آج میں آپ کو اَپنے دو دوستوں کی کہانی سناو¿ں گا۔ دونوں میرے دیرینہ دوست ہیں اَور وہ دونوں بھی آپس میں ایک د±وسرے کے دوست ہیں۔ میرے پہلے دوست میر صاحب ہیں۔ میر صاحب اَور میں نے ایک ساتھ یو ای ٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی تھی۔ میر صاحب ایک سرکاری ادارے میں بیسویں گریڈ کے افسر ہیں۔ وہ نہایت اِیمان دار افسر ہیں۔ لہٰذا ا±ن کا گزارا صرف تنخواہ پر ہوتا ہے۔ ا±وپر کی آمدنی ا±ن کے گھر نہیں آتی۔ میر صاحب نے بتایا کہ وہ ایک لاکھ روپے سے زائد ماہوار انکم ٹیکس دیتے ہیں۔ گویا اگر کہنے کو ا±ن کی تنخواہ تین لاکھ روپے ہے تو ا±ن کے ہاتھ میں دو لاکھ ہی آتے ہیں۔ اَپنی تنخواہ میں وہ لشتم پشتم گزارا کرتے ہیں اَور بقول ا±ن کے مہینے کے آخری ہفتے میں وہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ کوئی مہمان نہ آئے، کوئی بیمار نہ پڑے، کوئی اَور ناگہانی خرچ نہ آئے۔ ا±ن کا کہنا ہے کہ اگر وہ مہینے کے آخری ہفتے میں مرگئے تو ا±ن کے کفن دفن کے پیسوں کا بندوبست کرنا بھی مشکل ہوگا۔ کہنے کو بیسواں گریڈ بہت بڑا سمجھا جاتا ہے لیکن اَصل صورتِ حال میں نے آپ کے سامنے عرض کردی ہے۔
میرے دوسرے دوست قریشی صاحب ہیں۔ ا±نہوں نے بی اے کیا تھا۔ بی اے کرنے کے بعد وہ اَپنے والد صاحب کی د±کان پر بیٹھنا شروع ہوگئے۔ یہ د±کان لاہور کی اکبری منڈی میں ہے۔ یہاں وہ مسالے اَور خشک میوہ جات بیچتے ہیں۔ ا±ن کی بے پناہ سیل ہے۔ د±کان پر ہر وقت گاہکوں کا رش لگا رہتا ہے۔ اِس کی وجہ وہ معیار بھی ہے جو قریشی صاحب نے برقرار رکھا ہوا ہے۔ قریشی صاحب کا بینک اکاو¿نٹ تو ہے لیکن ا±س میں برائے نام رقم ہی ہوتی ہے۔ ا±ن کا سارا لین دین کیش پر چلتا ہے۔ میں ایک دو بار ا±ن کی د±کان پر گیا ہوں۔ میرا مقصد خشک میوہ خریدنا تھا۔ میں نے دیکھا کہ قریشی صاحب کسی قسم کی کوئی پکی رسید نہیں دیتے۔ ا±نہوں نے د±کان پر لکھ کر لگایا ہوا ہے کہ بینک ٹرانسفر یا جیز کیش کی سہولت میسر نہیں ہے۔ میں نے ایک دِن ا±ن سے کہا کہ اَب د±نیا بہت آگے چلی گئی ہے۔ لوگ اَپنی جیب میں کیش رکھنا پسند نہیں کرتے۔ تم کریڈٹ کارڈ کی مشین کیوں نہیں لگوا لیتے؟ ا±نہوں نے میری طرف اِس طرح دیکھا جیسے میں د±نیا کا بے وقوف ترین اِنسان ہوں۔ لیکن کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے جب ذرا زور دِیا تو کہنے لگے کہ بھائی مجھے وہ مشین لگوا کر پھنسنا نہیں ہے۔ جونہی وہ مشین لگی ایف بی آر والے میری جان کو آجائیں گے۔ میں نے پوچھا کہ تم کتنا ٹیکس دیتے ہو۔ ا±نہوں نے جو رقم بتائی وہ س±ن کر میری ہنسی نکل گئی۔ بلا مبالغہ ا±ن کی آمدنی ا±س رقم سے سو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ یہ ٹیکس وہ سال میں ایک دفعہ دیتے ہیں۔ میر صاحب کی طرح ہر مہینے نہیں دیتے۔ قریشی صاحب کے پاس تین گاڑیاں ہیں۔ لاہور کی بہترین سوسائٹی میں ا±ن کا دو کینال کا شان دار بنگلہ ہے۔ الحمد للہ وہ مہینے کے کسی بھی دِن نہایت آرام سے مر سکتے ہیں۔ ا±ن کا کفن دفن بلکہ سوئم وغیرہ بھی نہایت تزک و اِحتشام سے ہوگا۔
میرے اِن دو دوستوں کی کہانی یہ بتاتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں آمدنی اَور ٹیکس کے حوالے سے بہت زیادہ تفاوت پایا جاتا ہے۔ گریڈ بیس کے اعلیٰ افسر کے بارے میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ وہ تو سونے کے برتنوں میں کھانا کھاتا ہوگا اَور ا±س کے اِردگرد نوکر چاکر ہر وقت ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہوں گے۔ میر صاحب ایک پانچ مرلے کے گھر میں رہتے ہیں۔ ا±نہیں سرکار کی طرف سے ایک گاڑی ملی ہوئی ہے۔ ا±ن کے اَپنے پاس ایک موٹر سائیکل ہی ہے۔ ا±ن کی گاڑی کا ماڈل چودہ سال پرانا ہے۔ چنانچہ ا±س میں آئے روز مسائل آتے رہتے ہیں۔ دیکھا جائے تو الیکٹریکل انجینئر ہونے کے ناتے وہ سائنس اَور ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔ گویا ا±ن کی وجہ سے ملک میں سائنس کے فروغ کے لیے کچھ نہ کچھ ہورہا ہے۔ ا±ن کا لاہور کی کسی بھی سوسائٹی میں کوئی بھی پلاٹ نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ تم نے کوئی پلاٹ کیوں نہیں لیا۔ ا±نہوں نے میری طرف اَیسے دیکھا جیسے میں نہایت احمق اِنسان ہوں۔ کہنے لگے کہ میری تنخواہ سے گھر کا خرچہ اَور بچوں کی پڑھائی ہی بمشکل پوری ہورہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عزت اَور پردہ رکھا ہوا ہے۔ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تم پلاٹ کے خواب دیکھ رہے ہو۔ مجھے یہ سن کر بہت د±کھ ہوا۔ میں نے سوچا کہ اگر ہمارے ملک میں پڑھے لکھے بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کا یہ حال ہے تو ہم کیسے ترقی کریں گے۔ سائنس کے شعبے سے وابستہ لوگوں کو تو سب سے زیادہ مراعات ملنی چاہئیں۔ لیکن ہماری ترجیحات ہی کچھ اور ہیں۔ ہمارے نزدیک د±وسری چیزیں زیادہ اہم ہے۔ چنانچہ ملک کی صحیح معنوں میں ترقی نہیں ہوپارہی۔ وہ شخص جو ایک لاکھ روپے ماہوار سے زیادہ ٹیکس دے رہا ہے ا±س کے لیے قبر کا بندوبست کرنا بھی د±شوار ہے۔ ا±سے وہ کون سی خصوصی مراعات مل رہی ہیں جو د±وسروں کے پاس نہیں ہیں۔ قریشی صاحب چونکہ بہت سمجھ دار ہیں اِس لیے وہ برائے نام ٹیکس دے کر فائلر کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں۔ اب وہ ہر قسم کی مراعات حاصل کررہے ہیں جو فائلر کو ملتی ہیں۔ لیکن ملک کی معاشی ترقی کے حوالے سے ا±ن کا کردار تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔
میر صاحب نہ صرف ایک لاکھ روپے سے زائد ماہوار انکم ٹیکس دے رہے ہیں بلکہ وہ بے شمار اور چیزوں پر بھی روزانہ کے حساب سے ٹیکس دیتے ہیں۔ وہ جو چیز بھی خریدتے ہیں ا±س پر ٹیکس دیتے ہیں۔ وہ سفر کرتے ہیں تو ا±س پر ٹیکس دیتے ہیں۔ وہ کہیں کھانا کھانے جاتے ہیں تو ٹیکس دیتے ہیں۔ گویا وہ اَپنی آمدنی کا زیادہ تر حصہ ٹیکس کی شکل میں حکومت کے حوالے کردیتے ہیں۔ میں نے ا±ن سے کہا کہ آپ کی تنخواہ کہنے کو اِتنی ہے لیکن اصل میں تو آپ کو ایک لاکھ سے زائد کم ملتے ہیں۔ تو حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک ہاتھ سے دے کر د±وسرے ہاتھ سے لینے کے بجائے تنخواہ ہی ایک لاکھ روپے کم کردے۔ آپ بھی سکون میں آجائیں گے۔ ہر سال ٹیکس کے گوشوارے جمع کرانے کے جھنجھٹ سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ ا±نہوں نے پھر میری طرف اَیسی نظروں سے دیکھا جن کا مطلب تھا کہ تم کس د±نیا کی باتیں کررہے ہو۔
اَصل بات یہ ہے کہ جو جتنا کمائے ا±س حساب سے ٹیکس دے۔ یہ خیال کہ لوگ خود اِیمان داری سے ٹیکس دیں گے جھوٹی جنت میں رہنے کے مترادِف ہے۔ ہم میں حب الوطنی کا جذبہ بہت ہی کم لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ جسے جہاں موقع ملتا ہے وہ داو¿ لگاتا ہے۔ کچھ لوگ وہ ہیں جو ایک پائی بھی ٹیکس نہیں دیتے۔ حکومت کا ا±ن پر زور نہیں چلتا یا حکومت میں موجود افراد خود ا±ن سے ملے ہوئے ہیں اَور نہیں چاہتے کہ اِن لوگوں پر ٹیکس عائد کیا جائے۔ وجہ جو بھی رہی ہو، نقصان ملک کا ہورہا ہے۔ چنانچہ وہ لوگ جو نوکری پیشہ ہیں، وہ حکومت کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اَور حکومت ا±ن سے ا±ن کی اوقات سے بڑھ کر ٹیکس لیتی ہے۔ یہ سلسلہ ہر ایک کے لیے ایک جیسا ہونا چاہیے۔ نہاری، چنے، پائے بیچنے والے، کریانے کی د±کانیں، مکینک، سینٹری اَور الیکٹریکل کا سامان فروخت کرنے اَور ا±ن کا کام کرنے والے، پھل اَور سبزی فروش، کتابیں اَور اسٹیشنری کا سامان بیچنے والے ایک پائی ٹیکس نہیں دیتے۔ ا±ن کے حصے کا ٹیکس بھی حکومت نوکری پیشہ افراد سے لینے پر مجبور ہے۔ لیکن یہ سلسلہ ہمیشہ اس طرح نہیں چل سکتا۔ اِس میں جلد یا بدیر تبدیلی لانا پڑے گی۔ ہر ایک کو ٹیکس دینا ہوگا اَور اَپنی آمدنی کے حساب سے دینا ہوگا۔ ترقی یافتہ د±نیا میں یہی ہوتا ہے۔ ورنہ میر صاحب جیسے افراد یونہی ذلیل ہوتے رہیں گے اَور قریشی صاحب جیسے اَفراد عیش کرتے رہیں گے۔ یہ فیصلہ بھی ہم نے خود ہی کرنا ہے کہ اَپنے نوجوانوں کو کیا ترغیب دیں۔ وہ سائنس پڑھ کر ملک کی کوئی خدمت کریں یا ٹیکس چوری کرکے امیر سے امیر تر ہوتے جائیں۔