اسلامی جمہوریہ پاکستان ، جو دنیا کے نقشے پر اس وقت ایک بہترین اور با صلاحیت مملکت کے طور پر اپنی دفاعی، معاشی، معاشرتی اور سفارتی بنیادوں پر مضبوط کھڑا ہے۔پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا لمحہ آیا ہو جب عوامی رائے نے ایک ہی سمت میں اتنے مضبوط اور واضح اشارے دیئے ہوں اور وہ سمت ہے استحکام، شفافیت اور ترقی کی۔ جس کی واضح مثال ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والی NCPS 2025 رپورٹ، جو نہ صرف ایک سروے ہے بلکہ قوم کے مجموعی شعور، امید اور اعتماد کی عکاسی بھی ہے۔ یہ رپورٹ ایک ایسے پاکستان کی تصویر کھینچتی ہے جو کئی دہائیوں کی بے یقینی کے بعد اب اعتماد سے آگے بڑھ رہا ہے۔یہ رپورٹ اس بات کو بڑے وثوق سے واضح کرتی ہے کہ پاکستان میں بدعنوانی کا “تاثر” کم ہو رہا ہے، عوام رشوت سے آزاد ہو رہے ہیں، اداروں کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے، اور شہری اپنے مستقبل کے بارے میں پہلے سے زیادہ مطمئن ہیں اور کسی بھی قوم کے لیے یہی وہ اشارے ہوتے ہیں جو ترقی کے سفر کی رفتار طے کرتے ہیں۔
NCPS 2025 کے مطابق 66 فیصد پاکستانیوں نے گزشتہ بارہ ماہ میں کسی سرکاری سروس کے لیے رشوت نہیں دی۔ یہ خوش آئند بات محض ایک عدد نہیں بلکہ ریاستی مشینری کے بدلتے ہوئے کردار کی نشان دہی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر حقیقت یہ ہے کہ ہر تین میں سے دو شہری روزمرہ خدمات میں بغیر رشوت کے کام کرا رہے ہیں۔ یہ وہی پاکستان ہے جہاں کبھی ایک سادہ سا سرکاری کاغذ بھی فیس کی طرح رشوت مانگتا تھا۔ آج حالات وہاں تک پہنچ چکے ہیں جہاں اکثریت کو اس کلچر سے آزادی مل رہی ہے۔تاہم یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ یہ اسی وقت آتی ہے جب اداروں میں اصلاحات ہوں، اختیارات کی شفاف تقسیم ہو اور عوام میں یہ احساس پیدا ہو کہ ریاست ان کی ہے، کسی "مخصوص طبقے" کی جاگیر نہیں اور نہ ہی شخصیت پرستی کی مرہون منت۔
یہاں یہ امر بھی قابل ستائش ہے کہ حیرت انگیز طور پر 60 فیصد شہریوں نے مانا کہ آئی ایم ایف معاہدے اور FATF گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد معیشت کو واضح سہارا ملا ہے۔یہ وہی عوام ہیں جن پر مہنگائی کا بوجھ پڑا تھا، جنہوں نے مشکل فیصلے برداشت کیے۔ مگر پھر بھی آج وہ یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ ملک کی سمت درست ہے۔ اس پر مزید اہم یہ کہ 43 فیصد شرکا نے قوتِ خرید میں بہتری رپورٹ کی۔ ایسے وقت میں جبکہ دنیا بھر میں معاشی دباؤ جاری ہے، یہ ایک مثبت اشارہ ہے کہ پاکستانی عوام مستقبل کے معاشی منظرنامے کے بارے میں زیادہ پُرامید ہیں۔یہ حیرت کی بات نہیں بلکہ خوش آئند ہے کہ عوام صرف حکومت سے نہیں، بلکہ نجی فلاحی اداروں اور این جی اوز سے بھی شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔51 فیصد شہری چاہتے ہیں کہ ٹیکس چھوٹ لینے والے ادارے عوام سے فیس نہ لیں جبکہ 53 فیصد چاہتے ہیں کہ ان اداروں کو اپنے ڈونرز اور عطیات کی تفصیل عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔یہ سوچ ایک بالغ قوم کی نشانی ہے ، ایسی قوم جو جانتی ہے کہ شفافیت صرف حکمرانوں کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس ادارے کے لیے ضروری ہے جو عوامی خدمت کا دعویٰ کرتا ہے۔
جہاں تک اداروں کی کارکردگی کا سوال ہے تو بدعنوانی کے تاثر میں اگرچہ پولیس سرفہرست ہے، لیکن اسی کے ساتھ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ پولیس کے بارے میں عوامی رائے میں 6 فیصد مثبت رجحان دیکھا گیا ہے۔یہ محض اعدادوشمار نہیں بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ 4000 افراد کے ایک بڑے نمونے نے یہ رجحان ظاہر کیا ہے، جو حقیقت سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔یہی وہ مثبت تبدیلی ہے جو بتاتی ہے کہ پولیس کا طرزعمل بہتر ہو رہا ہے اور سروس ڈلیوری میں بھی بہتری آ رہی ہے۔تعلیم، زمین و جائیداد، لوکل گورنمنٹ اور ٹیکسیشن جیسے شعبوں میں بھی عوامی رائے میں بہتری رپورٹ ہوئی ۔یہ وہ شعبے ہیں جنہیں ہمیشہ سے بدعنوانی کے اڈے سمجھا جاتا تھا۔
NCPS 2025 پاکستانی عوام کی اجتماعی سوچ کا آئینہ ہے۔یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ 78 فیصد شہری احتسابی اداروں کے خود احتساب کے حامی ہیں جبکہ 83فیصد سیاسی جماعتوں کو کارپوریٹ فنڈنگ پر پابندی یا سخت ضابطہ کاری چاہتے ہیں۔ 42 فیصد موثر وہسل بلوور قوانین کی صورت میں بدعنوانی رپورٹ کرنے کو تیار ہیں۔ایسا شعور رکھنے والی قوم بدعنوانی کا ایندھن نہیں بنتی بلکہ وہ بدعنوانی کا خاتمہ کرتی ہے۔حیران کن مگر حقیقت یہ ہے کہ 70 فیصد شہری کسی بھی سرکاری رپورٹنگ نظام سے ناواقف ہیں۔یعنی عوام بدعنوانی کے خلاف کھڑے تو ہیں مگر ان کے پاس نظام تک رسائی کی معلومات نہیں۔یہ حکومت اور اداروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج اور ساتھ ہی سب سے بڑا موقع بھی ہے۔ اگر ریاست عوام کو یہ بتا دے کہ شکایت کیسے کرنی ہے، تو معاشرہ خود ہی کرپشن کا قلع قمع کر سکتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ NCPS کرپشن کی اصل شرح نہیں بتاتا بلکہ عوامی تاثر بتاتا ہے۔اور تاثر ہمیشہ حقیقت سے پہلے بدلتا ہے ، پہلے ذہن بدلتا ہے، پھر نظام بدلتا ہے اور پھر معاشرہ۔آج پاکستان کے عوام کا تاثر تبدیل ہو رہا ہے۔ یہ تبدیلی محض "احساس" نہیں، بلکہ حقیقت کی طرف بڑھتی ہوئی راہ ہے۔کرپشن میں کمی کا احساس، معیشت میں بہتری کا احساس، اداروں کی اصلاح کا احساس ، یہ سب پاکستان کے روشن مستقبل کے نام ہے۔
ہم تاریخ کے اس حصے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں پاکستان کا بیانیہ مایوسی سے امید کی طرف بدل رہا ہے۔یہ سچ ہے کہ مسائل اب بھی ہیں، راستہ ابھی بھی مکمل نہیں، مگر سمت درست ہے۔قومیں سمت سے بنتی ہیں، رفتار بعد میں آتی ہے۔اور پاکستان نے اب وہ سمت پکڑ لی ہے جو اسے ترقی، استحکام اور شفافیت کی طرف لے جائے گی۔ NCPS 2025یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان پہلے سے کہیں زیادہ شفاف ہو رہا ہے،عوام پہلے سے زیادہ با شعور ہو رہے ہیں، ادارے پہلے سے زیادہ جواب دہ ہو رہے ہیں اور قوم پہلے سے زیادہ متحد ہو رہی ہے۔ تاہم اگر یہ سفر جاری رہا، تو آنے والی نسلیں شاید رشوت اور بدعنوانی جیسے الفاظ صرف تاریخ کی کتابوں میں پڑھیں گی۔پاکستان روشن ہو رہا ہے مگر اس بار امید کے ساتھ، اعتماد کے ساتھ، اور ثبوت کے ساتھ۔اور وہ دن دور نہیں جب پاکستان نعروں میں ہی بلکہ واقعی زندہ اور پائندہ باد ہوگا۔