Wed, September 16, 2026

ایٹمی پاکستان۔ سازشیں بمقابلہ حقیقت

ایٹمی پاکستان۔ سازشیں بمقابلہ حقیقت

ڈی جی آئی ایس پی آر، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری، نے حالیہ بیان میں کہا ہے ’’پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کے خوفناک نتائج ہوں گے‘‘۔ یہ بیان نہ صرف پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ان عالمی طاقتوں اور عناصر کو انتباہ بھی ہے جو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو غیر محفوظ یا غیر ذمہ دارانہ قرار دینے کی مہمات چلا رہے ہیں۔ اس بیان کا مقصد حال ہی میں ایک مغربی ملک میں موجود چند ممالک کے نمائندگان کے اس ضمن میں ہوئے اجلاس کو دنیا کے سامنے رکھنا تھا تاکہ ایٹمی پاکستان کے دشمنوں کو خبر ہو کہ پاکستان کی مسلح افواج اور خفیہ ایجنسیاں ایسی کسی بھی سازش سے نا صرف پوری طرح آگاہ ہیں بلکہ ایسی سوچ رکھنے والوں سے نمٹنے کے لیے تیار بھی ہیں۔پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے، جس نے ایٹمی صلاحیت صرف دفاعِ وطن کے لیے حاصل کی ہے۔ مگر بدقسمتی سے عالمی سطح پر مختلف مواقع پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف منفی پراپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے، جس کا مقصد پاکستان کو دباؤ میں لانا اور اس کی سلامتی کو چیلنج کرنا ہے۔ایک طرف تو دوست نما امریکہ نے کئی مواقع پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر تشویش کا اظہار کیا۔ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں، امریکہ نے پاکستان پر ایٹمی پھیلاؤ (Nuclear Proliferation) کے الزامات لگائے اور مختلف پابندیاں بھی عائد کیں۔ 2004 میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پہ من گھڑت الزامات کا معاملہ منظر عام پر آیا، جسے بنیاد بنا کر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو غیر محفوظ قرار دیا گیا۔ 2011 میں اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کے بعد امریکی تھنک ٹینکس اور میڈیا نے یہ سوالات اٹھائے کہ اگر دہشت گرد ملک کے اندر اتنے محفوظ طریقے سے چھپ سکتے ہیں تو ایٹمی اثاثے بھی خطرے میں ہو سکتے ہیں۔ 2022 میں عہد صدارت کے دوران ہوش و حواس کھو دینے والے خلا مخلوق نما امریکی صدر جو بائیڈن نے پھر اسی قسم کا الزام دہرایا۔ لیکن اس بات پہ ہمیشہ حیرانگی رہی کہ جب جب اسی دوست نما امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑی تب نا تو کوئی ایسا بیاں سامنے آیا نا ہی تشویش ظاہر کی گئی۔ بلکہ تب خود کئی امریکی عہدیداروں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے محفوظ ہونے پہ گواہیاں دینا شروع کر دیں۔ پس ثابت ہوا معیار دوہرے ہیں۔دوسری طرف ہمارا روایتی حریف بھارت مستقل بنیادوں پر عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف لابنگ کرتا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا اور سرکاری حکام نے بارہا اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر یہ سوال اٹھایا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔ بھارت نے 2016 میں پٹھان کوٹ حملے کے بعد یہ الزام لگایا کہ پاکستان کی ایٹمی پالیسی جارحانہ ہے۔ حالانکہ پاکستان کی ’’Full Spectrum Deterrence‘‘ پالیسی صرف دفاع کے لیے ہے۔ بھارت پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے سے لیکر آج تک مسلسل پراپیگنڈہ کرتا آ رہا ہے کہ پاکستان کے اندرونی حالات اس قدر مخدوش ہیں کہ خاکم بدہن کسی وقت بھی ملک خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی بھارت پاکستان سمیت کئی ممالک میں مسلسل دہشت گردی کا باعث ہے۔ اور اسی ایٹمی بھارت کے آج تک قریب ایک درجن واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں لوگ ایٹمی مواد لیے جگہ جگہ سے گرفتار ہوئے۔تیسری سب سے بڑی تکلیف اسرائیل کو ہے جو ایٹمی پاکستان کو اپنے ’’گریٹر اسرائیل منصوبے‘‘ کی راہ میں آخری رکاوٹ سمجھتا ہے اور جو خود ایٹمی ہتھیار لیے بیٹھا ہے لیکن ان تک آج تک کسی کو رسائی  نہیں دی گئی۔ جو ماضی میں عراق اور شام کے ایٹمی پروگرام تباہ کر چکا ہے۔ 1980 کی دہائی میں یہ اطلاعات منظر عام پر آئیں کہ اسرائیل بھارت کے ساتھ مل کر کہوٹہ پلانٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، جسے پاکستانی خفیہ اداروں نے وقت پر ناکام بنایا۔برطانوی، امریکی اور یورپی تھنک ٹینکس کی کئی رپورٹس میں پاکستان کو غیر مستحکم ریاست قرار دے کر اس کے ایٹمی پروگرام کو خطرناک بنا کر پیش کیا گیا۔ دی نیویارک ٹائمز، دی گارڈین، فارن افیئرز جیسی اشاعتوں نے اکثر ایسی رپورٹس شائع کیں جن میں بغیر ثبوت بغیر کسی ٹھوس وجہ کے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو تنقید کا  نشانہ بنایا گیا۔ کیونکہ مغرب کے نزدیک پاکستان کا ایٹمی پروگرام دراصل اسلامی ایٹمی پروگرام ہے۔اسی طرح کی ہر درفنتنی کے بعد پاکستان نے ہمیشہ دنیا کو یقین دلایا ہے کہ اس کے ایٹمی اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہیں، اور ان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے کم نہیں۔ پاکستان دنیا کو بتا چکا ہے کہ اس نے 2000 کی دہائی میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی قائم کی، جو ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال، ان کی حفاظت، اور پالیسی فیصلوں کی نگرانی کرتی ہے۔ یہ اتھارٹی سویلین اور ملٹری قیادت پر مشتمل ہے، اور تمام فیصلے مکمل نظم و ضبط اور ذمہ داری کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔ وہیں سٹریٹجک پلانز ڈویژن SPD پاکستان کے تمام سٹریٹجک اثاثوں کی حفاظت اور ان کے آپریشنز کی نگرانی کرتا ہے۔ یہ ادارہ جدید ٹیکنالوجی، تربیت یافتہ عملہ اور سخت سکیورٹی پروٹوکولز کے ساتھ کام کرتا ہے۔انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بارہا نگرانی کی ہے، اور ہمیشہ اسے ایک محفوظ اور ذمہ دار ایٹمی طاقت تسلیم کیا ہے۔IAEA کے ڈائریکٹر جنرل نے 2018 اور 2021 میں پاکستان کے نیوکلئیر انفراسٹرکچر اور سکیورٹی پروٹوکولز کو نا صرف سراہا بلکہ IAEA کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کے نیوکلیئر پلانٹس عالمی معیار کے مطابق ہیں، اور ان میں حفاظتی نظام کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے کم نہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے IAEA کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے اور اپنے سویلین نیوکلئیر پروگرام تک ایجنسی کو رسائی دی ہے۔یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس سب کے باوجود پاکستان کا ایٹمی پروگرام پھر بھی دنیا کی نظر میں کیوں کھٹک رہا ہے؟ کیوں اس کے خلاف مسلسل سازشیں رچائی جا رہی ہیں۔ یقینا اس موقع پہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا بیان ایک انتہائی سنجیدہ پیغام ہے ان تمام عناصر کے لیے جو پاکستان کے ایٹمی 
اثاثوں کے خلاف منفی مہم چلا رہے ہیں یا کسی بھی طرح کی جارحیت کا سوچ رہے ہیں۔حکومت پاکستان اور پاک افواج نے یہ کلیئر کر دیا ہے۔ کہ پاکستان ایک پُرامن قوم ہے، لیکن اپنے دفاع پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ایٹمی صلاحیت ہمارا دفاعی ہتھیار ہے، اور اس پر حملے یا مہم جوئی کی کسی بھی کوشش کا انجام ’’خطے نہیں بلکہ دنیا کے لیے خوفناک نتائج‘‘ کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ یہ بات دنیا کو سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان نے ایٹمی پروگرام بے شمار قربانیوں، دباؤ اور چیلنجز کے باوجود حاصل کیا ہے، اور اسے محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے ہیں۔دنیا کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو خطرہ نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کی ضمانت سمجھنا چاہیے۔ ماضی میں کیے گئے الزامات اور پراپیگنڈہ وقت کے ساتھ غلط ثابت ہوا، اور IAEA جیسے عالمی اداروں کی تصدیق نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان نہ صرف اپنا دفاع کرنا جانتا ہے بلکہ بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری بھی کرتا ہے۔ لہٰذا اب ایسی سازشیں بند ہونی چاہئیں۔ پاکستان کو ایٹمی قوت کے طور پہ دیکھا جائے اور اس کی ایٹمی طاقت کے طور پہ تکریم کی جائے۔ ورنہ ہر میلی آنکھ نکالی بھی جائیگی اور اپنی عزت و تکریم کرائی بھی جائی گی۔

ٹیگز: