قصور میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے افواجِ پاکستان اور شہداء کے بارے میں دیا گیا بیان نہ صرف حیران کن بلکہ انتہائی افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور قابلِ مذمت ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن وطن کے محافظوں اور ان شہداءکی قربانیوں پر سوالات اٹھانا جنہوں نے اپنی جانیں پاکستان کی بقا کے لیے قربان کیں، کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ ایسے بیانات نہ صرف شہداء کے ورثاء کے زخموں کو تازہ کرتے ہیں بلکہ پوری قوم کے جذبات کو بھی مجروح کرتے ہیں۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان اس وقت دنیا کے حساس ترین خطوں میں واقع ہے۔ مشرقی سرحد پر روایتی خطرات، مغربی سرحد پر دہشت گردی، اندرونی تخریب کاری، ہائبرڈ وار، سائبر حملے اور بیرونی سازشیں مسلسل ہماری قومی سلامتی کو چیلنج کر رہی ہیں۔ ایسے حالات میں پاک فوج، فضائیہ، بحریہ اور دیگر سیکیورٹی ادارے دن رات اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر وطن کی حفاظت کر رہے ہیں۔
شہید کا کوئی سیاسی نظریہ نہیں ہوتا۔ وہ کسی جماعت، حکومت یا شخصیت کے لیے اپنی جان نہیں دیتا بلکہ پاکستان کے سبز ہلالی پرچم، اس کی آزادی اور اس کے عوام کی حفاظت کے لیے قربان ہوتا ہے۔ جب کسی ماں کا بیٹا، کسی عورت کا شوہر یا کسی بچے کا باپ وطن پر شہید ہوتا ہے تو اس کے خاندان کو صرف یہی تسلی ہوتی ہے کہ پوری قوم ان کے پیارے کو عزت دے گی اور اپنا مانے گی اور تاقیامت اس کی قربانی کی احسان مند رہے گی۔ لیکن اگر انہی شہداءکے بارے میں ایسے الفاظ ادا کیے جائیں جن سے ان کی عظمت پر حرف آئے تو یہ صرف ایک بیان نہیں بلکہ ان ہزاروں خاندانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے جنہوں نے صرف اور صرف پاکستان اور اہل پاکستان کے لیے اپنی سب سے قیمتی متاع قربان کی۔
یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان کے دشمن برسوں سے یہی کوشش کرتے آئے ہیں کہ عوام اور افواجِ پاکستان کے درمیان اعتماد کو کمزور کیا جائے۔ دشمن جانتا ہے کہ اگر فوج اور قوم کے درمیان فاصلے پیدا ہو گئے تو پاکستان کی دفاعی قوت متاثر ہوگی۔ ایسے میں جب ملک کے اندر سے ایسے بیانات سامنے آتے ہیں جو دشمن کے بیانیے کو تقویت دیتے دکھائی دیں تو ان کے اثرات صرف سیاسی نہیں بلکہ قومی سلامتی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ قومی رہنماو¿ں کو اس حساس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے۔
مولانا صاحب کو بھی یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اگر پاک فوج دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں نہ دیتی تو شاید آج خیبر پختونخوا، قبائلی اضلاع اور بلوچستان کا نقشہ مختلف ہوتا۔ اگر ہمارے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش نہ کرتے تو ممکن ہے آج آپ کا ڈیرہ اسماعیل خان جانا بھی محفوظ نہ ہوتا۔ آپ کے جلسے، مدارس، اجتماعات، سیاسی سرگرمیاں اور آزادانہ نقل و حرکت اسی لیے ممکن ہیں کہ سرحدوں پر کوئی سپاہی جاگ رہا ہے، کوئی افسر دشمن کی گولی اپنے سینے پر کھا رہا ہے اور کوئی جوان اپنے بچوں سے دور رہ کر اس وطن کی حفاظت کر رہا ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن اختلاف اور قومی سلامتی کے اداروں کو متنازع بنانے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ حکومتوں پر تنقید کیجیے، پالیسیوں پر اختلاف کیجیے، لیکن ان جوانوں کو نشانہ نہ بنائیے جو اپنی جانیں قربان کر کے آپ سمیت پچیس کروڑ پاکستانیوں کے مستقبل کو محفوظ بنا رہے ہیں۔ سیاسی فائدے کے لیے ایسے بیانات نہ صرف قومی اتحاد کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ شہداء کے عظیم مرتبے کو بھی مجروح کرتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کی سرحدوں کو محفوظ بنانے کےلئے قوم کا اتحاد، اعتماد اور اپنے محافظوں سے محبت لازمی جزو ہیں۔ جب پوری قوم اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرا¿ت نہیں کر سکتی۔ اور اس کا عملی مظاہرہ ہم فیلڈ مارشل صاحب کی قیادت میں ہوئے آپریشن بنیان مرصوص میں دیکھ چکے ہیں لیکن جب اندر سے تقسیم پیدا ہوتی ہے تو دشمن کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ اس کمزوری سے فائدہ اٹھائے۔ یہی وجہ ہے کہ ذمہ دار قیادت کا اولین فرض قومی وحدت کو مضبوط کرنا ہے، نہ کہ ایسے بیانات دینا جن سے تقسیم پیدا ہو۔
مولانا فضل الرحمان کو چاہیے کہ وہ اپنے اس بیان پر فی الفور شہداءکے ورثاء ، افواجِ پاکستان اور پوری قوم سے معافی مانگیں۔ یہ معافی کسی سیاسی دباو¿ کے تحت نہیں بلکہ قومی ذمہ داری کے احساس کے تحت مانگی جانی چاہیے۔ کیونکہ بڑا رہنما وہی ہوتا ہیں جو محسوس کرے کہ اگر اس کے الفاظ سے قوم کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہ انا پر اصرار کرنے کے بجائے اپنی غلطی کا اعتراف کرکے معافی مانگ لے۔ اور یہی اخلاقی جرا¿ت ایک رہنما کو بڑا بناتی ہے۔
آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے شہداءکی حرمت کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے، اپنی افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ہر اس آواز کی مخالفت کریں گے جو قومی سلامتی، قومی اتحاد اور وطن کے محافظوں کے وقار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔ کیونکہ "پاکستان رہے گا تو سیاست بھی رہے گی، پارلیمان بھی رہے گی، جلسے بھی ہوں گے، اختلافِ رائے بھی ہوگا؛ لیکن اگر خدانخواستہ پاکستان کمزور ہوا تو پھر نہ کوئی سیاسی جماعت محفوظ ہوگی، نہ کوئی رہنما، نہ کوئی شہر اور نہ کوئی خواب"۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے ہر پاکستانی، بالخصوص قومی قیادت، کو ہمیشہ اپنے پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔