روس و یوکرین میں جاری جنگ ،مئی کی پاک بھارت فضائی جھڑپوں اور جون کے بارہ روزہ ایران اور اسرائیلی ٹاکرے نے دفاعی محاذوں کے معیاربدل دیئے ہےں سفارتی پیش رفت کے ساتھ نہ صرف ابلاغی اہمیت کوناگزیرثابت کیا ہے بلکہ ماضی کی نسبت جنگی طیارے،ڈرونز اور دورمار میزائل زیادہ اہمیت اختیارکرنے سے زمینی فوج کا کردار محدودہونے لگا ہے اب عددی برتری کی بجائے جس ملک کی فضائیہ مضبوط ہوگی اور جدید، دورمار اور تباہ کُن ڈرونز اور میزائلوں کا بڑا ذخیرہ ہو گا و ہی قلیل وقت میں زیادہ فتوحات حاصل کرسکے گا کمزور فضائیہ اور میزائلوں کی محدود تعداد رکھنے والے ممالک جلد شکست کھا سکتے ہیں دنیا تبدیلیوں کے ایسے خوفناک عمل سے گزررہی ہے جس نے نوحِ انسانی پر گہرے اثرات تو مرتب کیے ہی ہیں، دفاعی حوالے سے آنے والی تبدیلیاں بھی حیران کُن ہیں جو دفاعی سامان تیارکرنے والے ممالک کو اپنی توجہ لڑاکا طیارے،ڈرونزاور میزائل بنانے کی ترغیب دے رہی ہےں موجودہ حالات کے تناظر میں وثوق سے کہا جاسکتاہے کہ جنگوں کے نتائج کاانحصارتب تک لڑاکاطیاروں ،ڈرونز اور میزائلوں پر رہے گا جب تک نئی قسم کی ایجادات سامنے نہیں آ جاتیں مگر اِس میں دورائے نہیں کہ فضائیہ ،ڈرونزاور میزائل اہم ہونے سے تباہی کے امکانات بھی زیادہ وسیع ہو گئے ہیں۔
امریکہ اوریورپی ممالک نے روس کے خلاف یوکرین کو بھاری ہتھیارفراہم کیے جن کی مدد سے وہ نہ صرف حملہ آور افواج کے تباہ کُن حملوں کو برداشت کرنے کے قابل ہوا بلکہ محدودنوعیت کے نقصان سے دوچارکرسکا ویسے تو روس اور یوکرین میں 2014 سے جھڑپیں شروع ہیں مگر 24فروری 2022کوروس نے ایک بارہی سبق سکھانے کے لیے بڑا حملہ کیاتو ابتدامیں یوکرین کو کافی نقصان ہوا کئی اہم علاقے چھن گئے مگر جلد ہی امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے ملنے والی کمک سے سنبھلنے لگا اور حملہ آور افواج کے خلاف کارروائیاں بھی کرنے لگا مگر کوئی بڑی کامیابی نصیب نہ ہوسکی بلکہ روس حاوی رہا اِس دوران عسکری قیادت نے ایک بڑے ڈرونز حملے کامنصوبہ بناکر تیاری شروع کردی جس کا نام سپائیڈرویب رکھا گیا آخرکار یکم جون 2025 کو روس کے ایسے پانچ مقامات کو نشانہ بنایا جواُس کے لڑاکا طیاروں کا مستقر تھے اِس حملے میں چالیس کے قریب روسی طیارے تباہ ہوئے۔
مئی کی پاک بھارت جھڑپوں نے عسکری ماہرین کو یقین دلادیاہے کہ فضاﺅں کو میدانِ جنگ بنانے سے محدود وقت میں زیادہ بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ سوکے قریب بھارتی طیاروں نے فضائی حملے کے لیے مختلف مقامات سے اُڑان ہی بھری تو پاکستانی فضائیہ کواپنے دفاع میں چوکس و تیار پایا پچاس کے لگ بھگ لڑاکا طیاروں نے دشمن کے سو کے قریب جنگی طیاروں سے رواں صدی کی سب سے بڑی ڈاگ فائٹ کی اِس میں دشمن کے چھ جدیدترین لڑاکا طیارے تباہ ہوئے جن میں فرانسیسی رافیل اور روسی ساختہ مگ وسخوئی شامل ہیں اِتنے بھاری نقصان کے باوجود بھارت نے جارحیت جاری رکھتے ہوئے اسرائیلی ساختہ ڈرونز ہیروپ کی رہنمائی میں چند میزائل داغ دیئے اِس اشتعال انگیزی کے جواب میںدس مئی کی شب پاکستانی فضائیہ نے دشمن پر حملوں کاآغازکیا علاوہ ازیں پچیس سے زائد بھارت کے عسکری مقامات پرجدید ترین میزائلوں کی برسات کی جاتی رہی چند گھنٹوں پر محیط پاکستانی حملوں سے بوکھلا کربھارت اپنے عالمی ہمدردوں سے جنگ بندی کرانے کی التجائیں کرنے لگا جس پر امریکہ، سعودی عرب، ترکیہ اور عرب امارات حرکت میں آئے اوردونوں ممالک میں جنگ بندی ہوگئی اِس جنگ نے تبدیل شدہ جنگی معیارات کومزیدواضح کیااور تصدیقی مُہرثبت کردی کہ مضبوط فضائیہ ،ڈرونزاور جدیدترین میزائلوں کے بغیر جنگ ناممکن ہے اب پاک امریکہ خوشگوارتعلقات کوخراب کرنے کے لیے بھارت ایسی افواہوں کاسہارا لے رہاہے کہ پاکستان اپنے میزائلوں کی رینج امریکہ تک بڑھانے کی کوشش میںہے حالانکہ پاکستانی میزائلوں کی حد رینج تین ہزارکلومیٹر سے کم ہے جبکہ بھارتی میزائل آٹھ ہزار کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں دراصل پاکستان سے شکستِ فاش کے بعد یہ بھارت کی سفارتی اور ابلاغی جارحیت ہے ۔
اسرائیل سے بارہ روزہ جنگ کے بعد ایران میں فتح کا جشن جاری ہے حالانکہ پہلی فضائی کارروائی میں اسرائیل نے ایران کی عسکری قیادت کو نشانے کے ساتھ کئی اہم ترین سائنسدان بھی مارڈالے مگر جواب میں ایران کا دفاعی نظام اِس بناپر حرکت میں نہ آسکاکیونکہ ایران کے اندرسے ہی کی جانے والی ڈرونز کارروائی نے دفاعی نظام ملیا میٹ کردیا تھا جبکہ کمزور فضائیہ جوابی صلاحیت سے ہی محروم تھی جس سے دنیا نے یہ پیغام لیاکہ ایران کے جوہری پروگرام کے ساتھ دفاعی صلاحیت بھی ختم ہوگئی ہے مگر جلد ہی دفاعی نظام بحال کرنے کے ساتھ ایران نے ڈرونزاور میزائل حملوں سے اسرائیلی جارحیت کاجواب دینا شروع کردیا اِس دوران کچھ حملہ آور طیارے ایران نے مارگرائے ایران کے میزائل اور ڈرونز حملوں کو طول پکڑتا دیکھ کر اسرائیلی عسکری اور سیاسی قیادت نے گھبراکر امریکہ سے مدد طلب کی جس نے اول تو بی ٹوبمبار طیاروں سے ایران کی تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایااور پھرفوری طورپر دونوں ممالک میںجنگ بند کرادی اِس لڑائی میں زیادہ ایرانی نقصان کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیلی فضائی کارروائی کے جواب میں اُس کی فضائیہ بے بس ولاچاررہی زیادہ انحصار ڈرونزاور میزائلوں پرہی رہا اگر میزائل اور ڈرونزبھی نہ ہوتے تواسرائیل شاید جنگ بندی کی ضرورت محسوس نہ کرتااور غزہ ،شام اور عراق کی طرح ایران پربھی حملے جاری رکھتابھارت اور اسرئیل دونوں کی سوچ یکساں ہے یہ اب اپنی لڑائی میں امریکہ کو ملوث کر نا چاہتے ہیں اِس سفارتی اور ابلاغی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی مو¿ثر حکمتِ عملی بنانا ہی صلاحیتوں کا اصل امتحان ہے وگرنہ جنگی فتوحات کے ثمرات زائل ہو سکتے ہیں۔