اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملک کی معیشت کو ڈیفالٹ سے بچانے کی کوششیں کچھ حلقوں کے لیے قابل قبول نہیں ہو رہیں۔
اسلام آباد میں مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی عمارت کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ معیشت کی بہتری کے لیے نوجوانوں کو اپنے وسائل اور صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے استعمال کرنا ہوگا، اور کارپوریٹ قانون میں مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ لاء اتھارٹی کو خودمختار ادارہ بنایا گیا ہے اور ملک کی ترقی کے لیے ہم سب کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پہلے تاجر برادری کا خیال تھا کہ وہ اپنے کاروبار ختم کرکے بیرون ملک منتقل ہو جائیں گے، لیکن پاکستان سٹاک مارکیٹوں کے انضمام کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج اب نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ 2013 سے 2017 تک ملک معاشی طور پر مستحکم تھا، اور پی ڈی ایم کی حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا۔ اب ملکی معیشت استحکام کی طرف گامزن ہے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی معیشت میں بے شمار مواقع موجود ہیں، اور ہمیں بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط معیشت کی تشکیل کے لیے معاشی خود انحصاری کی طرف بڑھنا وقت کا تقاضا ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف معیشت کے استحکام کے لیے بھرپور محنت کر رہے ہیں اور پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا۔ تاہم، کچھ عناصر ایسے ہیں جو پاکستان کو ڈیفالٹ کی حالت میں دیکھنا چاہتے ہیں، اور یہی بات ان کے لیے ہضم نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ 27 سال بعد پاکستان میں ایس سی او جیسے عالمی ایونٹ کا انعقاد ہوا ہے اور اب پاکستان کبھی بھی سفارتی تنہائی کا شکار نہیں ہوگا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستانی معیشت استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں وسیع مواقع موجود ہیں۔ ہم جدید ٹیکنالوجی کے تناظر میں مستقبل کی پالیسیاں مرتب کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ مسابقتی کمیشن معیشت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور صارف کے حقوق کے تحفظ کے لیے اس کی استعداد کار میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔