وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پاکپتن میں خطاب کے دوران اس پروپیگنڈہ کا حوالہ دیا جو جنرل پرویزمشرف کی چھتری تلے قائم (ق)لیگ کے وزراء کی شدید ترین خواہش پرمبنی تھا اور جو (ن) لیگ کے ہرمخالف کی آرزوبن چکاہے کہ شہبازشریف کے نوازشریف سے ایسے اختلافات پیداہوجائیں کہ وہ ان سے راہیں جدا کرلیں تب میں نے محترمہ بیگم کلثوم نواز سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے نہایت جامع مگر مختصرترین جواب دیا تھا کہ ’’ہم تو ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر جیتے ہیںِ‘‘مریم نواز نے کہا کہ ’’پنجاب کے مخالفین کو جب کچھ نہیں ملتا تو ن سے ش نکالنا شروع کردیتے ہیں یادرکھو ن، میم، ش، سب یکجان ہیں‘‘ مریم نے ن، م ، ش کویکجان قرار دے کر ایک حقیقت تو واضح کردی مگر اس حقیقت میں چھپی ’’اصل حقیقت ‘‘ کا شاید ادراک نہیں کرسکیں، اگر ان تین لفظوں کو یوں ترتیب دیاجائے جو حسب مراتب بھی ہے یعنی م، ش، ن تو یہ لفظ ’’مشن‘‘ بنتا ہے انگریزی کے لفظ MISSION(مشن) کا لغوی معنی ہے ’’زندگی کا خاص کام‘‘ دیکھا جائے تو پنجاب میں ’’مشن‘‘ ہی روبہ عمل ہے مریم نواز اپنی زندگی کے خاص کام میں ہی دن رات مصروف ہے۔
آصف زرداری سے حکومتی وفد کی ملاقات سے ایک روز قبل پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت سے رابطوں کے ایک دعویدار کے بقول موجودہ متنازعہ صورت حال کے خاتمہ کو وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کو منصب سے سبکدوش کرنے سے مشروط کیا جائے گا، جو پیپلزپارٹی کیلئے موجودہ صورت سے باعزت واپسی کا راستہ ہوگا اس کے بدلے مریم نواز سے معافی کا مطالبہ بھی واپس لے لیا جائے گا۔ اس کے بعد پنجاب میں جن کو مریم کے پیچھے لگایا گیا ہے ان کی لگامیں کھینچ لی جائیں گی، ان سے کہا شکایت تو مریم سے ہے عظمیٰ پر نزلہ کیوں گرے گا جواب ملا، یہ عظمیٰ جس طرح میڈیا پر پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت کا ناطقہ بند کئے ہوئے ہے اس سے نجات اور اسے سزامل جائے گی دوسرا فائدہ یہ ہوگا اس کے بعد (ن)لیگ میں کوئی عظمیٰ بخاری بننے کی کوشش کیا جرأت بھی نہیں کرے گا۔ عرض کیا میرے نزدیک یہ آپ کا تصوراتی بیانیہ ہے عظمیٰ جس مدلل انداز میں مریم نواز کی پالیسیوں کا دفاع اور اجاگر کررہی ہے (ن) لیگ کی قیادت اس کا ایسا صلہ کیوں دے گی۔ جواب ملا جس طرح معاملات کو نمٹانے کیلئے پرویز رشید اور مشاہد اللہ کو ہٹایا گیا تھا بھائی وہ معاملہ طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تھا ۔ جواب ملا پیپلزپارٹی بھی بہت طاقتور ہے لمحوں میں (ن) لیگ کی حکومت گراسکتی ہے عرض کیا بالکل گراسکتی ہے مگر ساتھ ہی خود بھی گرے گی اگر شہباز شریف پیپلزپارٹی کی وجہ سے وزیراعظم ہے تو آصف زرداری بھی (ن) لیگ کے طفیل صدر مملکت ہے ۔ حکومت گرے گی تو نوے دن کے اندر انتخابات ہوں گے اور جب مریم پنجاب میں کارکردگی کا پرچم لے کر مہڑ، گھوٹکی سے بدین، کلاچی تک طوفانی دورہ کرے گی تو پیپلزپارٹی نوے دن میں اس کا توڑ نہیں کرسکے گی نتیجے میں سندھ کا منظرنامہ بھی تبدیل ہوسکتا ہے پیپلزپارٹی کی قیادت اتنی سمجھ ضرور رکھتی ہے ، اس لئے موجودہ نظام برقرار رہے گا البتہ اگر (ن) لیگ کو موجودہ صورتحال کے دباؤ میں لاکر پنجاب میں کچھ سپیس حاصل کرلی تو یہ پیپلزپارٹی کی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔
سندھ کے عوام بالخصوص نوجوانوں میں یہ سوچ اور خواہش پروان چڑھ رہی ہے جو کچھ پنجاب میں ہورہا ہے سندھ میں کیوں نہیں ہوسکتا اس کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مرسوں، مرسوں کے نعروں سے بھی اسے دبایا نہیں جاسکا ہے ایک ٹی وی چینل کی اینکر صدف جبار نے سینئر وزیر شرجیل میمن سے کہاعالمی ریٹنگ میں کراچی کو ناقابل رہائش شہر قرار دے دیا گیا ہے ہم جو کراچی میں رہتے ہیں بڑی شرمندگی ہوئی ہے شرجیل میمن نے جواب دیا اگر کراچی اتنا بڑا شہر ہے تو لوگ یہاں آتے کیوں ہیں۔ صدف جبار کی شرمندگی دورکرنے کیلئے یوں دلاسا دیا ’’ہم ایک سوروپے کا جوس کا ڈبہ دے کر اس پر تین سوروپے کی تصویر نہیں بنواتے ‘‘ اشارہ مریم نوازکی طرف تھا، شرجیل میمن سے عرض ہے آپ صرف پچاس روپے کے جوس والا ڈبہ دے کر بے شک چھ سو روپے کی تصویر بنوالو مگر سندھ کے لوگوں کو دوتوسہی البتہ یہ مسئلہ ضرور بنے گا تصویر کس کی بنوائی جائے بینظیر بھٹو، آصف زرداری، بلاول زرداری، آصفہ زرداری یا مراد علی شاہ، غالباً ترجیح بلاول کو ملے گی۔
اسحاق ڈار کی قیادت میں (ن) لیگ کے وفد نے نوابشاہ جاکر صدر زرداری سے ملاقات کی فوری طورپر تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں تاہم یقین ہے شدید جاری تناؤ برقرار نہیں رہے گا۔ اہم سوال یہ ہے کیا آصف زرداری نے اسحاق ڈار کے سامنے وہ آٹھ مطالبات رکھے ہیں جن کا مقصد پنجاب میں سپیس حاصل کرنا ہے کیونکہ اگر ان میں سے ایک دوبھی مان لیے گئے تو یہ ’’بدو کے خیمے میں اونٹ کو منہ ڈالنے کی اجازت دینے کے مترادف ہوگا‘‘ مریم کی جانب سے اس حوالے سے مزاحمت نتائج کے ادراک کا ثبوت ہے مگر مزاحمت کے حوالے سے مریم کو کیا صورتحال پیش آسکتی ہے۔ امکانی طورپر اگر (ن) لیگ کے لیڈروں نے میاں نوازشریف کو پیپلزپارٹی کو پنجاب میں سپیس دینے پر آمادہ کرلیا جس طرح جنرل قمرجاوید باجوہ کو مدت ملازمت میں توسیع کیلئے اپنی مجبوریاں بیان کرکے آمادہ کیا تھا تو مریم کیلئے مزاحمت ممکن نہیں رہے گی لیکن میرا ذاتی خیال بلکہ یقین ہے میاں نوازشریف ایسی بات مان کر مریم کے میم، ش، نون یعنی ایسے میں کھنڈت نہیں پڑنے دیں گے جو درحقیقت پنجاب بلکہ پاکستان کی ترقی کا مشن ہے جو پاکستان میں استحکام وخوشحالی کا مشن ہے جو پاکستان کے عوام کی ہمہ جہت تعمیر وترقی کا مشن ہے اور میں سمجھتا ہوں یہ گمان بھی رکھنا چاہئے کہ (ن) لیگی لیڈرز بھی مریم نواز کی کارکردگی میں رخنہ پسند نہیں کریں گے جو بالآخر ان کی جماعت اور خود ان کی سیاسی فتح مندیوں کا یقینی ذریعہ بن سکتی ہے۔