Thu, September 17, 2026

سب سے پہلے پاکستان  

سب سے پہلے پاکستان  

  مذہبی عدم برداشت اور انتہاپسندی بھی کلاشنکوف اور منشیات کی سمگلنگ کے ہمراہ افغانستان کے راستے ہی پاکستان میں امپورٹ ہوئی جس نے چار دہائیوں کے اندر ملک کی تہذیب تمدن اور طرز معاشرت کو تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا۔مذہبی انتہا پسندی اور عدم برداشت نے صدیوں سے جڑے معاشرے کی بنت میں ایسا زہر گھولاکہ بھائی بھائی کادشمن بن گیااور معاشرے کے تاروپور بکھر کر رہ گئے ۔
رواداری اور برداشت کو یہ معاشرہ ترس کر رہ گیا.ریاست دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا حصہ بن کر ملک کے باہر دہشت گردی اور ملک کے اندر مذہبی عدم برداشت اور انتہاپسندی سے اپنی بریت کا اظہار کر چکی تھی لیکن کچھ نام نہاد دانشور اور مخصوص ذہنیت کے حامل لوگ آج بھی یہی بات دہراتے نظر آتے ہیں کہ یہ سب ریاست سپانسرڈ ہے. امریکہ یورپ اور دیگر عالمی طاقتوں کی عین ناک کے نیچے اپنا ایٹمی پروگرام مکمل کر کے دنیا کی نویں ایٹمی قوت بن جانا کوئی مذاق تھوڑا ہے۔

 ایٹمی قوت بننے کی کیا قیمت ہے یہ کوئی ایران عراق اور لبیا سے پوچھے اس کی کیا قیمت ہے? اس کا شمالی کوریا سے پوچھا جا سکتا ہے افغانستان پرروسی حملے اور بعد میں عالمی اتحادی قوتوں کے حملے کے عرصہ میں ملک کو محفوظ رکھ لینا ہی وہ اتنی بڑی خوبی ہے جس پر ریاست یا سیدھے الفاظ میں بات کی جائے تو عسکری اسٹیبلشمنٹ کو سات خون معاف کئے جا سکتے ہیں لیکن جو دانشور آج بھی اس معاملے پر ریاست کی عذر خواہی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں وہ بھی تو جواب دیں کہ اسی کی دہائی سے وہ کون لوگ تھے جنہوں نے پرائیویٹ جہاد کو پرموٹ کرنے کے لئے اخبارات کے صفحے کالے کر دئیے۔
ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی جتھا باہر نکل آتا ہے اور وہ پوری ریاست کو یرغمال بنا لیتا ہے۔  کیا ہم اپنی قسمت کے فیصلے ان دہشت گردوں کے حوالے کر دیں؟ہم اپنے بچوں کا مستقبل ان جتھوں کے حوالے کر دیں جیسا کہ تحریک لبیک پاکستان؟بظاہر نعرہ تو اتنا خوشنما ہے اور وہ کون مسلمان  ہے جو آقا نامدار وجہہ تخلیق کائنات سرکار محمد مصطفےﷺکے  نام پر قربان نہیں.
     ابھی کل کی بات ہے دوہزار اکیس میں جب عمران خان کی حکومت اپنے نصف النہار پر تھی تب بھی یہی لوگ تھے جنہوں نے ریاست کے اہلکاروں یعنی پولیس پر وہ تشدد کیا کہ الامان الحفیظ کئی ریاستی اہلکار اپنی جانوں سے گئے. کتنی سرکاری اور نجی املاک کا نقصان ہوا کتنی گاڑیاں جلیں لیکن آخر میں ہوا کیا حکومت اور تحریک کے درمیان ایک معاہدہ ہوا . یہی وہ زعم تھا جس کی بنیاد پر ایک ایسے وقت میں جبکہ غزہ فلسطین پر عالمی امن معاہدہ ہوگیا آخر ان لوگوں کو کیا ہواکہ یہ اسلام آباد میں واقع امریکی سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کرنے کے لئے نکل آئے کہ ہمیں کون پوچھے گا یہاں ایک منطقی سوال ہے جو ہر ذی شعور پوچھ رہا ہے کہ اسرائیل کم و بیش تین سال تک غزہ میں خون کی ہولی کھیلتا رہا لیکن اس وقت کسی کی غیرت ایمانی نہیں جاگی لیکن جب یہ معاملہ ایک عالمی امن معاہدے کے تحت غزہ کے مظلوموں کی دادرسی تک پہنچا تو تحریک لبیک پاکستان کیوں باہر نکل آئی?. جس کی بنیاد بنا وہ مریدکے آپریشن.
 ریاست اگر ماں جیسی ہے تو ریاست کا باپ والا کردار کیوں بھلا دیا جاتا ہے.  جدید اسلحہ سے مسلح نوجوان کیلوں والے ڈنڈے کینچے غلیلیں پتھروں سے بھری ٹرالیاں پٹرول سے بھر ے ٹینکریہ سب کس چیز کا بندوبست تھا . پولیس کی گاڑیاں ایمبولینسیں اور ریسکیو کی گاڑیاں چھین لینا  پھر آپریشن شروع ہونے سے پہلے کئی پولیس والے مظاہرین کے ہاتھوں اپنی جان کی بازی ہار چکے تھے جبکہ دو صد سے زائد سنگین نوعیت کے  زخمی ہیں اسی لیے آج پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بجا طور پر یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ ہم نے تو وطن اور عوام کی جان و مال کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں سینوں پر زخم کھائے لیکن ریاست انہی جتھوں کیساتھ صلح کر لیتی ہے۔
 آپریشن مریدکے    کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جعلی خبروں میں بیان کی گئی سینکڑوں لاشیں کہاں ہیں؟۔ بات صرف اتنی ہے کہ عالمی منظر نامے پر نظر کیجیے ملک دشمن قوتیں ملکی سالمیت کے درپے ہیں ایسے میں ملکی دفاع صرف افواج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر نہیں چھوڑا جا سکتا ملک کے ہر شہری کو اپنی افواج اور پولیس کے پیچھے کھڑا ہونا ہو گا ہمیں ان نان سٹیٹ ایکٹرز کے خلاف ایک آواز ہونا ہو گا کہ سب سے پہلے پاکستان۔

تحریر   :شفقت عمران بیورو چیف نیو ٹی وی گوجرانوالہ         


                         نوٹ: یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے ، اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

ٹیگز: