اسلام آباد : عالمی بینک نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان کی معیشت پر حالیہ سیلاب کے اثرات پڑ رہے ہیں جس کی وجہ سے معاشی ترقی سست ہو سکتی ہے اور مہنگائی میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس مالی سال پاکستان کی معیشتی ترقی کی شرح تقریباً 2.6 فیصد رہ سکتی ہے، جب کہ حکومت نے 4.2 فیصد کا ہدف رکھا تھا۔ اگلے مالی سال ترقی کی شرح تقریباً 3.4 فیصد ہو سکتی ہے۔
عالمی بینک کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے معیشت کی بحالی میں رکاوٹیں آئیں گی اور مہنگائی کی شرح 7 فیصد سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
پنجاب میں زرعی پیداوار تقریباً 10 فیصد کم ہوئی ہے، خاص طور پر چاول، گنا، کپاس، گندم اور مکئی کی فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔ اس کے باعث خوراک کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور مالی خسارہ 5.5 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔ معیشتی ترقی کے لیے زرعی شعبے کو جلد بحال کرنا ضروری ہوگا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس سال غربت کی شرح تقریباً 44 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، مگر اگلے سال یہ تھوڑی بہت کم ہو کر 43 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
عالمی بینک نے کہا ہے کہ اگر حکومت محصولات بڑھائے، اخراجات میں کمی کرے اور زرعی شعبے کو بہتر کرے تو معیشت بہتر ہو سکتی ہے۔ پانچ سالہ اصلاحاتی منصوبے کے تحت ٹیرف کم کرنے سے برآمدات میں بھی اضافہ متوقع ہے۔سیلاب کی وجہ سے برآمدات کم ہوئی ہیں، لیکن ترسیلات زر اور تیل کی کم قیمتیں مالی توازن قائم رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔