راولپنڈی کے جنوب مغرب کے مضافاتی دیہات و قصبات کو پنڈی سے ملانے والی مصروف شاہراہ اڈیالہ روڈ جس پر پنڈی سے تقریباً بارہ تیرہ کلومیٹر کے فاصلے پر سنٹرل جیل روالپنڈی جسے عرفِ عام میں اڈیالہ جیل کہا جاتا ہے بھی واقع ہے کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے بلکہ اس سے قبل کئی بار میری تحریروں( کالموں ) میںیہاں سال کے بارہ مہینوں میں موسمی سبزیاں اگانے والی ذرخیز زمینوں میں بنے ہوئے پرانی طرز کے رہٹوں، کنوﺅں اور سر سبز و شاداب کھیتوں اور کھلیانوں کے حوالے آ چکے ہیں۔ تاہم آج اس مصروف سڑک کا تذکرہ ایک خاص سیاق و سباق میں اس امید کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ پنجاب کی ہر دل عزیز ،ہر گام مستعد ، متحرک اور پنجاب کے عوام کی ترقی اور بہبود کے کاموں میں ہر لمحے مصروف وزیرِ اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ اس تذکرے کو اپنی خصوصی توجہ کا مستحق گردانیں گی۔ آج اڈیالہ روڈ پر خواجہ کارپوریشن چوک پر بننے والے اوور ہیڈ برج اور انڈر پاسز کی تعمیر اور خواجہ کارپوریشن چوک سے گورکھ پور کے مقام تک اس کی تعمیرِ نو اور توسیع کے حوالے سے عوام الناس کوگزشتہ چھ سات ماہ سے درپیش مسائل اور مصائب کا ذکر کرنا مقصود ہے تو اس کے ساتھ بطورِ خاص ان شکوک و شبہات ، خدشات، تحفظات اور عوامی مطالبات کو بھی سامنے لانا ہے جو اس سڑک کے کچی جوڑیاں سے جرار کیمپ چوک تک تقریباً 12.5 کلومیڑکے اختتامی حصے کی تعمیر ِ نو کے بارے میں مقامی آبادی کے ذہنوں میں پائے جاتے ہیں۔
مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی باک نہیں کہ تعمیر اور توڑ پھوڑ کا باہمی چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جہاں تعمیرِ نو ہو گی ، کچھ مرمت ہو گی، کچھ توسیع ہو گی وہاں لازمی طور کر کچھ نہ کچھ توڑ پھوڑ بھی ضرور ہو گی۔ اڈیالہ روڈ کے خواجہ کارپوریشن چوک پر اوور ہیڈ برج اور انڈر پاسز کی تعمیر اور سڑک کی تعمیرِ نو اور توسیع کا کام ہو رہا ہے تو اس کے لیے وسیع پیمانے پر توڑ پھوڑ ، پرانی عمارات کو گرانے اور سڑکے کے دونوں اطراف وسعت کے لیے ضروری کھدائی اور اس کے ساتھ ملبے کے پہاڑ کھڑے ہونا ضروری تھے۔ گزشتہ تقریباً چھ سات ماہ سے یہ سب کچھ جہاں اڈیالہ روڈ کے خواجہ کارپوریشن والے چوک کے دونوں بلکہ چاروں اطراف میں نظر آتا ہے وہاں آس پاس کے مکینوںکو ہی نہیں بلکہ ہر روز ہزاروں کی تعداد میں یہاں سے گزرنے والوں کو بھی توڑ پھوڑ ، گرد و غبار، شور شرابے
اور ٹریفک کے مسائل سے دو چار ہونا پڑتا ہے ۔ یقینا یہ سب کچھ ضروری سمجھا جا سکتا ہے کہ اس کے بغیر تعمیرِ نو اور توسیع کا کام نہیں ہو سکتا، تاہم تمام پہلوﺅں کو سامنے رکھتے ہوئے میری طرح کا بڑی عمر کا ایک شخص پوری ذمہ داری اور غیر جانبداری سے یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کثیر المقاصد منصوبے کی تعمیراور اڈیالہ روڈ کی آگے گورکھپور تک تعمیرِ نو اور اس کے ساتھ اڈیالہ روڈ کے اختتامی حصے کچی جوڑیاں سے جرار کیمپ چوک تک تعمیر نو کے گزشتہ چھ سات مہینوں سے جاری کام کے دوران جس طرح عوام الناس کے مختلف طبقات کو تکالیف ، مصائب اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور ابھی تک کرنا پڑ رہا ہے اس میں کچھ نہ کچھ کمی ضرور ہو سکتی تھی یا اب بھی ہو سکتی ہے بشرطیکہ ہماری انتظامیہ کچھ زیادہ فعال ہوتی یا اب بھی فعال ہو جائے یا ہماری ٹریفک پولیس کے اہلکار تماشائیوں کا کردار ادا کرنے کی بجائے ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لیے سر گرمی سے اپنی ذمہ داریاں سر انجام دینا شروع کر دیں۔
یہ درست ہے کہ ہم میں سے اکثریت کا بحیثیت ذمہ دار شہری کردار کچھ ایسا قابلِ تحسین نہیں۔ رُولز، ریگولیشنز ، قواعد و ضوابط اور قانون ، قاعدے کی پا بندی ہمارے قریب سے بھی نہیں گزری۔ اب ایک طرف یہ حالت ہو تو اس کے ساتھ توڑ پھوڑ ، ملبے کے ڈھیر ٹریفک نے یک طرفہ ہی نہ گزرنا ہو بلکہ سڑک کی تعمیر نو کے لیے اس پر موٹی بجری، اوپر گیڑھا اور خاکہ پھیلا ہو ا ہو اور اس پر سِرے سے پانی کا چھڑکاﺅ نہ کیا جاتا ہو اور گرد و غبار کے طوفان اُٹھ رہے ہوں تو پھر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ سڑک پر سے گزرنے والوں یا آس پاس کے مکینوں کو کتنی تکلیف اور مصائب سے دو چار ہونا پڑتا ہو گا۔ پھر جب سڑک کے یک طرفہ تنگ حصے پر رواں دواں ٹریفک میں عمارتی سامان سے لدی اور واٹر ٹینکرز والی ٹریکڑ ٹرالیاں بھی ریس لگانے میں مصروف ہوں تو پھر میری طرح کے بڑی عمر کے محتاط شخص کے لیے سڑک پر اپنی گاڑی چلانا کتنی اذیت اور دباﺅ کا باعث ہو سکتا ہے۔ اس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہے۔
کہا جا سکتا ہے کہ اڈیالہ روڈ کی تعمیر ِ نو یا خواجہ کارپوریشن چوک پر اوور ہیڈ برج یا انڈر پاسز کی تعمیرکے حوالے سے سامنے آنے والے مسائل اور مصائب کا اب ذکر کرنا جب یہ کثیر المقاصد منصوبہ بڑی حد تک تکمیل کے آخری مراحل میں ہے ایک طرح کے سانپ کی لکیر کے پیٹنے کے مترادف ہوسکتا ہے۔ بالکل درست ایسے سمجھا جا سکتا ہے لیکن ایک دو پہلو ایسے ہیں جن کو سامنے لاتے ہوئے خرابی سے بچ کر اب بھی بہتری کی راہ اختےار کی جا سکتی ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ خواجہ کارپوریشن چوک سے گورکھپور تک سڑک کی تعمیرِ نو کا جو کام ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے اس کا جائزہ لیا جانا چاہیے کہ وہ مطلوبہ معیار اور Specification کے مطابق ہے یا نہیں۔ پنجاب کے محکمہ شاہرات اور سی ڈبلیو کے ذمہ داران پابند کیے جانے چاہئیں کہ وہ کام کے معیار کو پرکھتے رہیں اور اس میں کسی طرح کی ہیر پھیر نہ ہونے دیں۔
اڈیالہ روڈ کے خواجہ کارپوریشن چوک سے گورکھپور تک کے حصے کے تعمیرِ نو کے بارے میں کچھ اور نکات کا ذکر بھی کیا جا سکتا ہے لیکن کالم میں گنجائش کم ہونے کی بنا پر اس کونظر اندازکرتے ہوئے ضروری ہے کہ اس سڑک کے اختتامی حصے ، کچی موڑیاں سے جرار موڑ چوک تک 12.5 کلومیٹر حصے کی تعمیر ِ نو کے حوالے سے لوگوں کے اذہان میں موجود شکوک و شبہات ، خدشات، تحفظات اور مطالبات کو زیربحث لایا جائے۔ سڑک کی تعمیر کا یہ حصہ کسی حد تک اپنے اندر پُر اسرا ریت لیے ہوئے ہے کہ اس کا آدھا حصہ این اے 53 اور پی پی 10 تو بقیہ حصہ این اے 54 اور اس سے متعلقہ پی پی 12 میں آتا ہے۔ منصوبے کے لیے فنڈز کا اجرا ءاین اے 53 سے مسلم لیگ (ن) کے ممبر قومی اسمبلی راجہ قمر الاسلام جو ضلعی کوآرڈینیشن کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں کی وساطت سے ہوا ہے اور پی پی 10 سے مسلم لیگ (ن) کے ممبر صوبائی اسمبلی چوہدری نعیم اعجاز ان کے شریک ِ کار و معاون ہیں۔ اس تفصیل کو سمیٹتے ہوئے ایک بورڈ اڈیالہ روڈ کے 12.5 کلومیٹر کے زیرِ تعمیر اختتامی حصے کے تقریباً وسط میں گھلوال اور ہون کے درمیان سڑک کے کنارے اس جگہ لگا ہوا ہے جہاں چند ما ہ قبل سڑک کی تعمیرِ نو کا کام شروع ہوا تھا۔اب تک اتنا ہی کام ہوا ہے کہ سڑک پر گیڑھا بچھا دیا گیا ، اس کے اوپر خاکے کی تہہ لگا دی گئی اور پھر اس پر ٹریفک رواں دواں اور گرد و غبار کے جو طوفان اٹھتے چلے آ رہے ہیں ان کا کوئی شمار نہیں۔ یہ پہلو بڑی حد تک تکلیف دہ ضرور لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ اڈیالہ روڈ کا یہ حصہ جس کی تعمیر نو ہو رہی ہے اس کی حتمی نوعیت کیا ہو گی؟ کیا یہ گیڑھے کی تہہ پر تارکول اور بجری بچھا کر پرانے انداز میں تعمیر کردہ غیر ہموار سڑک ہو گی یا پھر خواجہ کارپوریشن چوک سے گورکھپور تک اڈیالہ روڈ کے زیرِ تعمیر حصے کی مانند جدید کارپٹڈ روڈ ہو گی۔ عوام کا مطالبہ یہی ہے کہ یہ کارپٹڈ روڈ ہونی چاہیے۔ اس منصوبے کے محرک ممبر قومی اسمبلی و چیئرمین ڈسٹرکٹ کو آر ڈینیشن کمیٹی راجہ قمر الاسلام سے بطورِ خاص درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اس معاملے میںذاتی دلچسپی لیتے ہوئے سڑک کے اس حصے کی تعمیرِ نو کارپٹڈروڈ کے طور پر کرائیں۔ اگر ایسے نہ ہوا تو عوام الناس میں بے پناہ مایوسی اور کئی طرح کے شکوک و شبہات پیدا ہوں گے۔