تین چار دن قبل پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف اپنی کابینہ کے کچھ ارکان کے ہمراہ کوئٹہ تشریف لے گئیں تاکہ بلوچستان میں پچھلے دنوں وسیع پیمانے پر ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کے خلاف وہاں کی حکومت اور عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا جا سکے ۔ بلا شبہ اسے محترمہ مریم نواز شریف کا قابلِ تحسین اقدام سمجھا جاسکتا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے وہاں فورسز کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے 10 ارب روپے کی معاونت کا جو اعلان کیا وہ اور بھی قابلِ قدر ہے۔ یہ درست ہے کہ پنجاب کے بڑا بھائی ہونے کے ناتے دوسرے صوبوں کی مالی ضروریات پورا کرنے یا اُن کی مشکلات میں مدد کرنے کے لئے پنجاب کی حکومت کی طرف سے قربانی ،ایثار اور خیر سگالی کا مظاہرہ ضروری ہے اور یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ پنجاب نے اس ضمن میں کبھی کسی کمی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ دوسرے صوبوںکے بعض تنگ نظر رہنمائوں کی طرف سے اُسے دُشنام طرازی اور مخالفت کا سامنا رہتا ہے۔ خیر جو بھی ہو پنجاب کو بہر کیف اپنا بڑا بھائی ہونے کا کردار ادا کرنا چاہیے اور میں نہیں سمجھتا کہ اس میں کوئی کمی آ سکتی ہے اس لیے کے پنجاب کے عوام اپنے آپ کو پاکستانی پہلے سمجھتے ہیں اور پنجابی بعد میں اور وہ ملک کے تمام صوبوں کے لوگوں کے لئے محبت، خلوص اور احترام کے جذبات رکھتے ہیں۔
خیر یہ ایک الگ موضوع ہے ، آج ذکر پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کا کرنا ہے کہ وہ اور اُن کی حکومت صوبے میں جہاں تعمیر و ترقی کے میگا پراجیکٹس مکمل کروا رہی وہاں عوام الناس کو ٹرانسپورٹ کی سہولیات بہم پہنچانے کے لئے مختلف شہروں میں گرین الیکٹرک بسیں چلانے کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ اس سلسلے کو وسعت دینے کے لئے پنجاب حکومت کی طرف سے مزید بسیں منگوانے کا آرڈر دیا گیا ہے جو اور بھی مستحسن اقدام ہے۔ لگتا ہے کہ پنجاب کا خزانہ بھرا ہوا ہے اور وزیرِ اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ عوام کو سہولیات مہیا کرنے اور صوبوں میں تعمیر و ترقی کے پراجیکٹس مکمل کرنے کے لئے کسی طرح کے بخل سے کام نہیں لے رہی ہیں ۔ اگلے دن محترمہ مریم نواز نے میانوالی میں جلسے سے خطاب کیا تو انہوں نے وہاں اربوں روپے کے پراجیکٹس شروع کرنے کا اعلان کیا جن کے تحت میانوالی میں میڈیکل، لاء اور ایگریکلچر کالجز کے قیام کے ساتھ میانوالی کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کو ٹیچنگ ہسپتال کا درجہ دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ’’ اپنا کھیت اپنی زمین ‘‘منصوبے پر بھی عمل کیا جائے گا۔ محترمہ مریم نواز نے فخر سے یہ اعلان کرنا بھی ضروری سمجھا کہ
لاہور میں ہی نہیں پنجاب کے دوسرے شہروں جن میں میانوالی بھی شامل ہے گرین بسیں چل رہی ہیں۔
محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کا گرین بسوں کے پنجاب کے مختلف شہروں میں چلنے کا ذکر کیا ہے تو اس میں ایسی کوئی مبالغہ آرائی نہیں۔ میں اپنے شہر راولپنڈی کی بات کروں تو دو مصروف سڑکیںجن سے مجھے تقریباً روزانہ ہی گزرنا ہوتا ہے ، ان میں ایک اڈیالہ روڈ ہے تو اس پر صدر میٹرو سٹاپ سے منور کالونی اڈیالہ روڈ تک (تقریباً8 کلو میٹر لمبے روٹ پر) گرین بسیں چل رہی ہیں۔ دوسری سڑک صدرسے براستہ قاسم مارکیٹ رینج روڈ ہے اس پر بھی صدر میٹرو سٹاپ سے بھاٹہ چوک تک کم و بیش 11,12 کلو میٹر طویل روٹ پر بسیں چلتی نظر آتی ہیں۔ سچی بات ہے میں اپنی گاڑی پر ان سڑکوں پر سے گزرتا ہوں تو آدھ پونے گھنٹے کے سفر میں درجن بھر گرین بسیں مجھے آتے جاتے نظر آتی ہیں۔ یہ بسیں جہاں مسافروں جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہوتی ہے سے بھری نظر آتی ہیں تو ان کے سٹاپس پر بھی بڑی تعداد میںمرد ، خواتین اور بچے بسوں کا انتظا ر کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ پنڈی میں راجہ بازار تا اسلام آباد ایکسپریس وے پر کورال چوک تک اور مریڑ چوک سے پشاور روڈ 26 نمبر چونگی سے ملحق موٹر وے چوک تک بھی گرین بسیں چل رہی ہیں۔ گرین الیکٹرک بسوں کا یہ سلسلہ جو بڑے منظم انداز میں شروع کیا گیا ہے اور جس میں خواتین ، بچوں اور بزرگوں سے کوئی کرایہ نہیں لیا جاتا اور جسے وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے بلا شبہ پنجاب حکومت اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ کے لئے خوشگوار اور حوصلہ افزا تاثرات اور پیغامات کا باعث بنا ہے۔ اللہ کرے یہ سلسلہ ایسے ہی کامیابی سے چلتا رہے اور اُس کا انجام وہ نہ ہو جو پچھلی صدی میں ملک بالخصوص پنجاب کے شہروں کے درمیان اور مقامی طور پر چلنے والی گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس کی بسوں اور وسیع پیمانے پر پھیلے اس کے نظام کا ہوا۔ گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس کی مقامی طور پر چلنے والی بسوں کو اومنی بس سروس کہا جاتا تھا اور پچھلی صدی کے پچاس، ساٹھ اور ستر کے عشروں میں لاہور اور راولپنڈی جیسے شہروں میں اس کا جال پھیلا ہوا تھا۔ پنڈی میں چند پیسوں میں اُومنی بسوں میں مقامی طور پر مختلف مقامات تک سفر کیا جا سکتا تھا تو مضافات میں تیس ، چالیس کلو میٹر کے فاصلے تک کے بعض روٹس پر بھی یہ بسیں چلتی تھیں اور زیادہ سے زیادہ روپے ، سوا روپے تک کرایہ ہوتا تھا۔
1967-68کے دوران میں سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور میں بی ایڈ کا طالبعلم تھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ لاہور کے مختلف مقامات تک اومنی بس سروس کی دو منزلہ (ڈبل ڈیکر ) بسیں چلا کرتی تھیں۔ مئی ، جون 1968 ء میں مجھے ایک ماہ کے لئے سنٹرل ٹریننگ کالج سے لاہور کی اُس دور کی ایک طرح کی مضافاتی بستی وحدت کالونی کے گورنمنٹ پائلٹ سیکنڈری سکول میں ٹیچنگ پریکٹس کے لئے جانا پڑا تومیں لوئر مال پر ایم اے او کالج کے بس سٹاپ سے اکثر ڈبل ڈیکر بسوں پر وحدت کالونی تک آیا جایا کرتا تھا۔ بس کی اُوپر کی منزل پر کھڑکی کے ساتھ بیٹھ کرسفر کرتے ہوئے چوبرجی، اچھرہ، رحمان آباد اور فیروز پور روڈ پر جامعہ اشرفیہ کے اُس دور کے مناظر ابھی تک میرے ذہن کے نہاں خانے میں موجود ہیں۔ اچھرہ میں گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس کا بہت بڑا ڈپو بھی ہوا کرتا تھا جس میں درجنوں بسیں کھڑی نظر آتیں۔ پھر کیا ہوا کسی کی نظر کھا گئی یا گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس اور اومنی بس سروس سے وابستہ چھوٹے درجے کے اہلکاروں سے لے کر بڑے درجے کے اعلیٰ افسروں کی حرص و ہوا ، لوٹ مار اور بدعنوانیاں غالب آئیں کہ گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس کا نام و نشان ہی نہ مٹ گیا بلکہ اُن کے اڈوں اور ڈپووئوں کی جگہیں اُونے پونے دامون بیچ دی گئیں یا قبضہ مافیا نے اُن پر زبردستی قبضہ جما لیا۔میں دور ماضی میں چلا گیا ورنہ کہنا یہ چاہتا ہوں کہ اللہ کرے پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف کے بڑے ارمانوں اور عوامی بہبود اور پنجاب کی تعمیر و ترقی کے بلند مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے شروع کیے گئے مختلف کثیر المقاصد منصوبوں کا ایسا حشر نہ ہو جو ماضی میں سرکار کی ملکیت اداروں یا اُن کے اثاثوں اور انفراسٹرکچر کا ہوا۔ حکومت اگر چیک اینڈ بیلنس ، مانیٹرنگ اور جواب دہی کا مضبوط نظام قائم کرنے اور اس پر عملدرآمد میں کامیاب رہتی ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ کوئی خرابی ہو سکے یا لوٹ مار اور بد عنوانی کامیاب ہو سکے۔
یہاںراولپنڈی میں پچھلے تقریباً دو پونے دو سال میں تعمیر و ترقی کے مکمل کیے گئے اور زیرِ تعمیر منصوبوں کا بھی تھوڑا سا ذکر کر لیتے ہیں کہ ان کا کریڈٹ بھی بڑی حد تک محترمہ مریم نواز صاحبہ کو جاتا ہے ۔ اڈیالہ روڈ کی وسعت ، کشادگی اور تعمیر نو اور ا س پر خواجہ کارپوریشن چوک میںسٹیٹ آف آرٹ فلائی اُوور کی تعمیر اور اسی طرح راولپنڈی صدر میں مال روڈ پر ٹی ایم چوک اور جی پی او چوک میں بنائے جانے والے انڈر پاسز ایسے شاندار منصوبے ہیں جن کی تحسین کی جانی چاہیے۔ اب کچہری چوک میں چاروں طرف سے ملنے والی پانچ سڑکوںپر بنائے جانے والے اُوور ہیڈ بریجز، انڈر پاسز اور فلائی اُوورز کا کام زور و شو ر سے جاری ہے تو بلا شبہ اس کا کریڈٹ بھی محترمہ مریم نواز شریف اور اُن کی حکومت کو جاتا ہے۔ (جاری ہے)