زہران ممدانی امریکی شہر نیویارک کے میئر منتخب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے 10 لاکھ 36 ہزار 51 ووٹ لئے جبکہ ان کے حریف کرتس سلائیوا نے 1 لاکھ 46 ہزار 137 ووٹ لئے حالانکہ اس امیدوار کے لئے ٹرمپ نے کاوشیں بھی کیں۔ آزاد امیدوار اینڈریو کواومو نے 8 لاکھ 54 ہزار 9 سو 95 ووٹ لئے۔ ممدانی نے 50.4 فیصد ووٹ لے کر نہ صرف برتری ثابت کی بلکہ تاریخ بھی رقم کر دی ہے۔ نیویارک کے میئر کے آفس کے ماتحت 3 لاکھ ملازمین ہیں جبکہ آفس کا بجٹ 116 ارب ڈالر کے برابر ہے۔ ممدانی جنوری 2026 میں اپنے آفس کاباقاعدہ چارج سنبھالیں گے۔ نیویارک شہر امریکہ کا سب سے بڑا جبکہ دنیا کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہ شہر امریکہ ہجرت کرنے والوں کے لئے گیٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ شہر عالمی فنانشل سینٹر بھی ہے۔ یہودیوں نے اسی شہر کو مرکز بنا کر امریکی معیشت، معاشرت، سیاست اور صحافت پر قبضہ کرنے کی منصوبہ سازی کی تھی۔ رتھ چائلڈز یہیں آ کر بسے تھے اور یہیں آزاد ہو کر پھلے پھولے اور امریکہ پر غالب آئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ سفید انسانوں کا حامی ہے نسل پرست بھی ہے اور یہود پرست بھی۔ اس نے سفید فام امریکیوں کی مدد سے الیکشن جیتا۔ دوسری مرتبہ ہار گیا اور تیسری مرتبہ الیکشن جیت کر دوسری مرتبہ صدر بنا اس طرح اس نے تاریخ رقم کی۔ اس نے یہود نوازی میں بھی ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ یہ ٹرمپ ہی ہے جس نے امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کر کے صیہونیوں کے ناجائز مطالبے کہ یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے کی تصدیق کی۔ پھر اسرائیل ، حماس جنگ کے دو سال کے دوران ظالم اسرائیل کی کھلے عام حمایت کی سفارتی سطح پر بھی اور عملاً بھی۔ صہیونی ریاست کے حکمرانوں کو اسلحے کی بھرپور سپلائی جاری رکھی تاکہ وہ حماس کے مقابلے کمزور نہ پڑ جائے پھر اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں بھی اسرائیل کی حمایت جاری رکھی۔ ایسے غیرمنصفانہ اقدامات کے باعث ٹرمپ کی حمایت میں کمی آتی چلی گئی ہے جس کا اظہار ممدانی کی جیت اور ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدوار کی شکست میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ممدانی کو فتح سے ہمکنار کرنے میں زیادہ حصہ ایشین و دیگر امیگرنٹس نے ڈالا۔ نیویارک جیسے شہر میں جہاں یہودیوں کا ہولڈ ہے، کسی مسلمان کا الیکشن جیتنا ایک معجزہ ہی ہو سکتا ہے کیونکہ اس شہر کی معیشت ومعاشرت اور صحافت پر یہودی قابض ہیں غالب ہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی مسلمان الیکشن جیت جائے اور وہ بھی بڑی واضح اکثریت سے تو یہ کسی بہت بڑی تبدیلی کا استعارہ ہی ہو سکتا ہے۔ امریکی رائے عامہ تبدیل ہو رہی ہے۔ اوباما کی فتح امریکی نظام سیاست کی مضبوطی کی عکاسی تھی کہ یہاں امریکی نظام میں کوئی بھی محنت، لیاقت اور میرٹ کے بل بوتے پر صدر بن سکتا ہے۔ ٹرمپ کی جیت امریکی معاشرے میں نسل پرستی کے رجحانات کی موجودگی کی عکاس ہے کیونکہ ٹرمپ نے سفید فام امریکیوں کی حمایت سے ہی الیکشن جیتے ہیں۔ ٹرمپ نے امریکی اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کر کے امریکی عالمی بالادستی کے رجحان کو ایک نئی شکل دینے کی کاوشیں کی ہیں ان کی اس پالیسی کے کیا نتائج نکلتے ہیں اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہو گا لیکن ٹرمپ کی سفیدفام امریکیوں اور اسرائیلیوں کی حمایت کے منفی نتائج زہران ممدانی کی فتح کی صورت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ امریکی رائے عامہ تبدیل ہو رہی ہے۔ یہودی غلبہ کمزور پڑ رہا ہے۔ بہرحال ممدانی کی جیت ایک خوشگوار ہوا جھونکا ہے ہمیں مسئلہ فلسطین کے حوالے سے تبدیلی کو دیکھنا ہوگا۔ اس بارے میں شاید دو آرا نہ پائی جاتی ہوں کہ صہیونی نیتن یاہو سرکار نے غزہ میں جو کچھ کر دیا ہے وہ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے ہزاروں نہتے بچوں و عورتوں کو بمباری کر کے ہلاک کرنا اور لاکھوں انسانوں کا اپاہج بنانا انسانیت سوز ظلم نہیں تو اور کیا ہے پھر بمباری کر کے رہائشی عمارتوں کو زمین بوس کر دینا کہاں کی انسانیت ہے۔ غزہ کے مسلمانوں پر نیتن یاہو کے مظالم کو جنگی جرائم قرار دیا جا چکا ہے اور نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو چکے ہیں۔ غزہ کے مظلوموں کے حق میں امریکہ، برطانیہ و دیگر یورپی و مغربی ممالک کے عوام نے بھرپور مظاہرہ کر کے اپنے حکمرانوں کی اسرائیل حمایت پالیسی کو مسترد کر دیا ہے۔اس دفعہ عرب حکمرانوں نے بھی بہتر ردعمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ حماس، اسرائیل معاہدے کے وقت حماس ایک طاقتور فریق کے طور پر سامنے آئی ہے گو اسرائیل کی صہیونی قیادت، فلسطینی ریاست کے قیام میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہی ہے وہ دو ریاستی حل پر متفق ہو جانے کے باوجود اس پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ عالمی برادری کی پاس کردہ قراردادوں پر عمل کرتی بھی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ فلسطینی کی تقسیم کے منصوبے کے مطابق یروشلم کو تینوں مذاہب کے ماننے والوں کے لئے کھلا شہر بھی نہیں مانتی ہے حالانکہ اسی قرارداد کے نتیجے میں اسرائیل اور فلسطین کا قیام وقوع پذیر ہونا تھا اور عملاً اسرائیل قائم بھی ہوا۔ عالمی برادری بالعموم فلسطین کے قیام کی حامی ہے۔ عرب اسرائیل جنگوں کے نتیجے میں صہیونی قیادت کی بالادستی قائم ہو چکی ہے۔ وہ گریٹر اسرائیل کے قیام کے لئے بڑی ڈھٹائی اور یکسوئی
سے کام کر رہے ہیں اسرائیل کی جغرافیائی حدود گریٹر اسرائیل کے نقشے کے مطابق پھیلائی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف عرب حکمران ہیں دیگر مسلمان ممالک کا رویہ ہے۔ عالمی امریکی اسٹیبلشمنٹ اسرائیل کے ساتھ ہے، یہود کے ساتھ ہے، صہیونیوں کے ساتھ ہے وہ ریاست اسرائیل کو نہ صرف زندہ رکھنے پر مصر ہے بلکہ اسے پھلتا پھولتا بھی دیکھنا چاہتی ہے۔ عربوں کے مقابلے میں اس کی ہمدردیاں صہیونیوں کے ساتھ ہیں، مسلمانوں کے مقابل وہ یہودیوں کے ساتھ ہیں لیکن امریکی رائے عامہ تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ زہران ممدانی کی فتح اس کا استعارہ ہے۔ یہودیوں کے شہر میں رہ کر ان کی مخالفت کے باوجود الیکشن جیتنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ باراک اوباما کی جیت بھی تبدیلی کا استعارہ تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا دوسری مرتبہ صدر بننا بھی ایک تاریخی واقعہ ہے۔ امریکہ اس وقت تبدیلی کے تاریخی عمل سے گزر رہا ہے چین کا عالمی معاشی و سیاسی منظر پر ابھرنا ایک اہم واقعہ ہے۔ پاکستان کا ہندوستان کے سات جہاز گرانا اور اسے شکست فاش سے دوچار کرنا بھی تاریخی تبدیلی کا عمل کا اظہار ہے۔ دنیا تبدیل ہو رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔