Thu, September 17, 2026

تجارت سے ترقی تک، جی ایس پی پلس رپورٹ میں پاکستان کی کامیابیوں کی عالمی توثیق

تجارت سے ترقی تک، جی ایس پی پلس رپورٹ میں پاکستان کی کامیابیوں کی عالمی توثیق

اسلام آباد: یورپی یونین کی جی ایس پی پلس رپورٹ میں پاکستان کی برآمدی کارکردگی، معاشی شراکت داری اور اصلاحاتی اقدامات کو نمایاں قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تجارتی سہولت نے پاکستانی معیشت، روزگار اور صنعتی شعبے کے لیے اہم مواقع پیدا کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان جی ایس پی پلس اسکیم کا سب سے بڑا مستفید ملک ہے، جبکہ یورپی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مضبوط رسائی اس سہولت کے مؤثر استعمال کی عکاس ہے۔ 2024 میں جی ایس پی پلس کے تحت اہل پاکستانی برآمدات کا حجم 7.482 ارب یورو رہا، جس میں سے 7.115 ارب یورو کی برآمدات نے ترجیحی سہولت سے فائدہ اٹھایا۔

یورپی یونین کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے جی ایس پی پلس سہولت کے استعمال میں 95.1 فیصد شرح حاصل کی، جو برآمدی شعبے کی تیاری، مسابقت اور عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی رہی، جہاں پاکستان کی مجموعی برآمدات کا 28 فیصد حصہ پہنچا۔ 2024 میں پاکستان کو تقریباً 732 ملین یورو کی ٹیرف چھوٹ حاصل ہوئی، جس سے پاکستانی برآمد کنندگان کو نمایاں تجارتی فائدہ ملا۔

یورپی یونین نے ٹیکسٹائل، کپڑے، چمڑے، تیار شدہ غذائی مصنوعات اور دیگر صنعتی شعبوں کی کارکردگی کو بھی سراہا ہے۔ ان شعبوں میں جی ایس پی پلس سہولت کے استعمال کی شرح 93.6 فیصد سے 97.7 فیصد کے درمیان رہی، جس سے برآمدات کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی برقرار رہے۔

رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے جی ایس پی پلس سے متعلق 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد جاری رکھنے کو مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ یورپی یونین کے مطابق پاکستان نے عالمی معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کیں اور رپورٹنگ کے تقاضے برقرار رکھے۔

انسانی حقوق، انصاف اور سماجی شعبوں میں بھی پاکستان کی پیش رفت کو رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو 2024 میں GANHRI اے اسٹیٹس ملنے، جیل اصلاحات، عدالتی تربیت، انسداد تشدد اقدامات اور عدالتی نظام میں بہتری کو اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔

رپورٹ میں سزائے موت کے دائرہ کار کو محدود کرنے، دسمبر 2019 کے بعد پھانسیوں پر عمل درآمد نہ ہونے اور صدارتی رحم کے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

خواتین اور بچوں کے حقوق کے شعبے میں گھریلو تشدد سے متعلق قانون سازی کی تکمیل، سندھ میں ازدواجی زیادتی کے پہلے مقدمے میں سزا اور کم عمری کی شادیوں کے خلاف اصلاحات کو نمایاں کیا گیا ہے۔

تعلیم اور سماجی تحفظ کے شعبے میں نیشنل ایجوکیشن ایمرجنسی ایکشن پلان، اسکولوں کی بحالی، اساتذہ کی بھرتی اور بچوں کے داخلوں میں اضافے کے اقدامات کو سراہا گیا ہے۔

محنت کے شعبے میں پاکستان کی جانب سے جبری مشقت کے خاتمے سے متعلق اقدامات، ضلعی نگرانی کمیٹیوں کے قیام، چائلڈ لیبر ایکشن پلانز اور اجرتی اصلاحات کو مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔

ماحولیاتی شعبے میں یورپی یونین نے پاکستان کی موسمیاتی ذمہ داریوں کی تکمیل، کیگالی ترمیم کی توثیق، صاف ہوا، حیاتیاتی تنوع اور خطرناک فضلے سے متعلق اقدامات کو سراہا ہے۔ پاکستان کی CITES کیٹیگری ون میں اپ گریڈیشن کو بھی عالمی ماحولیاتی معیارات پر پورا اترنے کی علامت قرار دیا گیا۔

حکمرانی کے شعبے میں رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن (UNCAC) کے دوسرے مرحلے کے نفاذی جائزے کو مکمل کیا، ادویات کے شعبے میں نگرانی بہتر بنائی، انسداد منشیات قوانین میں اصلاحات کیں اور عدالتی نظام میں شفافیت کے لیے ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ نظام متعارف کرایا۔

یورپی یونین نے 2021 سے 2027 تک پاکستان کے لیے 400 ملین یورو کی معاونت کا بھی ذکر کیا ہے، جو سبز ترقی، تعلیم، انسانی سرمایہ، موسمیاتی لچک، قانون کی حکمرانی، ہنرمندی کے فروغ اور خواتین کی معاشی شمولیت جیسے شعبوں میں تعاون کے لیے مختص ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ مشترکہ اصلاحات، پائیدار ترقی اور وسیع تر شراکت داری کی بنیاد پر آگے بڑھ رہے ہیں۔

ٹیگز: