Wed, September 16, 2026

دہشت گردی کے سہولت کار زیادہ سزا کے مستحق

دہشت گردی کے سہولت کار زیادہ سزا کے مستحق

ـ’’عمران نہیں تو پاکستان نہیں‘‘کا مکروہ نعرہ لگانے والی جماعت گو کہ پارلیمان میں بھی موجود ہے مگر جب جب پارلیمان میں ملکی تحفظ پر کوئی اجتماعی اجلاس ہوا ہو چاہے و ہ کشمیر کے مسئلہ پر پارلیمان کی مشترکہ پالیسی ، چاہے دہشت گردی کی روک تھام کیلئے مشترکہ صلاح مشوروںکا مسئلہ ہو پی ٹی آئی کی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ضروری ہے ۔ جماعت میں کچھ محب وطن لیڈر بھی ہیںمگر انتشاری پالیسیوں کے مقابلے میں انکی آواز بہت مدہم ہے ، بانی کی خواہش ہوتی ہے کہ ہر مسئلہ پر رائے کیلئے پہلے ان سے صلاح مشورہ کیا جائے اگر وہ ہی جماعت کے عقل کل ہیں تو باقی کو گھر بھیج دیں ، خیر ان میں سے بیشتر تو وہاں روزگار پر ہیںجسکی طرف اشارہ شیر افضل مروت کرچکے ہیںکہ یہ وکیل نما لوگ کتنی بڑی بڑی رقم وصول کررہے ہیں لا حاصل مقدمات کی ، عقل کل سے اگر مشور ہ کیا جائے وہاں سے خیر کا تو مشورہ آتا نہیں نہ صرف کسی انتشاری اعلان کے کہ کہاںدھرنا دینا ہے ، کس شہر کو بند کرنا ہے وغیرہ وغیرہ انہیں مشوروںنے پاکستانی کی سیاست کو تباہ کردیاہے ، بانی سے مشورے کے دوران اگر کوئی غیر انتشاری رائے پیش کرتا ہے تو بانی اسے چلتا کردیتے ہیں اس بنا پر صوبہ سرحد میں تمام تر دہشت گردی ، اور دیگر مسائل کے بانی کو وزیراعلیٰ گنڈا پور ہی پسند ہیں گزشتہ دنوں جب اسلام آباد میں چڑھائی کے شوق میں میدان میں لوگوں کو لاکر وزیر اعلیٰ خود بھی دیگر لیڈران کے ساتھ اور کپتان کی بیگم کے ہمراہ فرار ہوگئے تھے  جماعت کی اکثریت بشمول بانی ان سے شاکی ہوگئے تھے۔ جعفر ایکسپریس دہشت گردی جو بلوچستان لبریشن آرمی نے انجام دی ،ایک نہایت ہی منظم دہشت گردی تھی جس پر دنیا کو ایک مرتبہ پھر واضح ہوگیا کہ بھارت کی مدد سے دہشت گرد کس طرح پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں ، مگر ہماری وزارت خارجہ جس پر ملک کا اربوں روپیہ خرچ ہوتا ہے وہ دنیا کو بھارت کی دہشت گردی کابتانے انہیں بھارت کو دہشت گرد کہلانے میں میں ناکام ہے، بی ایل اے کے ایک سابق کمانڈر نے بھارتی سورمائوں سے اپنی ملاقات کے بعد جس میںانہوںنے واضح کیا تھا کہ جب بھارت سے بلوچستان کی علیحدگی پر تعاون کی بات کی تو بھارت کا جواب تھا کہ ’’ہمیں آپکی آزادی سے کوئی دلچسپی نہیں ہم تو صرف پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے محب وطن جانتے ہیں کہ پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کیلئے کئی محاذوں پر کام ہورہا ہے وہ پایہ تکمیل تک ہماری عسکری قیادت کی ماہرانہ کاوشوںکی وجہ سے نہیں پہنچ پارہا اور ان شااللہ پہنچ بھی نہیں پائے گا۔ پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بانی نہ ہی اپنی حکومت کے دوران شریک ہوئے ، حزب اختلاف میں ہوتے ہوئے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا چونکہ انکے مقابلے میں سب ہی جعلی ہیں بانی کا یہ شرپسندہ خیال صرف پاکستان کی سیاسی جماعتوں کیلئے ہی نہیں پاکستان کی عسکری قیادت کے متعلق بھی ہے ، نیز یہ بات غور طلب ہے کہ دہشت گردوں کے مقابلے کیلئے انکے خلاف لائحہ عمل بنانے کیلئے دہشت گردسوچ کے لوگوںکو بٹھا کر کیا مشورہ کیا جائے، دہشت گردوںنے بلوچستان میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی یادگار رہائش گاہ زیارت کو جلا دیا تھا، پی ٹی آئی نے بھی 9مئی کویہ ہی اقدامات کئے ، پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ دہشت گردوںکے خلاف ایکشن نہیں بلکہ ان سے مذاکرات کئے جائیں یہ بہت ہی ملک دشمنی پر مبنی سوچ ہے ، دہشت گرد ہمارے جوانوں، اور معصوم شہریوںکو شہید کریں، زبان اور صوبے کی بنیاد پر انکے شناختی کارڈ دیکھ کر انہیں شہید کریں اور ہم ان کفار سے مذاکرات کریں، پی ٹی آئی نے اپنے دور میں افغانستان سے سے بے شمار افغانیوں جن کا تعلق تحریک طالبان سے تھا پاکستان میں بسایا۔ بالآخر قومی سلامتی کے اس اجلاس میں تحریک انصاف نے توقع کے مطابق شرکت نہیںکی دو روز قبل انہوںنے ایک جھوٹ پر مبنی بیانیہ بنایا کہ بانی کو رہا کیاجائے اور ان سے مذاکرات کئے جائیںاسکا مطلب تھا کہ زیب بشیر جو اس وقت بلوچستان لیبریشن آرمی کے سربراہ ہیںاور پاکستان کی تباہی کی طرف گامزن ہیں ان سے مذاکرات کئے جائیں ، دنیا کو دکھانے کیلئے پی ٹی آئی کے گروہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمیں بانی سے ملاقات کرائی جائے تاکہ ہم مشورہ کر سکیں۔ جو لوگ پارلیمان میں ہیں ان سے تو مشورہ ہوسکتا ہے جسکا تعلق ہی پارلیمان سے نہیں وہ تو ’’تو کون میں خوا مخواہ ‘‘ ہی ہے یا ’’بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ ‘‘والی بات ہے۔ انکے خیبر پی کے، کے وزیراعلیٰ نے اپنی خطاب میں کہہ ہی دیا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میںان دہشت گردوںکے خلاف ایکشن نہیں بلکہ ان سے مذاکرات کئے جائیں، اسکے ساتھ ہی بھارت، امریکہ ، دوبئی ، برطانیہ میں بیٹھے انکے سوشل میڈیا کے دہشت گرد فوری پروپیگنڈے میں مشغول ہوگئے اور جھوٹ پر مبنی وی لاگ بنانا شروع کر دیئے کہ جنرل عاصم منیر سے فوج نے استعفیٰ طلب کر لیا، ہائے بے چاروں کی خواہش۔۔دہشت گردوںکے ٹارگٹ ہمیشہ CPEC  پراجیکٹس رہے ہیں ، وہ ساتھ ہی یہ بھی بیان دیتے ہیں کہ بلوچستان میں زیادتی ہورہی ہے ہمیں ہمار ا حق نہیں مل رہا ، CPEC پاکستان کی ترقی کی طرف ایک اشارہ ہے جب ترقی ہی رک جائے گی تونہ صرف بلوچستان ، بلکہ دیگر صوبوںکو بھی معاشی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اب حکومت کا فرض ہے کہ وہ صرف دہشت گردوںکا پیچھا ہی نہ کرے بلکہ ملک میں بیٹھے انکے سہولت کاروں کو بھی سخت سزائیں دینے میں کسی رعایت کا اظہار 
نہ کرے ، سہولت کار زیادہ سزائوںکے مستحق ہیں، 9مئی کے مجرمان کو سزائیں تاحال نہ دیکر ہم قومی جرم کے مرتکب ہوئے ہیںجس سے ملک دشمن سہولت کاروں میں ایک مرتبہ پھر جان آگئی ہے ، اس جماعت کی تنظیمیں جہاں جہاںتھیں وہاں پھر سر اٹھا رہی ہیں خاص طور پر خلیج میں ، امریکہ ، برطانیہ میں تو سر اٹھانے والے پاکستانی پاسپورٹس کے بھی حامل نہیں ہیں۔سیاست کرنا جرم نہیں ہر ایک کو حق ہے مگر ملکی کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کا کسی کو حق نہیں، وزارت خارجہ کو فوری چاہئے کہ وہ بااثر وفود بیرون ملک میںبھیجے اور بھارت کی جانب سے پاکستان میں دراندازی کو بیرونی دنیا میں بے نقاب کرے۔ انکا نعرہ یہ ہو کہ ہمیں اب کچھ کرنا ہے ۔بھارتی لابی بیرون ملک ہم سے بہت آگے ہے اس لئے محنت کی ضرورت ہے، مشورہ یہ ہے کہ اس وقت بلاول بھٹو کو ہی بیرون ملک بھارتی پروپیگنڈہ اور پاکستان کے خلا ف بھارتی ، افغانی سازش سے اعلیٰ اداروں کو روشناس کرانے کی ذمہ داری دی جائے ۔ ملک ہے تو سب کچھ ہے۔

ٹیگز: