بھارت نے خود سے پہلگام کا واقعہ انجام دے کر الزام پاکستان پر عائد کرنے کے بعد ایک اضطرابی سی کیفیت پیدا کر دی تھی اور اس کے لیڈر بہت سخت لہجے میں بات کرنے لگ گئے۔ بھارت کے مزاج میں یہ سختی کیوں آ رہی ہے؟ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ بھارت اسرائیل اور امریکہ کی شہ پر اپنے آپ کو پاکستان سے بہت زیادہ طاقتور سمجھ رہا تھا اور یہ سوچ اس کے اندر فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ لیکن بھارت نے یہ نہیں سوچا کہ یہاں اس کے مدِ مقابل پاکستان ہے جو ایک ایٹمی قوت ہے۔ دوسرا 11 ستمبر کے بعد جو نئی دنیا وجود میں آئی ہے وہ دنیا کو اسی دور میں لے گئی ہے جب اس کرۂ ارض پر اصول، اخلاقیات اور قوانین طاقتوروں کے مزاج کے مرہونِ منت تھے۔ صدیوں کا سفر طے کر کے جدید دور تک پہنچنے والا انسان پوری طرح ابھی اخلاقیات کا سبق نہیں پڑھ سکا تھا کہ 11ستمبر کو نیو یارک اور واشنگٹن میں جو کچھ ہوا وہ تو سب کے سامنے ہے، اس ڈرامے کے نتیجے میں امریکہ نے ایسا ردِ عمل اختیار کیا جس میں انسانی اقدار اور تہذیبی حسن کا شائبہ تک نہ رہا۔ افغانستان، شام، عراق، لیبیا اور دیگر ممالک کو جس بری طرح جدید مشینری کے ذریعے کچلا گیا اور انسانی اقدار کی جس گھناؤنے انداز میں عصمت دری کی گئی، اس نے بہت سے سوالات کھڑے کر دئے۔
امریکی خارجہ پالیسی مکمل طور پر جھوٹ کا پلندہ ہے۔ اسامہ پکڑا گیا نہ ملا عمر نہ کوئی اور نہ کہیں سے کیمیائی ہتھیار برآمد ہوئے۔ کبھی جی چاہتا ہے تو یاسر عرفات کو امن کا پیامبر قرار دے کر نوبل پرائز دلوا دیا جاتا ہے جب جی چاہتا ہے تو اسے دہشت گرد بنا کر راندہ درگاہ کر دیا جاتا ہے۔ جمہوریت، امن او انصاف و صداقت کے لئے اس کا ڈھونگ بے نقاب ہو چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی رویے نے ساری مہذب دنیا کو خوفزدہ کر دیا اور امریکی بالخصوص حالیہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں سے واضح ہو گیا کہ انسانی حقوق کا احترام، رائے ،
آزادیٔ نسواں، انصاف اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی جیسے نقاب کی اب انہیں ضرورت نہیں بلکہ فسطائیت پر مشتمل منصوبوں اور نئی عالمی استعماریت اور جدید نو آبادیاتی نظریات پر عمل کرنے کے لئے طاقت کے اعلانیہ، ظالمانہ اور بے لگام استعمال کے سوا آگے بڑھنے اور دنیا پر اپنا تسلط قائم رکھنے کے علاوہ امریکہ کے پاس کوئی اور حربہ نہیں۔ یہ وہی ملک ہے جس کے نیچے زمین اور جڑیں ہی نہیں، یہ لوگ زبردستی پرائی زمین پر قبضہ اور مقامی باشندوں کی نسل کشی کر کے ایک ملک ایک برِ اعظم کے مالک بن بیٹھے ہیں اور جس سائنسی و صنعتی ترقی و تہذیب پر ان کو بڑا ناز ہے وہ ساری کی ساری یورپ سے اٹھا کر لائے ہیں۔ دیکھا دیکھی یہی کچھ اسرائیل فلسطین سے کرنے لگا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ بھارت نے پاکستان پر رات کی تاریکی میں میزائل داغ دئے یعنی 11 ستمبر کے بعد دنیا نو آبادیاتی فکر کے حامل ہر ملک کو اپنے شیطانی عزائم کی تکمیل کی شہ دے رہی ہے۔ جن اقدامات کے لئے طاقتور قوموں کو بھی سو سو بہانے تراشنے پڑتے تھے، اب وہ کھلے عام ہو رہے ہیں۔ مودی جو کہ ایک ہندو انتہا پسند تنظیم کا پروردہ ہے وہ بھی 11 ستمبر کے بعد جنم لینے والی دنیا کا فرزند ہے جو حق و انصاف کی تمام قدروں کو بے رحمی سے روندتا ایک غیر اصولی مٔوقف کی بناء پر خود ہی منصف بن بیٹھا۔
میں کسی چینل پر مبصر کو دیکھ رہا تھا کہہ رہا تھا کہ امریکہ کی بھارت کو آشیر باد حاصل نہیں ہے، میری اس سے رائے بالکل مختلف ہے بھارت پوری طرح اس کی شہ پر سب کچھ کر رہا ہے۔ امریکہ اس وقت صرف اس خطے میں بننے والے نئے بلاک سے نمٹنا چاہتا ہے۔ امریکہ سامنے آئے بغیر خطے کے بلاک کے لئے رکاوٹ بننا چاہ رہا ہے۔ جب کہ بھارت کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا متعصب ہندو ایک آنکھ بھی کسی مسلمان کو دیکھنا پسند نہیں کرتا چاہے وہ ان کا اپنا شہری بھارتی مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔ اس صورت حال نے برِ صغیر میں دیرینہ مسلم لیڈر شپ کے نظریات و تصورات کو سچ ثابت کر دیا ہے۔ ہندو لیڈر شپ نے سیکولر ملک بنا کر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو تحفظ دینے کا وعدہ کیا تھا وہ ہوا میں بخارات بن اڑ گیا ہے۔ پاکستان کا یہ استدلال بالکل درست ہے کہ جنگ اپنے ساتھ بہت تباہی لائے گی، دونوں ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں۔ ہماری حکومت کا لب و لہجہ شروع سے ہی مدبرانہ رہا ہے۔ اور وہ نہ اپنے آپ کو جنگی جنون میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں اور نہ ملک کو مبتلا کرنے کی بات سوچتے ہیں، لیکن وہ ببانگِ دہل یہ بھی کہہ رہے تھے کہ اگر بھارت نے کوئی ایسی حرکت کی تو ہم جواب دینے پر مجبور ہوں گے اور ہمارا جواب حیران کر دینے والا ہو گا۔ پھر ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ پاکستان نے کس طرح بھارت کو بے دست و پا کر کے رکھ دیا اور اس کے سہولت کار وعدے کے مطابق اس کی مدد کو بھاگے آ گئے۔
مجھے اس حوالے سے غالباً 2002ء کا بھارتی وزیرِ اعظم اٹل بہاری باجپائی کا بیان یاد آ گیا انہوں نے طاقت کے نشے میں کہا تھا کہ بھارت کشمیر کے کسی حصے کو پاکستان کے حوالے نہیں کرے گا۔ ہم نے بھگوان کی مدد سے اپنے پڑوسی ملک کو اتنی مشکل میں ڈال دیا ہے کہ بہت جلد دہشت گردوں کے خلاف بین الاقوامی مہم پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں ہو گی جہاں دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ ہیں۔ پاکستان کشمیر کا واویلا چھوڑ دے، کشمیر صدیوں سے بھارت کے ساتھ ہے اور مستقبل میں بھی رہے گا۔ یہ بھارت کی وہی سوچ ہے جب اس نے دیکھا کہ پاکستان افغان بارڈر سے بھی تشویش کی صورت میں ہے تو اس نے سازش کر کے پاکستان سے جنگ کی ٹھان لی۔ شروع سے بھارتی اربابِ اختیار کی یہی سوچ رہی ہے اور اب بھارت واضح طور پر حد سے پھلانگ رہا ہے پاکستان نے اس کے سامراجی ذہن کو نکیل ڈالنے کے لئے جرأت مندانہ اور دو ٹوک مٔوقف اختیار کیا۔ بھارت سرِ عام ہماری توہین پر اتر آیا، مودی ہمارا پانی بند کرنے کی باتیں کر رہا ہے، ہمیں خوش گمانیوں کو جھٹلا کر اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ امریکہ اور مغرب بھارت کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ کیا مودی کا تازہ عمل اس امر کا تقاضا نہیں کرتا تھا کہ ہم زیادہ باوقار طرزِ عمل اختیار کریں اور پھر ہمارے مسلح افواج نے ایسا ہی کیا۔