Fri, September 18, 2026

27 ستمبر : طالبان کا فتح ِکابل کا دن 

27 ستمبر : طالبان کا فتح ِکابل کا دن 

تاریخ کا کھیل بھی عجیب ہے۔ کبھی ایک ہی دن انسانی شعور کی بیداری کا استعارہ بن جاتا ہے اور کبھی اسی تاریخ کے دامن پر خون کے دھبے ثبت ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب محض اتفاقات ہیں، کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں یا انسانی تخلیق کا وہ پیچیدہ عمل جس میں عقل، اقتدار، خوف، مزاحمت اور خواہشِ حکمرانی ایک دوسرے سے مل کر تاریخ رقم کرتے ہیں؟ اگر 21 فروری 1952ءکو ڈھاکہ میں بنگالی زبان کے حق میں احتجاج کرنے والے طلبہ پر گولیاں چلائی گئیں اور پھر 17 نومبر 1999ءکو یونیسکو نے 21 فروری کو عالمی یومِ مادری زبان قرار دے دیا تو کیا یہ انتخاب محض اتفاق تھا؟ 16 اکتوبر 1793ءکو فرانس کی ملکہ میری انتوانیت کا سر قلم کیا گیا۔ وہ فرانسیسی انقلاب کے دوران شاہی نظام کے خاتمے اور عوامی غصے کی علامت بن چکی تھیں۔16 اکتوبر 1951ءکوہی پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں قتل کر دیا گیا۔ وہ پاکستان کے ابتدائی سیاسی نظام کے معماروں میں شمار ہوتے تھے اور ان کا قتل ملکی تاریخ کے بڑے غیرحل شدہ سوالات میں شامل ہو گیا۔ایک ہی تاریخ پر فرانس کی ملکہ کا قتل اور پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کا قتل ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے ۔
4 اپریل 1968ءکو امریکہ میں شہری حقوق کی تحریک کے عظیم رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر قتل ہوئے۔ وہ نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد، عدم تشدد اور انسانی مساوات کی علامت تھے۔4 اپریل 1979ءکو پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ بھٹو پاکستان میں عوامی سیاست، جمہوری مزاحمت اور عوامی اقتدار کے تصور سے وابستہ ایک اہم سیاسی شخصیت تھے۔یہ تقابل محض دو تاریخوں کا تقابل نہیں۔ دونوں شخصیات نے اپنے اپنے معاشروں میں محروم طبقات، سیاسی حقوق اور انسانی وقار کے سوالات کو مرکزی حیثیت دی۔ بھٹو کی پھانسی کے بارے میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے 2024ءمیں اپنی رائے میں قرار دیا کہ ان کے مقدمے میں منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضے پورے نہیں ہوئے تھے۔ 
27دسمبر بھی تاریخ کے ان دنوں میں شامل ہے جن پر افغانستان اور پاکستان کے سیاسی واقعات کا ایک غیر معمولی ربط دکھائی دیتا ہے۔27 دسمبر 1979ءکو سوویت افواج نے افغانستان میں بڑے پیمانے پر فوجی مداخلت کی۔ اسی کارروائی کے دوران تاج بیگ محل پر حملہ کیا گیا اور حفیظ اللہ امین قتل ہوئے۔ ببرک کارمل کو اقتدار میں لایا گیا۔ یہ واقعہ سوویت افغان جنگ کے فیصلہ کن مرحلے کی علامت بن گیا۔27دسمبر 2007ءکو پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو راولپنڈی میں ایک انتخابی جلسے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ ایک ہی تاریخ پر افغانستان میں سوویت فوجی مداخلت اور پاکستان میں بے نظیر بھٹو کا قتل ایک تاریخی مماثلت ضرور ہے۔ مگر کیا یہ دونوں واقعات کسی مشترکہ سازش کا حصہ تھے؟۔
27 ستمبر 1996ءکو طالبان نے کابل پر قبضہ کیا۔ اس واقعے نے افغانستان کی داخلی سیاست، پاکستان کی سلامتی اور خطے کی سیاسی صورتِ حال پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اسی دوران سابق افغان صدر نجیب اللہ کو اقوامِ متحدہ کے احاطے سے نکال کر قتل کر دیا گیا۔اب 27 ستمبر کی تاریخ پاکستان کی سیاسی بحث میں ایک نئے سوال کے ساتھ سامنے آ رہی ہے۔ تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو احتجاج کی تاریخ دی ہے۔ کیا یہ محض ایک سیاسی تاریخ کا انتخاب ہے یا اس کے پیچھے کوئی تاریخی علامت بھی موجود ہے؟ عمران خان کے طالبان کے بارے میں ماضی کے بیانات اور ان کی افغان پالیسی پر سیاسی بحث کرنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ طالبان کے ساتھ اُس کے کیا تعلقات ہیں۔ سو اگر طالبان کو عمران نیازی کی غیر اعلانیہ فوج قرار دیا جاتا ہے تو یہ کوئی سنگین الزام نہیں بلکہ اُن گیتوں کی نثر ہے جو عمران نیازی طالبان کیلئے گاتا رہا ہے ۔مجھے پہلے 27ستمبر کے حوالے سے وسوسہ اٹھا تھا کہ یقینا یہ تاریخ عمران نیازی کی مرضی اور منشاءسے رکھی گئی ہے کیونکہ چائے کا ایک کپ امریکی فوجوں کے انخلاءکے بعد ہمیں بہت مہنگا پڑا تھا اور اس بار سہیل آفریدی کا پنجاب میں آنا اور ڈرامے بازی کرنا یا تو پنجاب میں موجود پختونوں کو پیغام پہنچانا تھا یا پھر کسی نہ خوشگوار واقعہ کے لئے پنجاب حکومت کو مشتعل کرنا لیکن بدقسمتی سے اُسے بعد الذکر خواہش میں تو سوائے افسوس کے کچھ ہاتھ نہیں لگا لیکن پنجاب میں پیغام رسانی یقینا ہوئی ہے ۔
16ستمبر کو وفاقی وزیر مواصلات اور صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے مکہ مکرمہ کو ڈرون حملے سے نشانہ بنانے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین کا تقدس ہر مسلمان کے ایمان اور عقیدے کا لازمی جزو ہے۔ان کا پیغام مذہبی احترام، مقدس مقامات کے تحفظ اور علاقائی امن کے حوالے سے تھا۔مکہ مکرمہ صرف ایک شہر نہیں، مسلمانوں کے ایمان کا مرکز ہے۔ اس کی حرمت کسی ایک ملک، کسی ایک قوم یا کسی ایک خطے کی میراث نہیں؛ یہ پوری امتِ مسلمہ کے دل کی دھڑکن ہے۔ حرمین شریفین کی طرف اٹھنے والی ہر جارحانہ نگاہ، ہر خطرناک قدم اور ہر تشدد آمیز کوشش دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتی ہے۔وفاقی وزیر مواصلات اور صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے مکہ مکرمہ کو ڈرون حملے سے نشانہ بنانے کی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقدس مقامات کا احترام ہر صورت ملحوظِ خاطر رکھا جانا چاہیے۔ عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ خطہ پہلے ہی مختلف خطرات اور کشیدگی کی زد میں ہے، اس لیے تشدد اور تصادم کے بجائے امن، باہمی مشاورت اور مشترکہ حل کی راہ اختیار کی جانی چاہیے۔مکہ مکرمہ کی حرمت صرف ایک مذہبی عقیدہ نہیں، ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ جو شہر دنیا بھر کے مسلمانوں کو وحدت، عبادت اور امن کا پیغام دیتا ہے، اس کے تحفظ کے لیے بھی دنیا کو امن، احترام اور ذمہ داری کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔حرمین شریفین کا احترام ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی حصہ ہے اور ان کے تحفظ کے لیے پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

ٹیگز: