Thu, September 17, 2026

ہاتھ نہ کاٹیں مضبوط کریں

ہاتھ نہ کاٹیں مضبوط کریں

نصف صدی سے کچھ زیادہ عرصہ بعد حربی تاریخ میں قائم کردہ ایک ریکارڈ آج دنیا کو مختلف انداز میں یاد کرایا گیا ہے۔ جنگ ستمبر 65 میںپاکستان ائیرفورس کے بہادر بیٹے جناب ایم ایم عالم نے چند سیکنڈ میں بھارت کے پانچ طیارے مار گرائے اور ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا، اس کے بعد دنیا نے کئی جنگیں دیکھیں۔ ایسی کارکردگی کہیں نظر نہ آئی، نہ ہی ایسی عزت کسی کو نصیب ہوئی۔ اب چندروز قبل ایرانیوں نے اس تاریخ کو دہرایا ہے۔ ایرانی میزائلوں نے ایک ہی ھلے میں امریکہ کے پانچ جدید طیاروں کو سکریپ میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ طیارے اپنی منفرد خصوصیات کے علاوہ فضا سے فضا میں اڑتے طیاروں کو ایندھن بھرا کرتے تھے۔ یہ ایک اہم مشن کیلئے امریکہ سے اڑ کر ایک مسلمان ملک میں قائم امریکی فضائی اڈے پر کھڑے تھے کہ ان کی قضا آگئی۔ اک معرکہ فضا میں ہوا، ایک معرکہ زمین پر ہوا، دونوں کی اپنی اپنی جنگوں میں بہت اہمیت ہے۔ یہ طیارے کیا تباہ ہوئے ٹلیاں کھڑک گئیں، جس کے بعد کئی غلام ہاتھوں میں مشعلیں لئے بھاگتے دوڑتے ہانپتے کانپتے دربار میں حاضر ہوئے جہاں سراسیمگی کا عالم تھا۔
الجزیرہ نیوز نے اس کی مکمل کہانی بیان کی تو حیرت ہوئی کہ دس روز قبل اعلان کیا گیا تھا کہ ان کی فضا اور زمین ایران کے خلاف استعمال نہیں کرنے دی جائے گی۔ پھر کیا یہ جدید ترین امریکی طیارے وہاں چوری کھانے کے لئے جمع ہو رہے تھے۔ دنیا کو سمجھ لینا چاہئے کہ اب امریکہ کے پلے کچھ نہیں ، وہ اپنے بغل بچے اسرائیل کا دفاع نہیں کر سکا تو کسی اور کا کیا کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کر اپنا اصولی موقف دہراتے ہوئے کہا ہم اپنے خلیجی ممالک سے معذرت کرتے ہیں لیکن اگر انہوں نے اپنے اڈے ہم پر حملہ کرنے کے لئے امریکہ کو دیئے تو ہم ان پر دوبارہ حملہ کرنے کے لئے مجبور ہوں گے۔ آپ سب نے ہمارے خلاف ووٹ دیا، ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں، ایسے کردار کو ہم جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل سن لیں، ہم جنگ جاری رکھیں گے اور جو بھی بیچ میں آیا اسے نہیں چھوڑیں گے، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ مودی کہتا ہے اسرائیل کے قیام میں بڑی رکاوٹ ایران اور اکھنڈ بھارت کے راستے میں پاکستان حائل ہے۔ ہنود و یہود کا رچایا گیا کھیل مسلمانوں کو اب بھی سمجھ نہ آئے گا؟کاغذوں میں خودمختار اور خودار ملکوں کی مکاریاں آج بھی جاری ہیں۔ جارح کی فرمائش پر وہ آج ایران سے جنگ بند کرنے کے مطالبات کرتے نظر آتے ہیں۔ ذرا غور فرمائیے اگر آج ایران فاتح نہ ہوتا، اس کی پوزیشن کمزور ہوتی تو کیا یہ گروہ منافقین امریکہ اور اسرائیل پر دبائو ڈالتا کہ وہ فوراً جنگ بند کرے یقینا نہیں، ہم نے قریباً تین برس غزہ میں قیامت خیز بمباری دیکھی۔ آج جنگ بند کرانے میں پیش پیش گزشتہ تین برس فقط زبانی جمع خرچ کرتے نظر آئے۔ ان میں تو اتنی بھی طاقت نہ تھی کہ خوراک کے ایک لقمے اور پانی کے ایک گھونٹ کے لئے ترستے غزہ کے بچوں کو کھانا پینا ہی پہنچا سکتے۔ گروہ منافقین حملہ آوروں کی دبے لفظوں میں مذمت کے سوا کچھ کرتا نظر نہ آیا۔
گروہ منافقین جارح کے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے بہت پرجوش نظر آیا، مظلوم فلسطینی پکارتے رہ گئے کہ ’’پیس بورڈ‘‘ میں فلسطینی ریاست کے قیام کا کہیں کوئی ذکر نہیں مگر یہ سب اس بات پر مصر رہے کہ یہ بورڈ ہی فلسطین میں نہیں بلکہ دنیا کے ہر خطے میں امن کا ضامن ہو گا۔ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ بین الاقوامی فورم پر ایران پر حملہ کرنے والوں کے خلاف ووٹ نہیں دیا جاتا لیکن ایران اپنے دفاع میں اگر ادھر توجہ دے جدھر سے اس پر بمباری کے لئے طیارے پرواز کرتے ہیں تو اس کا جرم ناقابل معافی سمجھا جاتا ہے۔
جھوٹ اور مکر کے زور پر دنیا کو گمراہ کرنے والوں سے آج بھی کوئی نہیں پوچھ رہا کہ عراق کے کیمیائی ہتھیاروں کے بہانے اس کے تیل پر قبضہ کرنے والوں کو عالمی عدالت میں کیوں نہیں لایا گیا۔ عراق میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیوں نہیں کیا گیا۔ لیبیا، مصر، شام، یمن، سوڈان اور کشمیر کے ساتھ افغانستان کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کے لئے امریکی بندر کیوں سرگرم رہا پھر جب معاملہ انصاف کا آیا تو وزن برابر کرنے کے نام پر یہ مکار بندر کبھی ترازو کے ایک پلڑے میں رکھی روٹی کا ٹکڑا توڑ کر کھا جاتا تو کبھی دوسرے پلڑے میں پڑی روٹی پر ہاتھ صاف کرتا۔ بحالی حقوق اورانصاف کے حصول کے لئے اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی قرارداد کو جو ملک ہمیشہ ویٹو کرتے رہے وہ کن کے حقوق کا تحفظ کرتے رہے۔
جنگ بندی کے لئے ایران نے جو شرائط پیش کی ہیں، دنیا بھر کے استحصال زدہ ملک ان کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن امن دشمن امریکہ و اسرائیل کے بغل بچے ان شرائط کے خلاف بھونکتے نظر آتے ہیں۔ انہیں اس بات کی بہت تکلیف ہے کہ دو بین الاقوامی درندے ایران کو نگلنے میں کیوں ناکام رہے۔ وہ تو پھولوں کی پتیوں سے جھولیاں بھرے اس انتظار میں بیٹھے تھے کہ کب ایران غیرمشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کا اعلان کرتا ہے اور انہیں لڈیاں ڈالنے کا موقعہ میسر آتا ہے۔
ایران اگر جنگ بندی کی شرائط میں کہتا ہے کہ تاوان جنگ ادا کیا جائے۔ بلاجواز پچاس برس تک پابندیوں میں جکڑنے سے ہونے والے نقصان کا تدارک کیا جائے تو اس میں غلط کیا ہے۔ عقل کے اندھے بھول گئے کہ چند ماہ قبل امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جنگ تھوپی پھر بارہ دن بعد کہا کہ انہوں نے اپنے اہداف حاصل کر لئے ہیں۔ ایران کا جوہری پروگرام ہمیشہ کے لئے تباہ کر دیا ہے تو پھر دوبارہ حملے کا کیا جواز باقی تھا۔
ایران کی شرائط میں ایک شرط کا فائدہ اسے نہیں بلکہ درجن بھر مسلمان ملکوں کو ہے کہ یہاں بنائے گئے اپنے فوجی اڈے ختم کرے۔ یہ اڈے ان ملکوں کی حفاظت کے نام پر بنائے گئے تھے۔ عقدہ کھلا تو معلوم ہوا یہ سب کچھ اسرائیل کی حفاظت کے لئے تھا۔ امریکہ کو عظیم بنانے کے نام پر اسرائیل کو مضبوط بنانا تھا بلکہ فلسطین اور بالخصوص غزہ پر قبضے کے بعد گریٹر اسرائیل کے خواب کو حقیقت کا روپ دینا مقصود تھا۔ افغانستان کی جنگ کو پاکستان کی جنگ قرار دینے والے ذرا غور فرمائیں اور دنیا اس نکتے پر توجہ دے کہ ایران اپنی بقا کی جنگ کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک کی جنگ بھی لڑ رہا ہے۔ ایران ثابت قدم نہ ہوتا تو اسرائیل کا قبضہ مستحکم ہو چکا ہوتا اور تمام ملک اس کے حرم کی باندیاں بن چکے ہوتے۔ ایران جنگ جاری رکھے، تمام مسلمان ملک اپنی پشت بچانے کی بجائے ایران کی پشت پر کھڑے ہوں، اس کے ہاتھ مضبوط کریں، اس کے ہاتھ نہ کاٹیں۔

ٹیگز: