Wed, September 16, 2026

اب گیند میاں انجم نثار کے کورٹ میں ہے!

اب گیند میاں انجم نثار کے کورٹ میں ہے!

ٹریڈ سیاست میں حکومت کی جانب سے پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں تجارتی تنظیمیں ایکٹ 2013ءمیں ترمیم کرتے ہوئے 2023ءکے ایکٹ کو 2024ءمیں منظور کرتے ہوئے یہ عندیہ دے ڈالا کہ جو انتخابات 2024ءمیں ہوئے تھے وہ اب دوبارہ نئے ایکٹ کے تحت 2025ءمیں ہوں گے جبکہ پہلے طے شدہ شیڈول کے تحت 2026ءمیں تمام ٹریڈ باڈیز کے انتخابات ہونا تھے جبکہ فیڈریشن چیمبرز کے انتخابات روٹین کے تحت سال رواں دسمبر میں منعقد ہونا ہیں۔ حکومت کی طرف سے نئے ایکٹ کو نافذ کرنے کے ساتھ ہی ایسوسی ایشنز، چیمبرز اور فیڈریشن چیمبرز کی طرف سے شدید ردعمل دیکھنے کو ملا۔ خاص کر لاہور چیمبر نے پنجاب بھر کے چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کو اپنے ہاں دعوت دے کر باقاعدہ یہ اعلان کیا کہ وہ کسی بھی صورت اس ایکٹ کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اس کے بعد یہی ردعمل فیڈریشن چیمبرز کی طرف سے آ گیا کہ ہم سب مل کر نہ صرف اس ایکٹ کے خلاف حکومت سے بات کریں گے بلکہ 2025ءکی بجائے یہ انتخاب 2026ءکو ہی ہوں گے۔ میرے ذرائع کے مطابق تمام ٹریڈ باڈیز بشمول فیڈریشن آف چیمبر کے پس پردہ معاملات چل رہے ہیں اور زیادہ چانسز اس بات کے ہیں کہ 2025ءنہیں 2026ءٹریڈ کے انتخابات کا سال ہے۔ صرف فیڈریشن کے انتخابات طے شدہ شیڈول کے تحت دسمبر 2025ءہی میں ہوں گے۔ 
دوسری طرف دیکھا یہ جا رہا ہے کہ تمام ٹریڈ باڈیز نے اس جنگ کو لڑنے کے ساتھ یہ ذہن بھی بنا لیا ہے کہ انتخابات ہونے کی صورت میں کیا لائحہ عمل اختیار کرنا ہے۔ لاہور چیمبر کی موجودہ باڈی جو ٹرائیکا اتحاد پر مشتمل ہے وہاں سے انتخابات لڑنے کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ نئے اتحاد بننے اور موجودہ سیٹ اپ میں تبدیلیوں کے اشارے بھی مل رہے ہیں بہرحال ابھی تمام چیزیں قبل از وقت ہیں۔ یہاں ہر کوئی اپنی اپنی بولی بول رہا ہے۔ رمضان المبارک کا برکتوں کا مہینہ ہوتا ہے۔ جو ہونا ہے وہ رمضان المبارک کے بعد ہی ہوگا۔ 
گزشتہ دنوں میں نے پی جی بی کے چیئرمین ایس ایم تنویر سے ملاقات کے دوران جب اس ایکٹ کے بارے سوال کیا تو انہوں نے بہت سی باتوں میں ایک بڑی بات یہ کی کہ میرے نزدیک ٹریڈ باڈیز کے انتخابات پہلے ہر سال ہوا کرتے تھے پھر انہی کے درمیان میں سے چند لوگوں نے اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لئے دو سال کا ایکٹ پاس کرا لیا۔ یہ غلط ہوا اور جب یہ ہو رہا تھا تو کسی نے احتجاج نہیں کیا۔ اصل احتجاج تو یہ بنتا ہے کہ اس ایکٹ کو ختم کرایا جائے۔ دو سالہ مدت میں بڑی پیچیدگیاں دکھائی دیں۔ یہاں بھی صدارت کے مسئلے پر بڑی باتیں سننے کو ملیں لہٰذا پہلی بات تو یہ ہے کہ اس سسٹم کو ختم کرانے پر کام ہونا چاہئے۔ اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز ایک میز پر آئیں اور حکومت کو اس بات پر قائل کریں کہ وہ دو سالہ مدت کے انتخابات کی بجائے اس کو 2012ءکے سسٹم میں لے جائے اور یہ اس لئے کرنا ہوگا کہ ہمارے پاس بہت نوجوان قیادت موجود ہے۔ ہمیں ان کو قیادتیں دے کر ٹریڈ کے حسن کو اور نمایاں کرنا ہے۔ میرے نزدیک ایس ایم تنویر کے اس موقف کو تمام ٹریڈ باڈیز آگے لے کر چلیں اور جن لوگوں نے ایک سازش کے تحت ماحول کو خراب کیا ان کو بے نقاب کیا جائے جو ٹریڈ کے مفادات کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں میری گفتگو دوسرے لیڈران سے بھی ہوئی ہے۔ ان میں سے اکثریت کا یہی موقف ہے کہ دو سالہ مدت کی بجائے ایک سالہ مدت کی جائے۔ اس سے جہاں ماحول ٹھیک رہتا ہے وہاں دوسروں کو آگے آنے میں جلدی مواقع ملتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ مواقع ملیں گے تو پھر نئی لیڈرشپ بھی سامنے آئے گی۔ یہاں مجھے اسد اللہ غالب کا یہ شعر بہت یاد آ رہا ہے۔ 
غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے
بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفان کئے ہوئے
2025ءکا ایکٹ بنوانے میں کس نے کہاں کیا رول ادا کیا اور اس کے پیچھے کون سے عوامل تھے اور لوگ ہیں۔ یہ جاننے والے جانتے ہیں اس تمام تر کہانی کے پیچھے کے تمام کردار بھی میرے سامنے ہیں۔ وقت آنے پر انشاءاللہ نشاندہی کروں گا۔ میرے نزدیک آج سب سے بڑھ کر ٹریڈ باڈیز کو ایک بڑے اتحاد کی ضرورت ہے اور یہ اتحاد اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ٹریڈ کی بڑی قیادت اپنے اقتدار کے تمام مفادات کو ختم کرکے صرف اور صرف تاجروں کے حقوق کے لئے ایک آواز ہو کر بات کریں گے گزشتہ دنوں میری دو بڑی شخصیات چیئرمین فاﺅنڈر میاں مصباح الرحمن اور پی بی جی کے چیئرمین ایس ایم تنویر سے ملاقات ہوئی۔ دونوں کے ساتھ دوران گفتگو جو میں نے خاص بات نوٹ کی کہ دونوں شخصیات کا یہ موقف کہ پیاف کے میاں انجم نثار کے ساتھ ان دونوں کے کسی بھی طرح کے اختلافات نہیں ہیں اور دونوں لیڈران کا یہ موقف بھی کہ انجم نثار ایک بڑا لیڈر اور اس کے پیچھے تیس سال کی طویل جدوجہد ہے اور تاجروں کے مفادات کے لئے ہم نے بہت عرصہ اکٹھے کام کیا ہے اور پھر کریں گے۔ ان کا یہ موقف بھی ہے کہ انتخابی ماحول کو گروپس کی سیاست کا حصہ نہ بنایا جائے۔ میرے نزدیک یہ بہت ہی پازیٹو پیغام ایک دوسرے کو گلے ملانے کے لئے موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ 
اور آخری بات....
وہ نئے گلے اور شکایتیں، وہ مزے مزے کی حکایتیں
وہ ہر ایک بات پہ ہنسنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو 
کبھی بیٹھے سب میں جو روبرو تو اشاروں ہی سے گفتگو
وہ بیان شوق کا برملا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
اچھے لیڈر کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ انتخابات کی بجائے ایک دوسرے کے قد کو تسلیم کریں۔ انتخابات نے سال دو سال بعد ہونا ہے اور انتخابات میں سب چلتا ہے مگر انتخابات کے بعد حالات کو اچھے ماحول میں لے جانا اب ذمہ داری میاں مصباح الرحمان، ایس ایم تنویر، میاں انجم نثار اور علی حسام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ مل کر ایسا لائحہ عمل بنائیں جس سے تاجروں کو الزامات کی سیاست سے باہر نکالا جائے اور جب تک یہ تینوں یکجا نہیں ہوں گے کوئی بات نہیں بنے گی۔ اصل بات ہے ایک دوسرے کے قد کو تسلیم کرنا اور دونوں بڑوں نے انجم نثار کے قد کو تسلیم کرکے بڑے پن کا ثبوت دیا ہے۔ اب گیند میاں انجم نثار کے کورٹ میں ہے۔ جہاں تک ٹریڈ انتخابات کو ایک سے دو سالوں تک لے جانے کے معاملے کی بات ہے تو پھر کوئی شیخ عرفان اقبال، میاں نعمان کبیر اور میاں طارق مصباح سے پوچھ سکتا ہے کہ انہوں نے DGTO کو کیوں خطوط لکھے اور دوسرے چیمبرز سے بھی لکھوائے گئے پھر یہ کیوں کہا گیا کہ فیڈریشن کے دو تو باقی چیمبرز میں ایک سالہ مدت ہونی چاہئے۔ دیکھنا تو یہ ہے کہ اس جڑ کے بیج کس نے بوئے۔ راکھی کس نے باندھی اور پھل کس نے کھایا۔

ٹیگز: