Wed, September 16, 2026

میاں ممتاز محمد خان دولتانہ، میر ظفر اللہ خان جمالی، میاں عامر محمود

 میاں ممتاز محمد خان دولتانہ، میر ظفر اللہ خان جمالی، میاں عامر محمود

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کوئی نیا نہیں ہے۔ سیاسی رہنمائوںکی طرف سے وقتاً فوقتاً اس بارے آواز اٹھائی جاتی رہی ہے۔ ممتاز سیاستدان اور پاکستان مسلم لیگ کے منتخب صدر میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے 1960ء کی دہائی کے آخر میں صدر جنرل آغا محمد یحییٰ خان کی حکومت کو تجویز دی تھی کہ ون یونٹ کو ختم کرکے مشرقی پاکستان کے کم از کم تین صوبے بنادیے جائیں۔ انہیں یقین تھا کہ اس اقدام کی بدولت پاکستان کی وحدت کے خلاف بھارتی سازشوں کا قلع قمع ہوجائے گا اور مشرقی پاکستان کے عوام کو لاحق مسائل بھی حل ہوجائیں گے تاہم ان کی تجویز پر حکومت نے عمل درآمد نہ کیا۔ یاد رہے کہ -14اکتوبر 1955ء کو مغربی پاکستان کو ’’ون یونٹ‘‘ قراردے دیا گیا تھا جسے مشرقی پاکستان کے عوام خود سے ناانصافی تصور کرتے تھے۔ سابق وزیراعظم پاکستان میر ظفر اللہ خان جمالی نے 22مئی 2009ء کو ادارۂ نظریۂ پاکستان میں اپنے خطاب کے دوران عوام کی سہولت کے لیے پاکستان کے موجودہ صوبوں میں سے ہر ایک کے دو یا تین مزید صوبے بنانے کی تجویز دی تھی تاہم اس کے لیے یہ شرط عائد کی تھی کہ یہ عمل تمام صوبوں کے اتفاق رائے سے سرانجام دیا جائے۔ 
تحریک پاکستان کے نوجوان رہنما مولانا عبدالستار خان نیازی نے بھی 1996ء میں پاکستان کے 15صوبے بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔ چند روز قبل سینیٹر فیصل واوڈا نے بھی معروف اینکر پرسن مہر بخاری کے پروگرام ’’دنیا مہر بخاری کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کی ہے۔ ان تمام تجاویز کا مقصد پاکستان میں گڈگورننس کو یقینی بنانا اور گراس روٹ لیول پر عوام کی مشکلات و مسائل کا سدّباب کرکے انہیں ترقی کے ثمرات سے بہرہ مند کرنا ہے۔ شخصیات کے علاوہ علاقائی سطحوں پر بھی نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ گاہے گاہے سامنے آتا رہا ہے جن میں جنوبی پنجاب، ہزارہ، بہاولپور، پوٹھوہار اور کراچی وغیرہ شامل ہیں۔ 
پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام کوئی انوکھی بات نہیں ہوگی۔ پاکستان سے دو سال اور تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد آزاد ہونے والے عوامی جمہوریہ چین کے یکم اکتوبر 1949ء کو 22صوبے تھے جبکہ آج ان کی تعداد 34ہے۔ یکم اکتوبر 1960ء کو جب نائیجیریا نے آزادی حاصل کی تو اس کے صرف 3صوبے تھے لیکن آج 36ہیں۔ اسی طرح -17اگست 1945ء کو انڈونیشیا نے آزادی حاصل کی، تب اس کے صرف 8صوبے تھے ،اب 38صوبے ہیں۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں آج 28صوبے یا ریاستیں اور 8انڈین یونین علاقہ جات ہیں ۔
ضرورت اس بات کی تھی کہ انگریزوں کی طرف سے قائم کردہ یہ صوبائی ڈھانچہ حصولِ آزادی کے فوراً بعد تبدیل کرلیا جاتا اور بڑے صوبوں کی بجائے چھوٹے انتظامی یونٹس تشکیل دے کر عوام کو سہولت پہنچائی جاتی۔ اصل اہمیت تو پاکستان کے عوام کے مفادات کو حاصل ہے‘ لہٰذا صوبوں کے ڈھانچے تبدیل کرکے مزید نئے صوبوں کے قیام سے آسمان سر پر نہیں گر پڑے گا۔ 
ہمیں یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ 1951ء کی پہلی مردم شماری کے مطابق اس وقت مشرقی اور مغربی پاکستان کی کل آبادی 7کروڑ 50 لاکھ کے قریب تھی اور آج موجودہ پاکستان کی آبادی 24کروڑ سے بھی زائد ہوچکی ہے تاہم انتظامی ڈھانچہ وہی پرانا ہے۔ اس کی ذمہ دار وہ حکمران اشرافیہ ہے جو نسل در نسل اس ملک کے راج سنگھاسن پر براجمان رہی ہے۔ ان کی کوتاہیوں اور غفلت کا شاخسانہ ہے کہ آج پاکستان کے عوام مسائل کے گہرے سمندر میں غرق دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے باعث دستیاب قومی وسائل اور عوامی مسائل میں شدید عدم توازن پیدا ہوچکا ہے جسے دور کرنا ہماری قومی وحدت و سلامتی‘ یک جہتی و اچھی طرز حکمرانی‘ تیزتر اقتصادی ترقی اور ملک کے روشن اور محفوظ مستقبل پر عوام کے اعتماد کو مضبوط کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ اس کی بدولت لسانیت‘ صوبائیت اور علاقائیت کی بنیاد پر نفرت انگیز سیاست کرنے والے انتشاری ٹولوں اور بھارت نواز غداروں کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی۔ سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کے نوجوانوں کو جو ہماری کل آبادی کا لگ بھگ 60فیصد ہیں‘ وافر روزگار بھی میسر آئے گا۔ صوبائی سرحدوں کے ازسرنو تعین کی بدولت صوبوں کے تنازعات اپنی موت آپ مر جائیںگے۔ سیاست میں روایتی سیاسی خانوادوں کی اجارہ داری ختم ہوگی اور حقیقی عوامی نمائندے سیاست میں اوپر آسکیں گے۔وسائل کی غیر مساوی اور غیر منصفانہ تقسیم ختم ہوجائے گی اور ملک کے پسماندہ علاقوں کے عوام کی زندگیوں میں بہتری پید اہوگی۔ مقامی حکومتوں کا نظام مضبوط بنیادوں پر استوار ہوسکے گا جس کے خوشگوار اثرات سے عوام براہِ راست مستفید ہوں گے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کی طرف سے صوبائی منافرت کو ہوا دینے کی سازشیں دم توڑ جائیں گی۔ 
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی قیادت سر جوڑ کر بیٹھے اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر صرف اور صرف پاکستانی عوام کی بھلائی اور انہیں اچھی حکمرانی سے فیض یاب کرنے کی خاطر Provinces Reconstructing Commission کے قیام پر اتفاقِ رائے پیدا کرلیں اور اس کی خاطر آئین میں ضروری ترامیم بھی کرلیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر افغانستان جیسے چھوٹے ملک میں 34، ایران میں 31،انڈونیشیا میں 38 اور ترکی میں 81صوبے بنائے جاسکتے ہیں تو ہمارے اپنے ملک میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟ یہ کام کسی انتظامی حکم نامے یا آرڈی نینس کے ذریعے کرنا مناسب نہ ہوگا بلکہ اسے پارلیمنٹ یعنی قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے پایۂ تکمیل تک پہنچایا جانا چاہیے۔ 
 وطن عزیز کے معروف بزنس مین‘ دنیا میڈیا گروپ اور پنجاب گروپ کے چیئرمین میاں عامر محمود نے بھی صوبوں کی از سرنو تقسیم کے بارے میں انتہائی قابل عمل تجاویز پیش کی ہیں جن کی کسی حلقے کی جانب سے مخالفت کا کوئی امکان نہیں ہے بلکہ ہر محب وطن پاکستانی انہیں پسند کرے گا۔ ان کمال کی تجاویز پر عملدرآمد سے عوام کو لاحق دیرینہ مسائل کا موثر انداز میں سدباب ہو جائے گا۔ میاں عامر محمود نے 20اگست کو لاہور میں ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان کے تحت منعقدہ سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ملک و قوم کے آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر ڈویژن کو نیا صوبہ بنا دیا جائے۔ ان چھوٹے صوبوں کی بدولت مالی اخراجات کم ہو جائیں گے اور سسٹم و گورننس ٹھیک ہونے سے عوامی مسائل تیزی سے حل ہوں گے۔ زیادہ صوبے بننے سے عدالتی نظام بھی بہتر ہو جائے گا کیونکہ 33ہائی کورٹس کی بدولت مقدمات کے فیصلے جلد ہو سکیں گے اور عوام کو فوری انصاف مل سکے گا۔نئے صوبے بننے سے بلوچستان میں جاری شورش کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔‘‘
قارئین کرام! مذکورہ بالا تجاویز پر سنجیدگی سے غور و فکر کی ضرورت ہے کیونکہ آج کل ہمیں گڈگورننس کے جس بحران کا سامنا ہے‘ اس سے نجات کے لیے چھوٹے انتظامی یونٹس کی صورت نئے صوبے بنائے جانے ضروری ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس اقدام کی علاقائی قوم پرست جماعتوں کی طرف سے شدید مخالفت کی جائے گی تاہم ملک و قوم کے حقیقی وسیع تر مفاد میں ایسا کیے بغیر چارہ نہیں۔ نئے صوبوں کی تشکیل میں مزید تاخیر سے عوامی مسائل میںاور زیادہ اضافہ ہوگا جوہمارے قومی اتحاد اور یک جہتی کے لیے نقصان  دہ ہے۔  

ٹیگز: