Wed, September 16, 2026

زہران بمقابلہ زورین

زہران بمقابلہ زورین

آج کل جین زی کی اصطلاح نوجوانوں میں بہت مقبول ہے۔ جین مختصر شکل ہے انگریزی لفظ جنریشن کی جس سے مراد ہے نسل یا پیڑھی اور زی انگریزی حروف تہجی کا آخری حرف ہے جسے زیڈ بھی کہا جاتا ہے۔ آخری سے مراد اختتامی بھی ہوتا ہے اور تازہ ترین بھی۔ جنریشن اور زی دونوں کو ملا کر جنریشن زی کی اصطلاح وجود میں آئی ہے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ اس سے مراد آخری نسل ہے یا تازہ ترین نسل، البتہ پڑھے لکھے نوجوانوں کی بڑی تعداد خود کو فخر سے جین زی کا نمائندہ کہتی نظر آتی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ایسی اصطلاحات مغرب کی دین ہیں اور انسانیت کی کوئی خدمت کرنے کی بجائے معاشروں میں صرف تقسیم اور تفاوت کو جنم دیتی ہیں، شاید اسی لیے مشرق میں اس قسم کی اصطلاحات کے استعمال کا رواج نہیں۔ ہمارے یہاں تو نوجوانوں کو نوجوان نسل یا نئی نسل جیسے القابات دینے پر اکتفا کر لیا جاتا ہے جس میں بڑی اپنائیت اور پیار کی خوشبو ہے۔
خیر بات ہو رہی تھی جنریشن زی کی اور یہ اصطلاح جس نسل کے لیے استعمال ہو رہی ہے اس نسل کے دو نمائندے آج کل بہت مشہور ہیں جن میں سے ایک کا نام زہران اور دوسرے کا زورین ہے۔ اتفاق سے ان دونوں نوجوانوں کے نام بھی انگریزی حرف زی یا زیڈ ہی سے شروع ہوتے ہیں۔ زہران کا پورا نام زہران ممدانی ہے جبکہ زورین کا پورا نام زورین نظامانی ہے۔ اول الذکر نام کا اس وقت پوری دنیا میں ڈنکا بج رہا ہے جبکہ مو¿خرالذکر نام وطن عزیز کی فضاو¿ں میں گونج رہا ہے۔ دونوں میں کچھ چیزیں مشترک ہیں اور کچھ مختلف بھی۔
زہران اور زورین میں پہلی مماثلت تو ان کے نام ہیں جو بولنے میں بظاہر ایک جیسے لگتے ہیں۔ وجہ شاید یہ ہے کہ دونوں نام ”ز“ سے شروع اور ”ن“ پر ختم ہوتے ہیں جبکہ ان کے درمیان میں ”ر“ بھی آتا ہے۔ شاید کچھ لوگ اسی لیے انہیں بولتے ہوئے مغالطے کا شکار بھی ہونے لگے ہیں۔ کچھ لوگوں کو زورین ممدانی اور کچھ کو زہران نظامانی بولتے بھی سنا گیا ہے۔ دوسری مماثلت یہ ہے کہ دونوں کے خاندانی نام بھی تقریباً ہم قافیہ ہی ہیں ممدانی اور نظامانی دونوں کا حرفی روی ”الف“ ہے جبکہ آخری حصہ ”نی“ ہے۔ تیسری مماثلت یہ ہے کہ دونوں کے ناموں کے درست تلفظ سے متعلق بھی ابہام پایا جاتا ہے کوئی زہران کو ظہران لکھتا ہے تو کوئی زورین کو زورعین لکھ رہا ہے۔ چوتھی مماثلت یہ ہے کہ دونوں آج کل امریکہ میں مقیم ہیں۔ پانچویں مماثلت یہ ہے کہ دونوں ہی ایشیائی تارکین وطن ہیں۔ زہران کے والدین کا تعلق بھارت سے ہے اور زورین کے ماں باپ کا پاکستان سے ہے۔ چھٹی مماثلت یہ ہے کہ دونوں مسلمان ہیں۔
زہران اور زورین میں بہت سی چیزیں مختلف بھی ہیں۔ زہران اس وقت دنیا کے ایک مشہور شہر نیویارک کا پہلا مسلمان اور کم عمر ترین میئر بن چکا ہے جبکہ زورین ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے۔ زہران کی سوچ بڑی واضح ہے وہ امریکہ میں تارکین وطن اور خاص طور پر مسلمانوں کے لیے امید کی ایک کرن بن کر ابھرا ہے جبکہ زورین کا ذہن ابھی کئی طرح کے ابہامات کا شکار ہے۔ وہ بے بی بومرز اور جن زی جیسی اصطلاحات میں الجھا ہوا ہے۔ زہران نے ظلم اور لاقانونیت کے خلاف آواز اٹھائی ہے، اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکی صدر کو فاشسٹ کہا اور حال ہی میں وینزویلا پر حملے کے لیے امریکی صدر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے حالانکہ دونوں کے عہدوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ٹرمپ پورے امریکہ کا صدر ہے جبکہ زہران ممدانی امریکہ کے سیکڑوں شہروں میں سے صرف ایک کا میئر ہے، زہران نے شیطان صفت اسرائیلی وزیراعظم کو نیویارک آنے پر گرفتار کرنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ دوسری طرف زورین کو پاکستان کے حکمراں طبقے سے شکایت ہے جس کا اظہار اس نے حال ہی میں اپنی ایک متنازع تحریر میں کیا لیکن اس طبقے کا نام لینے کی اس میں ہمت نہیں ہوئی۔ اس کی بجائے وہ بے بی بومرز کو للکارتا ہے اور کہتا ہے کہ تمہارا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ بے بی بومرز صرف پاکستان میں موجود ہیں اور پاکستان میں موجود سب کے سب بے ظالم اور غاصب ہیں اور اب ان کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ امریکہ میں رہنے کے باوجود وہ یہ نہیں جانتا کہ بے بی بومرز ایک پوری نسل کا نام ہے اور وہ پوری دنیا میں موجود ہے۔ اس نسل کے لوگ آج بھی دنیا کے اہم ملکوں پر حکومت کر رہے ہیں۔ خود امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی بے بی بومر ہی ہیں۔ برطانیہ کے بادشاہ چارلس اور وزیراعظم کیئر سٹارمر بھی بے بی بومر ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی بی بی بومر ہیں۔ اسی طرح اور بھی کئی ملکوں کے رہنما بے بی بومر ہیں۔ یہ بے بی بومر صرف حکمران طبقے ہی کا حصہ نہیں بلکہ ہر طبقے میں موجود ہیں۔ طاقتور بھی ہیں کمزور بھی، امیر بھی ہیں غریب بھی، اچھے بھی ہیں بُرے بھی۔ دوسری جانب یہی صورت حال جین زی کی ہے۔ اس میں بھی سب اچھے نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر طبقے میں اچھے بُرے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک پوری کی پوری نسل کو غلط قرار دینا دانشمندی نہیں لیکن کیا کیا جائے کہ زورین کی تحریر کو اس جیسی سوچ رکھنے والوں میں بہت پذیرائی مل رہی ہے۔
کسی کی سوچ پر تو کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی نہ کسی کو کسی خاص انداز میں سوچنے کا پابند کیا جا سکتا ہے لیکن مثبت اور منفی سوچ کا موازنہ تو کیا جا سکتا ہے۔ زہران ممدانی اور زورین نظامانی کی سوچ کا اگر موازنہ کریں تو زہران کی سوچ زورین کی سوچ سے کہیں بلند نظر آتی ہے۔ زہران اس جین زی کا نمائندہ ہے جو تازہ ترین سوچ اور جذبوں کی عکاس ہے جبکہ زورین اس جین زی کا نمائندہ ہے جو شاید خود کو آخری نسل سمجھتی ہے اور جس کے بعد یہ دنیا ختم ہو جائے گی۔ زہران امید اور زورین یاس کا پیامبر ہے۔ یہ فیصلہ اب نوجوان نسل کو خود کرنا ہے کہ اسے زورین کے راستے کا انتخاب کرنا ہے یا زہران کے نقشِ قدم پر چلنا ہے۔

ٹیگز: