پچھلا سال ڈیڑھ سال میں رشوت دلالوں، سمگلروں کے سہولت کاروں، جھوٹے درخواست بازوں کے نرغے میں آ گیا۔ میری شہرت کو بھی نقصان پہنچا اور روحانی منزلوں میں بھی رکاوٹ آئی جو مجھے قبلہ جناب محمد صادق کسٹم کے ضرب المثل آفیسر سے نیابت داری اور حلقہ ارادت میں شامل رہنے سے حاصل ہو رہی تھیں۔ قبلہ محمد صادق صاحب نے زندگی کا دھارا موڑ دیا اور بہت رہنمائی فرمائی۔ ایک ایمان افروز شخصیت ہیں، قبلہ محمد صادق جو تنولی پٹھان ہیں، عجز و انکساری، بردباری اور حساسیت کا پیکر ہیں، نے جہاں مجھے مرزا عبدالقادر بیدلؒ و دیگر فارسی عربی و اردو کے مفکرین، شعرا اور دانشوروں سے متعارف کرایا، وہاں مجھے محمد مارما ڈیوک پکتھالؒ اور محمد اسد لیو پولڈ وائسؒ جیسی، ہستیاں بھی تحفہ کیں۔ دونوں ہستیوں کے طرز زندگی، حالات زندگی، دینی و ادبی خدمات اور زندگیوں کے داخلی، روحانی و خارجی انقلابات کچھ ایسے ہیں کہ خیر بانٹنے والوں میں سرفہرست گردانے جاتے ہیں۔
بیسویں صدی کی اسلامی فکری تاریخ دو ایسے غیر معمولی ناموں سے روشن ہے جنہوں نے مغربی تہذیب کے اندر پروان چڑھنے کے باوجود اسلام کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اس کے علمی، فکری اور تہذیبی دفاع میں اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ یہ دو شخصیات محمد اسدؒ (1900-1992) اور محمد مارما ڈیوک پکھتالؒ (1875-1936) ہیں۔ دونوں نے مختلف پس منظر سے آ کر اسلام کو اختیار کیا، مگر ان کا مقصد ایک ہی رہا: اسلام کو مغربی دنیا کے لیے قابلِ فہم بنانا اور مسلمانوں کو ان کی فکری میراث سے دوبارہ جوڑنا۔ محمد اسد، جن کا اصل نام لیوپولڈ وائس تھا، آسٹریا ہنگری کے ایک یہودی مذہبی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن مذہبی مباحث اور فکری جستجو کے ماحول میں گزرا۔ عبرانی روایت اور یورپی فلسفے نے ان کے ذہن کو سوالات سے بھر دیا، مگر تسلی کسی طرف سے نہ ملی۔ صحافت اور مشرقی سفر نے ان کے اندر اسلام کے لیے ایک فکری کشش پیدا کی، جو بالآخر 1926 میں اسلام قبول کرنے پر منتج ہوئی۔ اس کے برعکس مارماڈوک پکھتال ایک انگریز ادیب، ناول نگار اور مشرقیات کے ماہر تھے۔ وہ 1875 میں لندن میں پیدا ہوئے اور برطانوی معاشرت میں پروان چڑھے۔ مشرق وسطیٰ کے سفر نے ان کے ذہن پر گہرا اثر ڈالا۔ عرب دنیا کی سادگی، اسلامی تہذیب کی روحانیت اور مسلمانوں کی سماجی زندگی نے ان کے اندر اسلام کے بارے میں ایک مثبت فکری تبدیلی پیدا کی، جو بالآخر 1917 میں ان کے قبولِ اسلام کا سبب بنی۔ محمد اسد کا قبولِ اسلام ایک فکری اور روحانی تجربے کا نتیجہ تھا۔ برلن کے سفر کے دوران مال و متاع ہونے کے باوجود انسانی چہروں پر بے چینی کا مشاہدہ اور پھر گھر آ کر قرآنِ مجید کھولا تو سورة التکاثر سامنے آ گئی جس کا مطالعہ ان کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا۔ ان کے نزدیک قرآن محض ایک مذہبی کتاب نہیں بلکہ انسانی نفسیات اور حقیقتِ وجود کا مکمل بیان تھا۔ اسی احساس نے انہیں اسلام کی طرف مائل کیا، جسے انہوں نے بعد میں اپنی کتاب The Road to Mecca میں تفصیل سے بیان کیا۔ مارماڈوک پکھتال کا سفر نسبتاً تدریجی تھا۔ انہوں نے مشرقی معاشرت کا گہرا مطالعہ کیا اور اسلامی تہذیب میں موجود توازن، عدل اور روحانیت کو مغربی معاشرت کے مقابلے میں زیادہ بامعنی پایا۔ ان کا قبولِ اسلام ایک فکری ارتقا کا نتیجہ تھا، جس میں جذبات سے زیادہ عقل اور مشاہدہ شامل تھا۔ دونوں شخصیات کی سب سے بڑی علمی خدمت قرآنِ مجید کے پیغام کو انگریزی زبان میں پیش کرنا ہے۔ مارماڈوک پکھتال نے قرآن کا پہلا معتبر انگریزی ترجمہ The Meaning of the Glorious Quran کے نام سے کیا۔ یہ ترجمہ اپنی ادبی خوبصورتی، فکری دیانت اور لغوی احتیاط کے باعث آج بھی کلاسیکی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کوشش کی کہ قرآن کے مفہوم کو کسی مغربی تعصب کے بغیر پیش کیا جائے۔ محمد اسد نے بعد میں The Message of the Quran کے نام سے قرآن کا ترجمہ اور تشریح پیش کی۔ ان کا انداز نسبتاً جدید، عقلی اور فکری تھا۔ وہ قرآن کو جدید ذہن کے لیے قابلِ فہم بنانے کے قائل تھے اور آیات کی تشریح میں فکری استدلال کو اہمیت دیتے تھے۔ پکھتال کا اسلوب زیادہ تر کلاسیکی اور لسانی وفاداری پر مبنی تھا۔ وہ متن کی حرمت اور اصل مفہوم کو برقرار رکھنے کے حامی تھے۔ ان کے نزدیک مترجم کا کام تشریح نہیں بلکہ امانت داری ہے۔ اس کے برعکس محمد اسد نے قرآن کو ایک فکری نظام کے طور پر پیش کیا۔ ان کی کتاب Islam at the Crossroads میں یہ واضح نظر آتا ہے کہ وہ اسلام کو جدید تہذیبی چیلنجز کا جواب سمجھتے تھے۔ ان کا انداز زیادہ تجزیاتی اور فلسفیانہ تھا۔ سیاسی و سماجی کردار محمد اسد کو برصغیر کے مسلم رہنما علامہ اقبال سے فکری قربت حاصل تھی۔ پاکستان کے قیام کے بعد وہ ریاستی سطح پر بھی سرگرم رہے۔ انہوں نے محکمہ اسلامی تعمیرِ نو میں خدمات انجام دیں اور بعد میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نمائندے کے طور پر بھی کام کیا۔ ان کا وژن ایک ایسے اسلامی معاشرے کا تھا جو جدید دنیا کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ مارماڈوک پکھتال نسبتاً کم سیاسی کردار رکھتے تھے، مگر انہوں نے برطانوی سامراجی دور میں اسلام کے بارے میں پائے جانے والے منفی تصورات کو علمی سطح پر چیلنج کیا۔ وہ ادبی اور فکری میدان میں اسلام کے ترجمان بن کر سامنے آئے۔ اگرچہ دونوں کا پس منظر مختلف تھا، مگر ان کے درمیان ایک گہرا مشترک پہلو موجود ہے: دونوں نے اسلام کو مغرب کے لیے قابلِ فہم بنانے کی کوشش کی۔ دونوں نے یہ ثابت کیا کہ اسلام کسی مخصوص تہذیب یا نسل تک محدود نہیں بلکہ ایک آفاقی پیغام ہے۔ دونوں نے یہ بھی دکھایا کہ اسلام قبول کرنا صرف ایک مذہبی فیصلہ نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب بھی ہو سکتا ہے۔ ان کی زندگیاں اس بات کی مثال ہیں کہ علم، تحقیق اور دیانت انسان کو کسی بھی منزل تک لے جا سکتے ہیں۔ پکھتال اور محمد اسد کا فکری ورثہ آج بھی علمی حلقوں میں زیرِ بحث ہے۔ ان کے تراجم اور تحریریں نہ صرف مغربی دنیا میں اسلام کو سمجھنے کا ذریعہ ہیں بلکہ مسلم دنیا میں بھی فکری تجدید کا سبب بنی ہیں۔ خاص طور پر محمد اسد کی تحریریں جدید مسلم فکر میں اصلاحی رجحانات کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں، جبکہ پکھتال کا ترجمہ آج بھی کلاسیکی معیار کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ محمد اسد اور مارماڈوک پکھتال دو مختلف صدیوں، دو مختلف تہذیبوں اور دو مختلف فکری راستوں سے گزر کر ایک ہی منزل پر پہنچے۔ ان کی منزل اسلام تھا، مگر ان کا سفر انسانیت کی فکری بیداری کا سفر بھی تھا۔ ان کی زندگیاں اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ سچائی کسی جغرافیے یا تہذیب کی پابند نہیں ہوتی۔ جو شخص سچائی کی تلاش میں خلوص رکھتا ہے، وہ آخرکار اسی روشنی تک پہنچ جاتا ہے جو انسان کے دل کو سکون اور ذہن کو معنویت عطا کرتی ہے۔
وطن عزیز میں پرچون فروش سے لے کر خاتون فروش تک سب کو پارسائی کا دعویٰ ہے۔ ہمیں