دنیا کی سیاست اور معیشت میں جغرافیہ ہمیشہ فیصلہ کن کردار ادا کرتا رہا ہے۔ بعض قومیں اپنی عسکری قوت سے طاقت حاصل کرتی ہیں، بعض اپنی معیشت سے جبکہ کچھ ممالک کو قدرت نے ایسا محلِ وقوع عطا کیا ہوتا ہے جو انہیں خطے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان انہی ممالک میں شامل ہیں۔ یہ دونوں ممالک ایک ایسے خطے کے سنگم پر واقع ہیں جہاں شمال میں وسائل سے مالا مال وسطی ایشیا ہے اور جنوب و مشرق میں توانائی کی شدید ضرورت رکھنے والی بڑی معیشتیں یعنی چین اور بھارت موجود ہیں۔ اگر اس جغرافیائی حقیقت کو دانشمندانہ پالیسی، امن اور علاقائی تعاون کے ذریعے استعمال کیا جائے تو پاکستان اور افغانستان نہ صرف اپنی قسمت بدل سکتے ہیں بلکہ پورے خطے کی اقتصادی سمت بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔
وسطی ایشیا جس میں ازبکستان، قازقستان، تاجکستان، ترکمانستان اور کرغزستان شامل ہیں ،قدرتی گیس، تیل، یورینیم اور نایاب معدنیات کے وسیع ذخائر رکھتا ہے۔ مگر ان ممالک کی سب سے بڑی کمزوری ان کا“Landlocked”ہونا ہے۔ سمندر تک براہِ راست رسائی نہ ہونے کے باعث ان کی تجارت اور توانائی کی ترسیل محدود رہتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان اور افغانستان کی اہمیت غیر معمولی ہو جاتی ہے۔پاکستان کی بندرگاہیں، بالخصوص Gwadar Port اور Port of Karachi، وسطی ایشیائی ریاستوں کو گرم پانیوں تک مختصر ترین راستہ فراہم کر سکتی ہیں۔ دوسری جانب افغانستان جغرافیائی طور پر وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک قدرتی پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ان راستوں کو پائپ لائنز، شاہراہوں اور ریل نیٹ ورکس کے ذریعے فعال بنا دیا جائے تو یہ خطہ عالمی تجارت کے ایک نئے مرکز میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب چین، جو دنیا کا سب سے بڑا توانائی استعمال کرنے والا ملک ہے وہ مسلسل نئے توانائی ذرائع کی تلاش میں ہے جبکہ بھارت کی معیشت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کی توانائی کی ضروریات میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان اور افغانستان وہ قدرتی راہداری بن سکتے ہیں جہاں“سپلائی”اور“ڈیمانڈ”آپس میں ملتی ہیں۔ اس جغرافیائی حقیقت سے دونوں ممالک سالانہ اربوں ڈالر کی ٹرانزٹ فیس، سرمایہ کاری، روزگار اور صنعتی سرگرمیوں کی صورت میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔تاہم اس عظیم امکان کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ افغانستان میں پائیدار امن اور ذمہ دار حکمرانی کا فقدان ہے۔ ایک ایسا افغانستان جو داخلی عدم استحکام، عسکریت پسندی اور پراکسی تنازعات کا شکار ہو کبھی بھی علاقائی تجارت کا محفوظ مرکز نہیں بن سکتا۔ کابل کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ افغانستان نے“تجارت کی راہداری”بننا ہے یا“تنازعات کی گزرگاہ” کیونکہ ایک لینڈ لاکڈ افغانستان کے لیے علاقائی روابط ہی معاشی بقا کا راستہ ہیں۔ اگر افغانستان قابلِ اعتماد تجارتی شراکت داری قائم کرنے میں ناکام رہتا ہے تو وہ مسلسل عالمی امداد پر انحصار اور اقتصادی تنہائی کا شکار رہے گا۔
امن اور تجارت کی راہداری افغانستان کے لیے صرف ٹرانزٹ فیس کا ذریعہ نہیں بلکہ لاکھوں افراد کے لیے روزگار، سرحدی تجارت، انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ اسی طرح پاکستان کو وسطی ایشیا تک براہِ راست رسائی، اپنی بندرگاہوں کے بہتر استعمال اور علاقائی تجارتی سرگرمیوں میں مرکزی حیثیت حاصل ہو سکتی ہے۔ یہ امکانات صرف ریاستی سطح تک محدود نہیں بلکہ عام پاکستانی اور افغان شہریوں کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں۔مگر یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب دہشت گردی، عسکری پناہ گاہوں اور سرحد پار حملوں کا خاتمہ ہو۔ کوئی بھی اقتصادی راہداری اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک خطہ عدم تحفظ کا شکار رہے۔ پاکستان بارہا یہ م¶قف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے موجودہ افغان انتظامیہ کی جانب سے بعض عناصر کے لیے نرمی یا خاموش سہولت کاری علاقائی انضمام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔پاکستان کی سلامتی کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں، خصوصاً سرحدی علاقوں اور بلوچستان میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کے خلاف م¶ثر کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کابل کو اپنی موجودہ پالیسیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا کیونکہ یہ رویہ نہ صرف پاکستان کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے بلکہ افغانستان کی اپنی اقتصادی اہمیت کو بھی ختم کر رہا ہے۔ افغان عوام کو یہ سوال خود سے پوچھنا ہوگا کہ آیا وہ ایک ایسا مستقبل چاہتے ہیں جو پراکسی جنگوں، تنہائی اور بدامنی سے عبارت ہو یا ایسا مستقبل جہاں تجارت، رابطہ کاری اور مشترکہ خوشحالی ہو۔
بلوچستان کی مثال اس تناظر میں نہایت اہم ہے۔ یہ صوبہ معدنیات، تانبے، سونے اور نایاب معدنی ذخائر سے مالا مال ہے۔ مگر دہشت گردی،بی ایل اے اور بیرونی سرپرستی میں چلنے والی تخریبی سرگرمیاں اس صلاحیت کو محدود کر رہی ہیں۔ بلوچستان میں امن صرف پاکستان کا داخلی مفاد نہیں بلکہ عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ کے اسٹریٹجک مفادات سے بھی جڑا ہوا ہے کیونکہ دنیا کو مستقبل میں محفوظ اور متنوع معدنی سپلائی چینز درکار ہوں گی۔امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ افغانستان کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر کردار ادا کرنے پر آمادہ کریں۔ عالمی برادری کے مفاد میں ہے کہ خطے میں محفوظ تجارتی راستے قائم ہوں، دہشت گرد تنظیموں کو پناہ نہ ملے اور علاقائی رابطہ کاری کو فروغ دیا جائے۔ اگر افغانستان بدامنی کو جاری رہنے دیتا ہے تو اس کا نقصان صرف پاکستان یا افغانستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کی اقتصادی ترقی متاثر ہوگی۔
المختصر! آج حقیقت یہی ہے کہ وسطی ایشیا کے پاس وسائل موجود ہیں، جنوبی اور مشرقی ایشیا کے پاس طلب موجود ہے جبکہ پاکستان اور افغانستان کے پاس وہ جغرافیائی راہداری موجود ہے جو ان دونوں کو آپس میں جوڑ سکتی ہے۔ اس پوری تصویر میں صرف ایک عنصر غائب ہے اور وہ ہے امن اور سلامتی۔ اور یہی امن بڑی حد تک کابل کی پالیسیوں اور رویوں میں تبدیلی سے مشروط ہے۔اگر افغانستان ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرے، دہشت گرد عناصر کے خلاف واضح کارروائی کرے اور علاقائی روابط کو اپنی قومی ترجیح بنائے تو پاکستان اور افغانستان مل کر پورے خطے کو اقتصادی خوشحالی کے ایک نئے دور میں داخل کر سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر یہ خطہ ایک بار پھر ضائع شدہ مواقع، بداعتمادی اور مسلسل تنازعات کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔وقت کا تقاضا یہی ہے کہ بندوق کی جگہ تجارت لے، سرحدیں نفرت کے بجائے روابط کا ذریعہ بنیں، اور پاکستان و افغانستان اپنی جغرافیائی حیثیت کو تنازع نہیں بلکہ ترقی کی بنیاد بنائیں۔