ڈاکٹر صاحبان خصوصاً جو آج کل کسی شعبہ میں مہارت رکھتے ہیں قہر و دہشت کی علامت بن چکے ہیں چند ایک استثنیٰ کے علاوہ جیسے مسیحائے شہر ڈاکٹر شہریار احمد شیخ، ڈاکٹر احمد نعمان، اسلام آباد کے ڈاکٹر بریگیڈئیر قیصر خان صاحبان دل کے مرض میں وطن عزیز کے ٹاپ فائیو میں شمار ہوتے ہیں۔ اسی طرح دیگر شعبے ہیں جن میں سرجری، ای این ٹی، آئی سپیشلسٹ ڈاکٹر ظفر اقبال چودھری پروفیسر آف میڈیسن وغیرہ ہیں۔ میرے بڑے بھائی محمد اعظم بٹ صاحب صفاں والا چوک مشتاق صاحب(مرحوم و مغفور) سے عینکیں بنواتے تھے۔ ایک مشتاق صاحب کی وجہ سے صفاں والا چوک میں عینکوں کی درجنوں دکانیں آباد ہو گئیں۔ دکاندار آوازیں مارتے مگر لوگ مشتاق صاحب کے پاس جاتے، وجہ ان کا اعلیٰ ترین اخلاق، انسان دوستی اور عاجزی تھی۔ میں مشتاق بھائی کے پاس گاڑی کھڑی کر کے کبھی کبھار واش روم استعمال کرنے ایک کلینک میں چلا جایا کرتا۔ دوچار دفعہ ایسا ہوا ایک دن میں نے کہا کہ میں عینک کا نمبر کراس چیک کرانا چاہتا ہوں۔ مشتاق بھائی نے کہا کہ بے شک سامنے لاجواب ڈاکٹر ہیں۔ انوار صاحب ان سے کرا لیں میں چلا گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے بڑے اہتمام و تحمل سے میری آنکھیں چیک کیں، کہا کہ آپ کی عینک ٹھیک ہے۔ فیس تب 500روپے لی، میں حیران تھا کہ ڈیفنس میں تو صرف عینک نمبر چیک کرانے کا 1000 روپے سے کم نہیں لیتے۔ یہ انتہائی ماہر آئی سپیشلسٹ ہیں۔ مکمل چیک اپ کا صرف 500 روپیہ۔ خیر اب انہوں نے مہنگائی دس گنا بڑھ گئی تو 1000 روپے کر دیئے۔ اس سے پہلے معروف ڈاکٹر سید محمد اسد، جو پاکستان کرکٹ ٹیم کے فزیوتھراپسٹ ہیں، نے بھی ڈاکٹر محمد انوار صاحب کو تجویز کیا تھا یہ تمام کھلاڑیوں کی نظر بھی چیک کرتے رہے ہیں شاید اب بھی کرتے ہوں۔ سید محمد اسد بذات خود ایک لاجواب فزیوتھراپسٹ ہیں جو ایف آر سی ایس آرتھو پیڈک کو بھی مات دیتے ہیں۔ اگلے روز ڈاکٹر جناب انوار صاحب کے پاس گیا۔ انہوں نے تین چار مشینوں پر نظر چیک کی پھر آنکھوں میں ڈراپ ڈالے اور کہا کہ نماز کے بعد دوبارہ چیک کریں گے۔ ان کے دفتر میں اویس یوسف، ندیم بشیر کے ساتھ ایک اور برخوردار تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے امامت کرائی لہٰذا نماز پڑھ لی، مجھے بہت اطمینان ہوا۔ رش کی وجہ سے لوگ کم تھے اور کلینک کے بند ہونے کا وقت قریب تھا، جو وقت بچ گیا ابھی آنکھوں میں ڈلے ہوئے قطروں کے اثر میں وقت تھا۔ ڈاکٹر صاحب سے گپ شپ شروع ہو گئی۔ ڈاکٹر صاحبان زیادہ تر اپنے شعبے میں ہی ماہرانہ گفتگو کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب سے جب گفتگو کا سیشن شروع ہوا تو فہم قرآن، تاریخ، مذہب، سیاست، صحافت، عسکری معاملات، معاشرت، ثقافت، صوفی ازم، سوشلزم، کیپٹلزم، حالات حاضرہ، پیش منظر، پس منظر، اسلامی و مغربی و دیگر معاشرتوں پر ڈاکٹر صاحب کی گفتگو انتہائی دلجمعی اور عاجزانہ لہجے میں تھی کہ مبہوت سا ہو گیا۔ جن جن شعبوں پر بات ہوئی ڈاکٹر صاحب کو ہر شعبے میں ڈاکٹریٹ ڈگری ہولڈر پایا۔ میں حیران بھی تھا اور دلی طور پر خوش بھی کہ میں نگینے لوگ صرف کتابوں میں ڈھونڈتا اور تلاش کرتا ہوں مگر اللہ سلامت رکھے ایسے لوگوں کو جو انسانیت کو اولیت دیتے ہیں۔ ایک بار ایک جاننے والے نے بات کی کہ اللہ کا اس پر بڑا کرم، فضل اور رحمت ہے۔ اس وقت وطن عزیز کی چار پانچ کلیدی ایجنسیوں کے صوبائی ہیڈز اس کے دوست ہیں۔ میں اس کی اس منطق پر حیران تھا کہ یہ اللہ کی رحمت کس کو سمجھتے ہیں جبکہ رحمت اللعالمین نے تو ان باتوں کو رحمت نہیں کہا۔ بہرحال میں نے سوچا اپنی اپنی سوچ کی بات، اگر فیلڈ مارشل پاکستان جنگ شروع کرنے سے پہلے امامت کراتے اور اپنی تقاریر میں قرآن عظیم کی آیات کا حوالہ دیتے ہیں تو پھر رحمت کہیں اور ہے۔ الحمد للہ میں تو ہمیشہ بڑے سے بڑے انسان کو جب اللہ کے سامنے جھکتے دیکھتا ہوں تو تسلی ہوتی ہے، جس نے آسمانوں، زمینوں، مشرقین، مغربین، سمندروں، پہاڑوں، سورج، چاند، ستاروں، سیاروں کل کائنات کو بنایا جو ان سب کا رب ہے وہ میرا بھی رب ہے جس کی راہ آقا کریم نے ہمیں بتائیں اور اللہ کے پیغام کا سلسلہ ان پر مکمل ہوا۔ ہر انسان کی سوچ مختلف ہوتی ہے، سوچ ہی انسان کی شخصیت اور زندگی ہوا کرتی ہے۔ دراصل انسانوں سے ناامیدی حقیقی آزادی ہے۔ انسانوں سے تعلق، ہمدردی یہ رشتے لازمی ہیں لیکن امیدیں صرف اللہ سے وابستہ ہونی چاہئیں۔ چھوٹا سا جملہ ہے انسانوں سے ناامیدی آزادی ہے۔ آپ کر کے دیکھیں فی الفور آزادی محسوس کریں گے۔ پیٹ بھر کر سانس لیں گے۔ یہ میرا نہیں حضرت علی کرم اللہ وجہ کا کہنا ہے۔ بہرحال ڈاکٹر صاحب سے نشست میں بہت لطف آیا۔ بہت کچھ سیکھا۔ ایک انسان دوست، خوش گفتار، خوش لباس، خوش اخلاق شخصیت ہیں جن سے گفتگو کا اثر ہمیشہ رہتا ہے اور محض دنیا ڈھونڈنے والے در در حیران پھرتے ہیں۔ ان سے مجھے گھن آنے لگتی ہے بھلے وہ دکھاوے اور مکاری میں مبتلا ہو کر 85 سال کی عمر میں شر پھیلاتے ہوئے نظر آئیں اور چھوٹے سے اعلیٰ افسران کے دفاتر کے باہر بیٹھے نظر آئیں، جیسے قصائی کی دکان پھٹے کے نیچے بیٹھے سگِ آوارہ۔ پچاسی سالہ سنیاسی بابا تو سنا پڑھا تھا لیکن 85 سالہ چغل خور نہیں سنا تھا۔بندہ جھوٹ بول کر کسی کو چند ماہ تو دھوکہ دے سکتا ہے لیکن اس دن برباد ہو جاتا ہے جس دن اپنے آپ سے جھوٹ بولے یعنی کہ جو وہ ظاہر کرتا ہے لوگ اس پر یقین کرتے ہیں مگر جب وہ خود ہی یقین کرے کہ وہ وہی جو لوگ سمجھتے ہیں تو پھر اس کی بربادی کی کوئی دوسری وجہ نہیں ہوا کرتی چاہے ثقافت، سیاست ہو، صحافت ہو یا کوئی اور شعبہ۔ بہرحال ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کی سرشاری سے سوچا آپ سے بھی شیئر کروں۔ خالص اور حقیقی لوگ آج بھی معاشرت میں نگینے کی حیثیت رکھتے ہیں۔