وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز جب سے پنجاب کا تخت پر سنبھالا ہے وہ کوشش تو یہی کر رہی ہیں کہ ان کا دورر اقتدار پنجاب کے 14 کروڑ عوام کو ’’یاد‘‘ بھی رہے جس کے لئے انہوں نے اپنے تئیں عوامی مفاد کے حامل کئی اہم منصوبے شروع کئے ہیں اور کچھ نئے منصوبوں کے خد و خال ان کے ذہن میں ہیں، بہت اچھی بات ہے۔ عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ پنجاب میں دودھ اور شہر کی نہریں بہیں ہر طرف امن و امان ہو، لوگوں کو روزگار میسر ہو انصا ف کا بول بالا ہو ہر شہری کی عزت نفس مجروح نہ ہو اور نہ اسے کوئی بد قماش تنگ کرے کسی کے گھر جائیداد پر قبضہ نہ ہو، بچیاں بلا خوف خطر باہر نکلیں، سکول کالج یونیورسٹیز، دفاتر اور اور اپنے کام کی جگہ پر جائیں۔لیکن ان کی تمام کوششوں کو راوئتی حکومتی مشینری ناکام کرتی دکھائی دے رہی ہے۔یہاں پہلے ہی کئی محکمے اپنے مکمل انفراسٹرکچر کے ساتھ موجود ہیں۔ جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کے اندر ادارہ جاتی اصلاح کی جاتی ان کی کارکردگی بہتر کی جاتی ، احتساب کا موثر نظام بنایا جاتا لیکن ان کے مشیروں نے بھاری پتھر چومنے کی بجائے انہیں آسان راستہ دکھا دیا ہے کہ ایک نیا محکمہ بنا دیا جائے ،ماضی میں میاں شہباز شریف کے کے دور میں بھی کئی نئے محکمے ’’کمپنیوں‘‘ کی صورت وجود میں لائے گئے ان کی کارکردگی اور حشر بھی سب کے سامنے ہے بلکہ ان کمپنیوں کی کرپشن بھگتنا بھی پڑی اور بالآخر انہیں ختم کرنا پڑا ۔اب بھی ماضی کے تاریخ ہی دہرائی جارہی ہے۔ پولیس کے محکمہ کو درست کرنے کے بجائے اس کے اندر نئے محکمے سی سی ڈی قائم کر کے انہیں بے پناہ اختیار دے کر صرف بندے مارنے کا اندھا دھند اختیار بھی دے گیا ہے جس کے نتائج بھی بھگتنا پڑیں گے ابھی سے کئی طرح کی شکایات سامنے آنے کے ساتھ عوام کی مریم حکومت کے خلاف نفرت بھی بڑھ رہی ہے۔ یہ موضوع کئی کالم کا متقاضی ہے اگلے کسی کالم میں اعداد و شمار کے ساتھ بات کی جائی گی کہ ابھی تک اس سے حاصل ہونے والے ’’فوائد‘‘ کیا حاصل ہوئے اور حکومت کی نیک نامی میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟۔
پنجاب میں نئے محکمے بنانے کا سلسلہ جاری ہے اور ماحول کے محکمے کے بعد کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے چرچے تھے کہ ساتھ ہی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پیرا کے
نام سے ایک اور ایجنسی کا افتتاح کردیا ہے۔ اس طرح کے محکمے پہلے سے بھی موجود ہیں اس کے باوجود نئے محکمے بنانے کا مقصد یقینا یہی ہے کہ پہلے سے موجود ادارے اور محکمے کام نہیں کررہے ہیں۔ اگر وہ کام ٹھیک نہیں کر رہے تو پھر انہیں سرے سے بند کر دیا جائے۔
ادھر حکومت پنجاب نے منشیات کے سدباب کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے صوبے میں کائونٹر نارکوٹکس فورس (سی این ایف) قائم کردی، اس طرح پنجاب 5 اسپیشلائزڈ فورسز قائم کرنے والا پہلا صوبہ بن گیا۔ گو کہ صوبوں کو سپیشلائزڈ فورسز بنانے کا مینڈیٹ 2018 میں 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت دیا گیا تھا۔قبل ازیں پنجاب نے پہلی وائلڈ لائف فورس، انوائرمنٹل فورس، فارسٹ اور پیرا فورس بنانے کا اعزاز حاصل کیا تھا اور اب منشیات کے سدباب کے لیے پہلی صوبائی کائونٹر نارکوٹکس فورس بنانے کا اعزاز بھی حاصل کرلیا ہے۔
اسی طرح اب پیرا فورس ہے جس پر آج ہم بات کریں گے کے بارے کہا گیا ہے کہ یہ پاکستان کی پہلی پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) لانچ کر دی گئی ہے، پیرا پنجاب بھر میں مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف منظم کارروائیاں کرے گی اس فورس میں 8 ہزار سے زائد افراد بھرتی کئے جائیں گے، اربوں روپے کی لاگت سے پیرا فورس وجود میں لائی گئی ہے، پیرا تجاوزات قائم کرنے والوں پر مسلسل نظر رکھے گی، پیرا ریگولیٹری اور انفورسمنٹ اتھارٹی ہے، پیرا کا کام ظالم کے سامنے آہنی دیوار اور دہشت کی علامت بننا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ یہ فورس پنجاب کے تمام اضلاع اور تحصیلوں میں ہوگی، ہر تحصیل میں یہ موجود ہوں گے اور ان کا کام، چاہے وہ پرائس کنٹرول ہو یا ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن ہو، یہ ہے کہ وہ ظالم کے سامنے آہنی دیوار بنیں، ظالم کے لیے دہشت کی علامت بنیں اور مظلوم کا سہارا بنیں، مظلوم کی امید بنیں، مظلوم کی مدد کے لیے پہنچیں۔’پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) لاہور ڈویژن میں پوری طرح سرگرم عمل ہوگی اور پنجاب بھر میں دسمبر تک لانچ کر دی جائے گی۔
لیکن ابھی تک اس کانیٹ رزلٹ یاکارکردگی ٹھیلے، ریڑھی اور چھابڑی فروش کے علاوہ چل پھر کر سودا فروخت کر کے روزی کمانے والوں کا سامان ضبط کرنے انہیں جیلوں میں بند اور جرمانے کرنے کے علاوہ سامنے نہیں آئی، پنجاب کے ہر شہر اور گائوں اور دیہات میں لاکھوں افراد چل پھر کر ہی روٹی روزی کما کر اپنے کنبے کا پیٹ پالتے ہیں جنہیں پیرا بھوکا مارنے کے ساتھ جیلوں میں بند کرنے کے درپے ہے، اس محکمے کے خلاف بھی شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے اور مارکٹا ئی کے واقعات بھی بڑھنے لگے ہیں۔ دنیا بھر میں بے رزگار افراد روزی کمانے کے ہزار طریقے اپناتے ہیں تاکہ ان کا گھر چل سکے اور وہ بھوکا نہ مریں لیکن دنیا بھر کی حکومتیں ان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرتیں جس طرح کا پنجاب میں پیرا چل پھر کر روی کمانے والوں کے ساتھ کر رہی۔یہ موضوع بھی چند الفاظ میں نہیں سمیٹا جاسکتا لیکن یہ کہنا ضروری بنتا ہے کہ سی ایم صاحبہ کو اپنے مشیر فوری بدل لینے چاہئیں ورنہ چند مہینوں میں پنجاب حکومت عوام میں اپنی مقبولیت کھو بیٹھے گی۔ دوسری بات ان نئے محکموں پر اتنے بھاری اخراجات کہاں سے پورے کئے جائیں گے؟۔
پیرا کی کارکردگی ان دنوں سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف حکومت کے حامی اس فورس کی کارروائیوں کی تعریف کر رہے ہیں تو دوسری طرف اس فورس کے ’متاثرین‘ سخت احتجاج کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔نئی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر باوردی اہلکار بازاروں اور مارکیٹوں میں سرگرم ہیں تاہم ان کارروائیوں پر تاجر برادری بظاہر خوش نظر نہیں آتی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ’ہم اس حکومت کے حامی ہیں لیکن یہ جو کچھ ہو رہا ہے ٹھیک نہیں ہے۔ حکومت کو صرف اس بات پر نظر ثانی کرنا ہو گی کہ یہ فورس کام کیسے کرے گی۔ ان کی اخلاقی تربیت بھی کرنا ہو گی، گالیوں اور بدتہذیبی کی کون سا قانون اجازت دیتا ہے؟‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ جتنے بھی نئے محکمے وجود میں لائے گئے ہیں ابھی تک ان کی کارکردگی نے حکومت کی نیک نامی اور مریم نواز کے دیگر اچھے کاموں کو بھی پس پست ڈال کر ان کے خلاف عوامی غم و غصہ میں اضافہ ہی کیا ہے، مریم صاحبہ کو چاہیے کہ سب اچھا کی رپورٹ پر من و عن عمل کرنے کی بجائے اپنے قریبی ساتھیوں سے چیک کرا لیا جائے کہ کیا واقع ہی جو سب اچھا کی رپورٹ مل رہی ہیں درست بھی ہیں یا نہیں۔ اگر ابھی سے ان معامالات کی سنگینی کو دیکھا نہ گیا تو حکومت عوام کی نظروں میں اچھی نہیں کہلائے گی ۔ اور آئندہ الیکشن میں اس کا جواب ووٹ کی صورت سامنے آئے گا۔