مجھے اس بات پر کوئی حیرت نہیں کہ صدر زداری نے سندھ کے شہر مورو میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مل کر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ مضبوط کرنے کے عہد کی تجدید کی ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ پاکستان کی کونسی سیاسی جماعت ہے جس نے ابھی تک یہ فریضہ سرانجام نہیں دیا اور تاحال اس پر عمل پیرا بھی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے فرمایا تھا ”میں نے ایک کٹی پھٹی فوج کو دنیا کی بہترین فوج بنایا“۔ ایسا مقالاتِ بھٹو میں لکھا ہے۔ اس میں دوسری رائے نہیں کہ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد فوج کو قوم کی طرف سے جس اخلاقی مدد کی ضرورت تھی بھٹو نے اُس کیلئے دن رات ایک کیا۔ بھٹو کھلے عام کہتا تھا ”تم بہادر ماو¿ں کے بیٹے ہو اور ایک عالمی سازش کا شکار ہوئے ہو“۔ یہاں تک تو بات ٹھیک ہے۔ ہر پاکستانی چاہتا ہے کہ پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین فوج ہو اور وقار کے ساتھ پاکستان کا دفاع کرے اور حالیہ پاک بھارت جنگ میں بھارتی آپریشن سندور کے رد عمل میں بھارت کو دنیا میں جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے اُس سے پوری دنیا آگاہ ہے۔ بھارتی سیاستدان اور فوجی جنتا اس ذلالت کا حساب چکتا کرنے کیلئے آپریشن سندور ٹو کی گیدڑ بھبکیاں بھی دے رہے ہیں لیکن وہ دن ہوا ہوئے کہ جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ بھارت اپنی آخری شکست تک پاکستان کو صرف نقصان پہنچانے کا سوچ ہی سکتا ہے لیکن ایسے کسی عملی اقدام کی صورت میں اُسے سوائے ذلت آمیز شکست کے اور کچھ ہاتھ نہیں لگے گا۔ موجودہ فیلڈ مارشل آرمی چیف عاصم منیر نے جنگ اور سفارتی کاری کی نئی تاریخ رقم کی ہے اور یہ کارِ خیر ابھی تک جاری و ساری ہے۔ بھارت اپنے زخم چاٹنے سے ابھی تک فارغ نہیں ہوا اور گودی میڈیا خود فیلڈ مارشل کی مقبولیت کی وجہ مودی سرکار سے پوچھنا شروع ہو چکا ہے۔ امریکی صدر کبھی سعودیہ اور کبھی بھارت سے ناراض ہو کر عجیب و غریب بیانات داغ دیتا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک کو دھمکیاں دینے سے باز نہیں آ رہا۔ ہر کسی سے پنگا امریکی صدر مسٹر ٹرمپ کاشغل ہے، وہ اپنے ہی بیانات سے انحراف یا یوٹرن لیتے کوئی شرم محسوس نہیں کرتا بلکہ شاید وہ اسے سپر پاور کا تفاخر سمجھتا ہے لیکن ایک کام جو امریکی صدر تواتر اور تسلسل سے کر رہا ہے وہ پاکستان کے وزیر اعظم شہیاز شریف اور فیلڈ مارشل آرمی چیف عاصم منیر کی تعریفوں کے پل ہیں جو وہ باندھتا چلا جا رہا ہے۔ ہر دوسرے دن وہ ایسی کوئی نہ کوئی تعریفی سند جاری کر دیتا ہے جو ایک طرف یوتھیا برگیڈکیلئے تکلیف دہ ہوتی ہے تو دوسری طرف مودی سرکار اور ہندو انتہا پسند بی جے پی کے ورکروںکی نیندیں حرام کر دیتی ہے۔ پاکستان سوائے مہنگائی کے کسی بہت بڑے مسئلے سے دوچار نہیں ہے جس کے بارے میں عام آدمی کی رائے ہے کہ ایران امریکہ تنازع ختم ہوتے ہی مہنگائی کا گراف بھی نیچے آئے گا۔ ان حالات میں صدر آصف علی زرداری کا یہ بیان کے ہم اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ مضبوط کریں گے، میری سمجھ سے باہر ہے۔ ویسے بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ رہی ہے ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر محترمہ بے نظیر بھٹو تک سب نے پاکستان کے دفاع پر کبھی پس و پیش سے کام نہیں لیا وہ ایٹمی پروگرام تھا یا پھر میزائل ٹیکنالوجی۔ محترمہ کی شہادت پر صدر آصف علی زرداری کا ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ انہوں نے بدترین حالات میں بھی پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ موجودہ حالات میں ایسے کسی بیان کی ہرگز ضرورت نہیں تھی کہ پیپلز پارٹی جسے اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاسی جماعت سمجھا جاتا ہے اُس کے کرتا دھرتا کی طرف سے ایسا بیان آنا انتہائی عجیب و غریب ہے جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف صرف فوج کو اسٹیبلشمنٹ سمجھتی اور کہتی ہے لیکن حقیقت میں تو یہ غیر رسمی سیاسی اصطلاح بہت سے انتظامی اداروں کیلئے استعمال ہوتی ہے جس میں سول بیوروکریسی اور انٹیلجنس اداروں کو بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ صدر آصف علی زرداری اگر صرف فوج کو مضبوط کرنے کی بات کرتے تو یہ ہمیشہ پیپلز پارٹی کا منشور رہا ہے کہ اُس نے پاکستان کے دفاع پر کبھی نرم رویہ نہیں دکھایا۔ اس کی ایک وجہ ذوالفقار علی بھٹو کی دلی کے لال قلعہ پر جھنڈا لگانے کی خواہش بھی تھی جو ازاں بعد گھاس کھا کر بھی ایٹم بم بنانے کی خواہش میں تبدیل ہو گئی۔ آج ایٹم بم بھی بن چکا اور گھاس بھی کھا رہے ہیں، بھٹو واقعی کوئی ولی یا درویش تھا۔ بہرحال آج پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے کا سہرا کوئی بھی اپنے سر باندھ لے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس پروگرام کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی نے دیں۔ آصف علی زرداری کے اس بیان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے انقلابی لیڈروںکو بیک فٹ پر لا کھڑا کیا ہے کیونکہ ایسے بیان کو وہ رد انقلاب سمجھتے ہیں۔ ویسے جس انقلاب کی بات بھٹو صاحب نے کی تھی، اُسے دفن ہوئے تو ویسے ہی مدتیں ہو چکی ہیں۔ میں تو پیپلز پارٹی کو ویسے بھی پاکستانیوں کا رومانس سمجھتا ہوں کہ لوگ اُسے ووٹ دیں یا نہ دیں لیکن پاکستانی بھٹو اور بے نظیر سے محبت کرتے ہیں اور یہ باپ بیٹی کا سیاسی کردار ہی ہے کہ پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت یا سیاسی لیڈر اُن سے اختلاف کر کے یا پھر انہیں بُرا بھلا کہہ کر سیاست نہیں کر سکتا۔ صدر آصف علی زرداری کو کھل کر فوج کے ہاتھ مضبوط کرنے کی بات کرنی چاہیے تھی کیونکہ حقیقت میں وہ یہی کہنا چاہتے تھے لیکن شاید آصف علی زرداری بھی سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ صرف افواج ہی ہیں، سو انہوں نے افواج پاکستان کا نام لینے کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کہنا ہی مناسب سمجھا۔
گلگت بلتستان کا الیکشن اور لوگوں کا جوش و خروش عروج پر پہنچ چکا ہے۔ بلاول اور سعد رفیق وہاں پہنچ کر اپنے اپنے انتخابی منشور سے متعلقہ اعلانات کر رہے ہیں۔ میاں نواز شریف اور عبد العلیم خان بھی انتخاب سے قبل گلگت میں متوقع ہیں۔ آئی پی پی پہلی بار گلگت انتخاب میں اُتری ہے اور میری معتبر اطلاعات کے مطابق ابھی تک چار نشستوں پر آئی پی پی کے امیدوار میدان مار چکے ہیں البتہ الیکشن کے دن کا انتظار کرنا ہو گا۔ آئی پی پی لاہور اور پنجاب کی قیادت بھی اس وقت جی بی میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ مسلم لیگ ن نے سو ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کر دیا ہے یقینا مرکزی حکومت کے پاس خزانہ اور طاقت کی فراوانی ہوتی ہے اور یہی وہ جال ہے جس میں عام آدمی ہمیشہ اس امید کے ساتھ پھنس جاتا ہے کہ شاید اس بار کچھ بہتر ہو جائے لیکن سیاست ایک ایسے عمل کا نام ہے جو آپ کو روزانہ کرنا ہوتا ہے اور ہر لمحے کرنا ہوتا ہے۔ الیکشن کے بعد اپنے وعدوں پر پورا نہ اترنے والے امیدوار اور اُن کی سیاسی جماعتیں بے توقیر ہو جاتی ہیں۔ بلاول بھٹو کی موجودگی سے بھی الیکشن کی گہما گہمی میں اضافہ ہوا ہے کہ بلاول دیکھنے اور سننے کی چیز تو ہے نا۔ خواہ آصف علی زرداری جس کے مرضی ہاتھ مضبوط کرتے پھریں۔