واشنگٹن/نئی دہلی:دنیا بھر میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اسلام آباد کی کوششوں نے نئی دہلی کے ایوانوں میں صفِ ماتم بچھا دی ہے۔ معتبر امریکی جریدے ’’دی نیشنل انٹرسٹ‘‘ نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "بوکھلاہٹ اور ناکامی" کا مجموعہ قرار دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت کی موجودہ صورتحال درج ذیل ہے۔مودی سرکار ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگی صورتحال پر کوئی واضح موقف اپنانے میں ناکام رہی، جس سے عالمی برادری میں بھارت کا قد کاٹھ کم ہوا ہے۔ جریدے کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اپنی متحرک سفارت کاری سے ثابت کیا کہ وہ خطے میں امن کا حقیقی علمبردار ہے، جبکہ بھارت اپنی "دوغلی پالیسی" کی وجہ سے غیر متعلقہ ہو چکا ہے۔
بھارتی کانگریس کے قد آور رہنما اور معروف دانشور ششی تھرور نے بھی مودی حکومت کی ناکامی کا کھلے عام اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ماننا پڑے گا کہ پاکستان اس وقت سفارتی محاذ پر بھارت سے کہیں زیادہ بہتر اور منظم انداز میں کھیل رہا ہے۔ پاکستان کا واضح موقف اسے عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مودی سرکار کو نہ صرف عالمی سطح پر سبکی کا سامنا ہے بلکہ بھارت کے اندر بھی اپوزیشن اور عوام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ بھارت اہم عالمی معاملات پر خاموش کیوں ہے؟ تجزیہ کاروں کے مطابق، مودی سرکار کی یہ خاموشی دراصل ان کی اس بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے جو پاکستان کی کامیاب ترین 'پیس ڈپلومیسی' (Peace Diplomacy) کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار نے بھارت کے اس پروپیگنڈے کو دفن کر دیا ہے کہ پاکستان تنہائی کا شکار ہے، بلکہ اب صورتحال یہ ہے کہ بھارت خود اپنی پالیسیوں کے جال میں پھنس چکا ہے۔