سمگلنگ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک ایسا ناسور ہے جو قومی خزانے کو کھوکھلا کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی صنعتوں اور عوامی فلاح کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔ پاکستان پہلے ہی قرضوں، تجارتی خسارے، توانائی بحران اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کا شکار ہے، ایسے میں سمگلنگ ایک خاموش قاتل کی طرح معیشت کو تباہ کر رہی ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے بین الاقوامی تجارت کا اہم مرکز تو بناتی ہے لیکن یہی پوزیشن اسے سمگلنگ کے خطرے سے دوچار بھی کرتی ہے۔ ایران سے پیٹرولیم مصنوعات، افغانستان سے کپڑا، ٹائر، چینی، چائے اور دیگر اشیا، جبکہ سمندر کے راستے الیکٹرانکس اور غیر قانونی سامان ملک میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں حکومت محصولات سے محروم رہتی ہے، مقامی صنعتیں متاثر ہوتی ہیں اور غیر معیاری اشیا عوام تک پہنچتی ہیں۔ پاکستان میں سمگلنگ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ یہ ملک۔ ابتدا میں کپڑا، چائے اور قیمتی دھاتوں کی غیر قانونی درآمد عام تھی، لیکن آج یہ درجنوں صنعتوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں ایران سے قانونی طور پر پیٹرولیم مصنوعات لانے کا معاہدہ کیا گیا جس سے صارفین کو معیاری ایندھن اور حکومت کو ریونیو ملا، مگر بعد میں ایسی پالیسیوں پر عمل نہ ہونے سے غیر قانونی ڈیزل اور پیٹرول دوبارہ سرحد پار آنے لگے۔ اندازہ ہے کہ پاکستان کو سمگلنگ کی وجہ سے سالانہ 600 سے 900 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے، جو قرضوں سے نجات اور عوامی فلاح کے منصوبوں کے لیے کافی ہے۔ سمگلنگ صرف ریونیو کی چوری نہیں بلکہ مقامی صنعتوں کے لیے موت کا پروانہ ہے۔ اگر ایران کا سستا ڈیزل اور پیٹرول مارکیٹ میں دستیاب ہو گا تو مقامی آئل کمپنیاں مقابلہ نہیں کر پائیں گی۔ اسی طرح افغانستان سے آنے والے ٹائر، کپڑا، صابن اور دیگر اشیا قانونی درآمدات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قانونی کاروبار کمزور پڑتا ہے اور حکومت ڈیوٹی سے محروم رہتی ہے۔ عوام پر بھی اس کے منفی اثرات ہیں۔ غیر معیاری پٹرول گاڑیوں کے انجن خراب کرتا ہے، ایندھن زیادہ خرچ ہوتا ہے اور فضائی آلودگی بڑھتی ہے۔ غیر معیاری دوائیں، صابن اور دیگر اشیا صحت کے لیے خطرناک ہیں۔ بظاہر سستا سامان لینے والا صارف دراصل اپنے ہی مستقبل کو نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اس لیے سمگلنگ کو صرف مالی جرم نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ تصور کرتے ہیں۔ پٹرول پمپ مالکان اور ڈیلرز کی مجبوری بھی اس رجحان کو بڑھاتی ہے۔ کمیشن بہت کم ہونے کے باعث وہ غیر قانونی ذرائع اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مشرف دور میں کمیشن معقول تھا اس لیے ملاوٹ کا رجحان کم تھا، لیکن آج اخراجات بڑھنے اور کمیشن نہ ہونے کے برابر رہنے سے ڈیلرز غیر قانونی ایندھن کی طرف مائل ہو گئے ہیں۔ اگر حکومت ڈیلرز کو منصفانہ کمیشن فراہم کرے تو یہ مسئلہ کافی حد تک کم ہو سکتا ہے۔ سمگلنگ ریاستی اداروں کی ساکھ کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جب عوام دیکھتے ہیں کہ غیر قانونی مال کھلے عام فروخت ہو رہا ہے اور ادارے خاموش ہیں تو ان کا اعتماد قانون اور حکومتی ڈھانچے پر سے اٹھ جاتا ہے۔ اس سے معاشرے میں قانون شکنی کا رجحان بڑھتا ہے اور کرپشن عام ہو جاتی ہے۔ اس ناسور پر قابو پانے کے لیے چند اقدامات ناگزیر ہیں: سرحدوں پر سخت نگرانی، جدید ٹیکنالوجی، ڈرون، سکینرز اور ٹریکنگ سسٹم کا استعمال۔ چھوٹے ڈیلرز کے بجائے اصل سرپرستوں کے خلاف کریک ڈاو¿ن۔ عوامی آگاہی، تاکہ وہ سستے مگر غیر قانونی سامان کے نقصانات کو سمجھیں۔ ایران اور افغانستان کے ساتھ قانونی تجارتی معاہدے تاکہ غیر قانونی درآمدات رک سکیں۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ مقامی کرنسی میں تجارت تاکہ ڈالر پر انحصار کم ہو اور سمگلنگ کی ضرورت نہ رہے۔ مقامی صنعتوں کو سبسڈی اور سہولتیں تاکہ وہ غیر قانونی مصنوعات کے مقابلے میں کھڑی ہو سکیں۔ ڈیلرز کو منصفانہ کمیشن تاکہ وہ ناجائز راستے نہ اپنائیں۔ پاکستان کو عالمی سطح پر بھی اپنی پالیسی واضح کرنی چاہیے۔ بھارت کو ایران سے تجارت کی اجازت ہے جبکہ پاکستان پر دباو¿ ڈالا جاتا ہے۔ ہمیں اپنے مفاد میں فیصلے کرنا ہوں گے۔ اقوام متحدہ ایران پر امریکی پابندیوں کو غیر قانونی قرار دے چکا ہے، اس لیے پاکستان کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ماحولیاتی اثرات بھی اہم ہیں۔ غیر معیاری ایندھن اور کیمیکلز فضائی آلودگی اور انسانی صحت دونوں کے لیے خطرناک ہیں۔ اس لیے سمگلنگ روکنا صرف معیشت نہیں بلکہ صحت اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے۔ اگر سرحدوں پر مکمل سختی اور مو¿ثر اقدامات کیے جائیں تو کم از کم 600 ارب روپے سالانہ بچائے جا سکتے ہیں۔ یہ وہ رقم ہے جو پاکستان کو قرضوں سے نجات دلانے کے لیے کافی ہے۔ آخر میں یہ حقیقت واضح ہے کہ سمگلنگ پاکستان کی معیشت کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ یہ مسئلہ صرف اقتصادی نہیں بلکہ سیاسی، سماجی اور اخلاقی بھی ہے۔ جب تک سخت نگرانی، شفاف ادارے، عوامی شعور اور ہمسایہ ممالک سے مو¿ثر تجارتی تعلقات قائم نہیں ہوں گے، یہ ناسور بڑھتا ہی رہے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، ادارے، تاجر اور عوام مل کر اسے روکیں، ورنہ آنے والے برسوں میں یہ معیشت کو مکمل طور پر مفلوج کر دے گا۔