Wed, September 16, 2026

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

بات صرف اتنی تو نہیں کہ آج شب و روز ناگہانیوں کی زد میں ہیں۔ سردیوں کا سامان، لباس لپیٹ کر بند کر دیا تو اچانک برف، اولوں نے کپکپا کر رکھ دیا۔ فصلیں پک کر تیار کھڑی ہوئیں ہماری تواضع کو، تو بے موسمی بارشوں نے تیا پانچا کر دیا۔ یہی حال انسانی مزاج کا ہے۔ متحمل، نرم خو، عالی ظرف اچانک بھڑک اٹھے اور آپ ہک دک، متعجب رہ گئے۔ سچ سننے کو کان ترس گئے۔ ڈٹ کر جھوٹ بولنا عین طرزِ زندگی بن گیا۔لمحہ بہ لمحہ بدلتے حالات پر لکھنا،کہنا مشکل ہو گیا! یہ ماحول جو انہونیاں ہمیں دکھا رہا ہے، قربِ قیامت کی علامات ہیں۔ ہم صرف قرآن، الفرقان (حق و باطل، سچ اور جھوٹ مابین کسوٹی) کے وارث نہیں ہیں، نبی الصادق، الامین صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی رہنمائی میں ہمیں ایسے راستے پر چھوڑا ہے، (علمِ دین کی بنا پر) جس کی رات بھی آپ کے فرمان کے مطابق، دن کی طرح روشن ہے۔ ایک تقریباً 15 گھنٹے طویل خطبے میں آپ نے دو رِفتن (حالیہ دور) بارے بیان فرمایا۔ آج وہی سب ہم دیکھ رہے ہیں۔ 
دنیا کے چودھری بنے ٹرمپ کو دیکھ کر خصوصاً حقائق مزید کھلتے اور موصوف کی کارکردگی احادیث پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے۔ مثلاً قومی خطاب میں ایسٹر پر جو خللِ دماغی، مخدوش ذہنی کیفیت کا اظہار شہنشاہ ٹرمپ نے فرمایا ہے دنیا دانتوں تلے انگلیاں دبائے بیٹھی ہے۔ گالیوں بھری زبان میں مجنونانہ ہذیانی کیفیت میں فرمایا: ’منگل‘ پاور پلانٹ (کی تباہی) کا دن ہوگا۔ پل (تباہ کرنے) کا دن ہوگا۔ ایران میں سبھی کچھ لپٹ سمٹ جائے گا۔ ایسی (تباہی) کہیں نہ ہو گی۔ آبنائے ہرمز (گالی) کھولو۔ تم فلاں فلاں، (گالیاں!) ورنہ تم جہنم میں جلنے کو جاپڑوگے۔ صرف دیکھتے جا¶، الحمد للہ!یہ مغلظ بے لگام گفتگو تمسخر کے طور پر اللہ کی تعریف پر جس طرح ختم کی، الفاظ اس کی ذہنی کیفیت کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔ فرمانِ نبوی کے مطابق: ’رویبضہ گفتگو کریں گے‘۔ صحابہؓ نے پوچھا یہ کون ہوں گے؟ فرمایا: ’لوگوں کے معاملات پر اختیار رکھنے والا کمینہ شخص‘ ۔(ابن ماجہ) ’رویبضہ‘ احمق، ہلکے، بے وقوف ہوتے ہیں!
اس گفتگو کے ساتھ جاری بمباری اور عزائم، تہذیبوں کا نہیں، غیر ذمہ دارانہ انا¶ں، ضد کا تصادم ہے۔ اور اتنے دیوانے شخص کے ہاتھ میں ایٹمی جنگ کا بٹن؟ دنیا کے سر پر ایک تلوار لٹک رہی ہے۔ کو ئی بھی غیر ذمہ دارانہ اقدام یا مزید بیان تنازعہ بڑھا سکتا ہے۔ ہرمز سے دنیا کا پانچواں حصہ تیل کا گزرتا ہے۔ جس کی بندش سے دنیا کی بڑی معیشتوں، یورپ، ایشیاپر بالخصوص گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس کے ایک طرف تمام عرب ممالک ہیں۔ ہم بھی گوادر کی بنا پر گلف کا حصہ بنتے 
ہیں ایک طرف سے۔ خلیجی تیل کے انفراسٹرکچر( بنیادی ڈھانچے، نقل و حمل کے ذرائع) پر حملہ تشویشناک زلزلہ خیز اثرات کا حامل ہے۔ بار بار یہ جا بجا د ہرایا جانا، 48 گھنٹے اور پھر جہنم تم پر ٹوٹ پڑے گی۔ اس پر سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا کہ ’یہ بیان جو اس نے ایسٹر کی اتوار کو دیا، خطر ناک ہے اور ذہنی طور پر غیر متوازن شخص کی مجنونانہ بڑھکیں ہیں۔ کانگریس فوری اقدام کر کے جنگ بند کرے۔‘
ایک ماہر ِنفسیات نے ٹرمپ کی کیفیات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ شخص شدید نفسیاتی بحران میں مبتلا ہے جو کسی انسان کو لاحق ہو۔ دنیا اس وقت بہت مشکل میں ہے کیونکہ دنیا کا طاقتور ترین انسان بد ترین بھی ہے اور دیوانہ بھی۔ اس کی بیماری کو سرطان (کینسر)زدہ نرگسیت کہا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح ہٹلر کی نفسیات بیان کرنے کو ایجاد ہوئی تھی۔ جب ٹرمپ پہلی مرتبہ انتخاب لڑنے آیا تو میں پہچان گیا تھا کہ یہ ایک شہابِ ثاقب دنیا سے ٹکرانے والا ہے۔ بے رحم، بے حسی اور خلل دماغ کا حامل‘۔ اس وقت نہ صرف ٹرمپ بلکہ اس کی ٹیم بالخصوص پیٹ ہیگستھ اور وٹ کاف خوب پٹ رہے ہیں۔ سبکدوش کیے جانے والے آرمی چیف (مزید جرنیل بھی نکالے گئے جنہوں نے ایران کے خلاف جنگ کو تباہ کن اور مہلک قرار دیا تھا) نے اپنے الوداعی خط میں لکھا کہ’ امریکی فوج کو اچھے کردار والے لیڈروں کی ضرورت ہے‘۔ امریکہ اس وقت داخلی اور خارجی بحران میں مبتلا ہے۔ ٹرمپ کے خلاف مظاہرے (نوکنگز)، شہنشا ہی آمرانہ اقدامات کے خلاف جاری و ساری ہیں۔ سینیٹرز، وزیرِ دفاع کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ 
ٹرمپ نے اسرائیل کی خوشنودی کے لیے جو جنگ شروع کی وہ نہ صرف اسے بلکہ پوری دنیا کو نہایت مہنگی پڑی۔ ایران میں عوام 1979 ءکے انقلاب کے بعد پہلی مرتبہ نہایت شدت سے اپنی حکومت کے خلاف اٹھے جس پر 48 گھنٹے میں 7 ہزار مارے گئے تھے۔ امریکہ نے فائدہ اٹھانے کی خاطر ایرانی حکومت بدلنے کے نام پر آنکھیں بند کر کے پرائے قضیے میں ٹانگ اڑا دی۔ نتیجہ الٹا یہ نکلا کہ وطنیت کی لہر میں عوام اختلاف چھوڑ کر یک لخت متحد ہو گئے! نقصان اس دیوانی چھلانگ کا امریکہ کے حصے آیا۔ بین الا قوامی تنہائی کا سامنا کیا۔ یورپ، نیٹو نے اس جنگ میں شراکت سے صاف انکار کر دیا۔ عوام کا موڈ غزہ نسل کشی میں وہ بھگت چکے تھے۔ اب ایک نئے فساد کی شروعات نہ چاہتے تھے۔ سوٹر مپ یورپ کو بھی برا بھلا کہتا، اسے مزید ناراض کر بیٹھا۔ معاشی نقصان بھی اٹھایا۔یہ جنگ اب تک امریکہ کو 42 ارب ڈالر کی پڑی ہے۔ (اعداد و شمار ابھی ادھورے ہیں۔) چین مزے سے بیٹھا ہے۔ اسے امریکہ (اور دیگر ممالک کو) نے جنگی جہاز خلیج بھیجنے کو کہا تھا، وہ انکاری ہو گیا۔
امریکہ کی توجہ تائیوان،یوکرین سے ہٹ گئی ہے۔ جنگ کا ہر ہفتہ ڈالر کو کمزور، چینی یوآن کو مضبوط کر رہا ہے۔ چین خاموشی سے ایران کی مدد بھی کر رہا ہے۔ دنیا بدلنے کو ہے۔ امریکہ کے قدموں تلے سے زمین سرک رہی ہے۔ یو این کے سابق IAEA کے ڈائریکٹر محمد البرادی نے خلیجی ممالک، یورپی یونین اور فرانسیسی صدر کو پیغام دیا ہے آن لائن: ’کیا اس پاگل پن کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا جاسکتا؟ ٹرمپ خطہ آگ میں جھونکنے کو تلا بیٹھا ہے۔‘ ایران میزائلوں کی قوت سے بڑھ کر ’آبنائے ہرمز‘ کی طاقت سے لیس ہے جو اس وقت دنیا کی معاشی صورت حال پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ تیل اور گیس کی شہ رگ ایران کے پنجے میں ہے۔ ٹرمپ ابھی اسرائیل کا دم چھلا بنا غزہ جنگ کو حتمی نتیجے پر پہنچا نہ پایا تھا کہ ایران میں سینگ پھنسا بیٹھا۔ اسرائیل ادھر لبنان کو غزہ کی طرح اجاڑنے کی مہم پر رواں دواں ہے۔ دنیا کو ’نیو ورلڈ آرڈر‘ ملنے سے پہلے لگتا ہے مکمل ’ڈس آرڈر‘ بد نظمی، انتشار، اکھاڑ پچھاڑ سے گزرنا ہے۔ انفرادی سطح پر حقائق انسانوں پر پوری طرح کھل چکے ہیں۔ ’تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی‘ کی اقبال کی پیشین گوئی پوری ہو رہی ہے۔ نیا انقلاب جنگوں کے مشکل مراحل سے گزر کر بالآخر خدائی پلان کے نتیجے میں دبے پا¶ں آئے گا جب سارے حیوانی سرشت رکھنے والے متکبرین، انا پرست لوٹ مار کرنے والے اس بین الاقوامی گروہ سے نجات دلائے گا۔ یہ سب راہِ عدم کو بوریا بستر سمیٹ کر سدھاریں گے۔ دجل و فریب کا ہر رنگ چھٹ جائے گا۔ 
پاکستان کی مصالحتی کاوشوں سے ایران، امریکہ مابین دو ہفتوں کی جنگ بندی اور اسلام آباد میںفریقین کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے 10-11اپریل کو مذاکرات،نتای¿ج جو بھی ہوں، پاکستان کی نمایاں سفارتی کامیابی اور دنیا بھر کے لیے فی الو قت سکھ کا سانس ہے۔اگر چہ اس عالمی،علاقائی بحران پر قابو پانے کے لیے یہ واحد اور اہم ترین قدم ہے، لیکن صیہونی، امریکی اسرائیلی عزائم اورامتِ مسلمہ کی بدحالی اپنی جگہ موجود ہے۔ہماری آزمائشوںکا طویل سفر جاری رہے گا!
 اور جو پوری دنیا زیر و زبر ہوئی پڑی ہے دو پاگلوں کی چھیڑی جنگوں سے اس کا حساب دنیا، آخرت میں کون چکائے گا؟ روکا کیوں نہیں گیا؟ پاگل خانے میں بند کیوں نہ کیا؟ علمائ، فوجیں مسلم دنیا کی بھی جو ابدہ ہیں۔ایران کے بہانے مل جل کر مسلم دنیا تباہ کر ڈالی لگے ہاتھوں۔ یہ اسلامو فوبک جنگ چھیڑی گئی اور ہا تھیوں کی لڑائی میں دنیا کی 90 فی صد آبادی کی دال روٹی دا¶ پر لگ گئی۔ پیدل چلو، ہوا کھا¶، پانی پر جیو! میزائل تواضع کو موجود! مزید در بدری، بے دخلی تمہارا مقدر!
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

ٹیگز: