Wed, September 16, 2026

عرفان صدیقی مرحوم۔۔۔ میرے محسن، میرے رہبر!

عرفان صدیقی مرحوم۔۔۔ میرے محسن، میرے رہبر!

اللہ کریم غریقِ رحمت فرمائے برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی کو مرحوم لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ تریسٹھ ، چونسٹھ برس کا ساتھ، گہری قربت اور دیرینہ دوستی ایسے اچانک چھوٹ جائے گی۔ پھر دوستی اور تعلق بھی ایسا جس کی بنیاد باہمی خلوص، ایثار، محبت، مروت اور برادرانہ تعلقات پر تھی۔عرفان صاحب کا ذکر کرنے لگا ہوں تو میری خواہش ہے کہ ان کی باتیں زیادہ ہوں اور میں بیچ میں اپنا ذکر کم ہی لے کر آﺅں لیکن مجبوری ہے کہ اس کے بغیر بات بنتی نہیں۔ سچی بات ہے عرفان صاحب میرے محض ایک مخلص دوست اور رفیقِ کار ہی نہیں تھے بلکہ وہ ایک ایسے رہبر، رہنما اور ایسی آئیڈیل شخصیت تھے جن سے میں نے بہت کچھ پایا ، بہت کچھ سیکھا اور بہت کچھ حاصل ہی نہ کیا بلکہ اُن کی شخصیت کے گہرے اثرات بھی قبول کیے ۔ میں پوری ذمہ داری اور یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ عرفان صاحب مرحوم اپنی ذات میں ایک انجمن تھے ، ایک ادارہ تھے ، روشنی کا ایک مینار تھے جس سے علم و آگاہی ، ہدایت و رہنمائی ، عقل و دانش ، اعلیٰ اخلاق و کردار، راست گوئی ، فرض شناسی ، اقدار و روایا ت کی پاسداری ، مروت و مہربانی اور حسنِ اخلاق کے چراغ پھوٹتے تھے تو اس کے ساتھ گہرا سیاسی، تہذیبی اور تمدنی شعور اور وطنِ عزیز کے ہی نہیں بلکہ عالمِ اسلام کے معاملات و مسائل سے گہری آگاہی کا پر تو بھی جھلکتا تھا۔ اللہ کریم نے انہیں حسن صورت کے ساتھ حسن ِ سیرت کا جو ملکہ اور خوش کلامی ، خوش اخلاقی، شائستہ اطوار اور حسنِ تحریر و تقریر کی جو خوبیاں عطا کر رکھی تھیں اور اُس کے ساتھ اُن کی شخصیت میں ملائمت، نفاست، وضع داری ، قدر دانی ، رکھ رکھاﺅ اور مروت کے جو پہلو تھے، بلاشبہ انہیں بے مثال کہا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو کوئی اُن سے ایک بار ملتا یا اُن کے حلقہ احباب میں شامل ہوتا تو پھر انہی کا ہو کر رہ جاتا۔
برادرِ مکرم و محترم عرفان صاحب مرحوم سے میرے تعلق اور دوستی کی ابتدا کیسے ہوئی، میں ذہن کے نہاں خانے میں موجود یادوں کو کریدتا ہوں تو مجھے ایسے یاد پڑتا ہے کہ پچھلی صدی کے ساٹھ کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں عرفان صاحب اور میں نے راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے دو الگ الگ پرائمری سکولوں میں اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔ 1963 ءکے موسم خزاں میں FA کے پرائیویٹ امتحان کی تیاری کے لئے مولانا فتح محمد مرحوم (سابق امیر جماعتِ اسلامی راولپنڈی ڈویژن) کے قائم کردہ ادارے تعلیمات عالیہ کالج میں ہم نے داخلہ 
لیا تو یہاں سے ہماری دوستی کا آغاز ہوا جو ہر گزرتے دن کے ساتھ گہری قربت میں تبدیل ہوتی گئی۔ شب و روز گزرتے رہے ، کیا کیا معاملات مہر و محبت تھے جن سے ہم روشناس نہ ہوئے ۔ کیا کیا مسائل اور مشکلات تھیں جن کا ہمیں سامنا نہ رہا ۔محنت ، بھاگ دوڑ ، کنبے اور گھرانے کی ذمہ داریوں میں ہاتھ بٹانا، ملازمت میں ترقی اور اعلیٰ تعلیم کا حصول ، زندگی ایک جہدِ مسلسل کی علامت بنی رہی سچی بات ہے عرفان صاحب کی رفاقت مجھے حاصل نہ ہوتی تو شاید میں اس طرح اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر پاتا اور میری سوچ و فکر میں شروع سے جو ایک طرح کی پختگی اور سنجیدگی پید اہوئی وہ شاید اس حد تک نہ ہوتی۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ملکی اور قومی معاملات میں جو اندازِ فکر و نظر میںآج تک اپنائے ہوئے ہوں اس میں عرفان صاحب کی سوچ اور فکر کا رنگ ہی نہیں بڑی حد تک جھلکتا ہے بلکہ میری ذاتی زندگی میں بھی بہت ساری ایسی باتیں ہیں جو عرفان صاحب مرحوم کی تقلید کا نتیجہ قرار دی جا سکتی ہیں۔ 
عرفان صاحب کو اللہ کریم نے اعلیٰ پایہ کی ذہنی ، دماغی اور تخلیقی صلاحیتیں عطا کر رکھی تھیں۔ تقریباً65 برس قبل وہ پرائمری سکول کے اُستاد کی حیثیت سے شعبہ تدریس سے وابستہ ہوئے اور 27 سال کی ملازمت کے بعد ملک کے نامور تعلیمی ادارے ایف جی سرسید کالج راولپنڈی سے بطورِ اسسٹنٹ پروفیسر قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی۔ اس دوران اُن کی کارکردگی ہر موقع پر مثالی رہی ۔ پرائمری سکول میں اُن کی پانچویں جماعت وظائف لینے میں پیش پیش ہوتی تھی تو ایم اُردو کرنے کے بعد سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور میں انہوں نے بی ایڈ میں داخلہ لیا تو پنجاب یونیورسٹی میں اول آئے اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ سرسید کالج میں بطور لیکچرار انتخاب ہوا تو کالج کی علمی، ادبی، نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں کے روح رواں بن گئے ۔ عرفان صدیقی مرحوم میں خود اعتمادی ، معاملات و مسائل کو پرکھنے اور دلائل و براہین کی روشنی میں اُن کا جائزہ لینے کی جو صلاحیت پائی جاتی تھی اور زبان وبیان پر انہیں جو عبور حاصل تھا اس کی بنا پر وہ ہمیشہ اپنے ساتھیوں اور رُفقا میں نمایاں مقام کے مالک رہے۔ سرسید کالج میں اگرچہ اُن سے بہت سے سینئیر اساتذہ موجود تھے لیکن ریٹائرڈ پرنسپل پروفیسر محمد امین بھٹی اور اُن کے پیش رو مرحوم پروفیسر ایم ایچ ہمدانی عرفان صاحب کی رائے ، تجاویز اور مشوروں کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ 
برادرِ عزیز عرفان صدیقی مرحوم کا سب سے قریبی دوست اور ہمدم ِ دیرینہ ہونے کے ناطے میں پوری شرح صدر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ مرحوم شہرت اور ذاتی نمود و نمائش کے رسیا نہیں تھے ۔ اللہ کریم نے انہیں شاعری کا فطری اور خداداد ملکہ عطا کر رکھا تھا تو اس کے ساتھ خوبصورت اور صاحبِ اسلوب نثر نگار کی صلاحتیں بھی اُن میں بدرجہ اُتم موجود تھیں۔ اپنے مضمون (اُردو) کے ایک انتہائی مقبول، ہر دلعزیز اور کامیاب اُستاد ہونے کے ناطے انہوں نے لکھنے لکھانے اور شاعری کا سلسلہ کب سے شروع کر رکھا تھا لیکن ریڈیو پاکستان سے بطور ایک ڈرامہ نگار اور ایک گفتگو کار (Talker ) وابستہ ہونے سے اُن کی لکھنے لکھانے کی صلاحیتوں کو خوب جلا ملی ۔ اَسی کی دہائی کے دوران انہوں نے ریڈیو کےلئے یاد گار ڈرامے لکھے جو قومی نشریاتی رابطے پر نشر ہوئے ۔اَسی ہی کی دہائی کے آخری برسوں (1989 ) میں جب اُن کا شمار ملک کے ممتاز ترین تعلیمی ادارے ایف جی سرسید کالج راولپنڈی کے کامیاب ترین اور مقبول ترین اساتذہ میں ہوتا تھا اورا ُن کے لئے ترقی کے مزید مواقع موجود تھے تو انہوں نے سرکاری ملازمت سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی اور صحافت اور لکھنے لکھانے کو اپنا کل وقتی مشغلہ بنا لیا۔ جلد ہی اُن کا نام ادب اور صحافت کی دنیا میں معروف ہو گیا۔ نوے کی دہائی کے ابتدائی اور درمیانی برسوں میں وہ پہلے لاہور سے جناب مجیب الرحمن شامی کے معروف ہفت روزہ ”زندگی“ اور ماہنامہ ”قومی ڈائجسٹ“ اور بعد میں محمد صلاح الدین مرحوم کے کراچی سے نکلنے والے ہفت روزہ ”تکبیر“ جو اُس زمانے میں پاکستان کا سب سے زیادہ شائع ہونے والانیوز میگزین تھا کے ساتھ وابستہ رہے ۔ مسلم لیگ ن کے دوسرے دورِ حکومت میں جسٹس ریٹائرڈ محمد رفیق تارڑ مرحوم نے صدرِ مملکت کا منصب سنبھالا تو انہوں نے بڑے اصرار اور چاﺅ سے محترم عرفان صدیقی مرحوم کو اپنا پریس سیکریٹری (میڈیا ایڈوائزر) مقرر کیا۔ اکتوبر 1999ءمیں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو برطرف کر کے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ جمایا اور جولائی 2001 ءمیں محترم رفیق تارڑ کو بطور صدرِ مملکت مستعفی ہونا پڑا تو جناب عرفان صدیقی بھی مشرف کی حکومت کی طرف سے ذمہ داریاں جاری رکھنے کی خوش دلانا پیشکش کے باوجود ایوانِ صدر سے رُخصت ہو گئے اور انہوں نے روزانہ (Daily ) صحافت میں ”نقشِ خیال “ کے عنوان سے کالم نگاری کا سلسلہ شروع کیا جو مﺅقر روزنامہ نوائے وقت میں ہفتے میں چھ روز چھپنے لگا۔ (جاری ہے) 

ٹیگز: