلاحات نہیں ہوتیں عوام کی اجتماعی معاشی حالت بھی بہتر نہیں ہو سکتی مگر مسلہ یہ ہے کہ خزانہ خالی ہے جسے حالات سازگار نہ ہونے سے بھرا نہیں جا سکا لہذا ملکی معاملات چلانے کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ
عوام کی خدمات حاصل کی جائیں اس حوالے سے طرح طرح کے محصولات متعارف کروائے جارہے ہیں جو پہلے سے موجود ہیں ان میں اضافہ کیا جارہا ہے یہ نہیں خیال کیا جارہا کہ انہیں ادا کرنے کی لوگوں میں سکت بھی ہے یا نہیں۔آنکھیں بند کرکے شہ دماغ حکومت سے احکامات جاری کروا رہے ہیں یہ شہ دماغ (بیورو کریسی) عوام کو کمتر بیوقوف اور جاہل سمجھتے ہیں لہذا انہیں عوام سے کوئی ہمدردی نہیں ہوتی۔ کسی بھی حکومت کو غیر مقبول بنانے میں ان کا تھوڑا یا زیادہ کردار ضرور ہوتا ہے لہذا اہل اقتدار و اختیار کو چاہیے کہ وہ سوشل سائنس کے تناظر میں عوامی فیصلے کریں کیونکہ ان کا براہ راست تعلق عوام سے ہوتا ہے وہ ان کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں یا نہیں بھی ہوتے تب بھی وہ ان کے ترجمان وحکمران ہوتے ہیں لہذا یہ جو سرکاری فیسوں میں دھڑا دھڑ اصافہ کیا جا رہا ہے جائز نہیں . جن لوگوں کے پاس دولت ڈھیروں ہے انہیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر جو بہ مشکل اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں وہ تو بے چارے پریشان ہو گئے ہیں ادھار بھی انہیں آسانی سے کوئی نہیں دیتا لہذا عوام کی خدمات حاصل کرنے سے بہتر ہے کہ حکومت امیروں کو زحمت دے ان کے پاس جو پیسا ہے اس میں غریب عوام کا بھی حصہ ہے۔ بہت سے امیر تو جس طریقے سے امارت کے چبوترے پر جا بیٹھتے ہیں اس کے بارے میں جاننا آسان ہے مشکل بالکل نہیں۔پھر حکمران طبقوں کابھی فرض بنتا ہے کہ وہ ان کٹھن حالات میں اپنی تجوریوں کے منہ کھول دیں۔باہر جتنا بھی ان کا سرمایہ پڑا ہے اس کا چوتھائی حصہ بھی یہاں لے آئیں تو غربت ختم ہو سکتی ہے آئی ایم ایف کا قرضہ واپس لوٹایا جا سکتا ہے مگر ایسا کون کرے؟۔
یہ بھی تسلیم کہ اگر محصولات میں اضافہ کیا جا رہاہے تو کچھ ریلیف بھی دئیے جا رہے ہیں۔مثال کے طور سے پنجاب حکومت نے تیل مہنگا ہونے پر سرکاری آمد و رفت کے ذرائع کا استعمال مفت کر دیا ہے۔ جتنا بھی مالی نقصان ہو رہا ہے اسے وہ خود برداشت کر رہی ہے مگر یہ مستقل تو نہیں جب ایران اور امریکا کے مابین کوئی امن معاہدہ طے پا جائے گا تو پھر پہلے والی پوزیشن بحال ہو جائے گی نہیں بھی کوئی معاہدہ ہوتا تو بھی یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا کیونکہ خزانہ اس کا بوجھ برداشت نہیں کر سکے گا۔ بہرحال عوام کا برا حال ہے وہ بہت پریشان ہیں ان گرمیوں میں تو اور بھی پریشان ہوں گے کیونکہ ان کو بجلی و گیس کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ فروری سے ادا کرنا پڑے گا ۔ اس کا جواز یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ ایل این جی نہیں جتنی ہے وہ ناکافی ہے اس سے بجلی بنانے والے پلانٹس ضرورت پوری نہیں کر سکتے جبکہ حکمران تھوڑی سی بھی ہمت دکھائیں تو گیس اور تیل ایران روس سے لے سکتے ہیں امریکا ناراض ہوتا ہے تو ہو‘ ویسے بھی وہ ہم سے کب خوش ہوا اگر خوش ہوا ہوتا تو ہمیں یہ دن نہ دیکھنے پڑتے لہذا یہ جو امریکا کو راضی رکھنے کی سوچ ہے اسے تبدیل کیا جائے۔ اب تو وہ بڑی عالمی طاقت بھی نہیں رہا اس خطے میں ہی نہیں پوری دنیا میں چین بڑی طاقت بن کر ابھر رہا ہے ایران نے اس کا سارا غرور مٹی میں ملا دیا ہے۔یورپ اس کے ساتھ کھڑا ہونے سے انکاری ہے لہذا علاقائی سیاست اور دوستی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہم غیر ملکی اور عالمی مالیاتی اداروں کے قرض سے نجات پا سکیں اور پھر ہمیں چھوٹے چھوٹے محصولات کی وصولی کی ضرورت نہ پڑے کہ جس نے قومی جذبے کو سرد کر دیا ہے اور جب ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو کوئی بھی ملک تعمیر وترقی کے عمل سے کوسوں دور ہو جاتا ہے اس کی معیشت کمزور ہو جاتی ہے اور پھر عوام کی حالت خراب سے خراب تر ہوتی جاتی ہے۔ حکومت یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ غربت کی لکیر کے نیچے جا چکے ہیں ان کو محصولات کی ادائی پر مجبور کرتی ہے تو انہیں یہ بات پسند نہیں آتی اور وہ احساس محرومی و بیگانگی میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس سے حکومت اور عوام کے مابین فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔ یہ منظر بڑا تکلیف دے ہوتا ہے۔