آج سپاس تشکر کے طور پر راولپنڈی کی ایک ایسی نامور اور ہر دل عزیز شخصیت کا تذکرہ کیا جاتا ہے جو کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ یہ ہیں محترم ڈاکٹر جمال ناصر جو ایک ایسے خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں جس کا تحریکِ پاکستان میں اہم کردار اور تاریخ پاکستان میں ایک نام ہی نہیں بلکہ سیاسی، سماجی اور خدمتِ خلق کے شعبوں میں بھی اہم مقام ہے۔ ان کے والدِ گرامی محترم نثار احمد نثار مرحوم نے قائدِ اعظم کی قیادت میں تحریکِ پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ قیام ِ پاکستان کے بعد وہ یو پی سے ہجرت کرکے پنڈی آگئے اور پھر اس شہر کو اپنی سیاسی ، سماجی اور عوامی سرگرمیوں کا اس طرح مرکز بنایا کہ راولپنڈی کی سیاسی اور معاشرتی تاریخ اُن کے تذکرے کے بغیر نامکمل سمجھی جا سکتی ہے۔ وہ اُن معدودے چند سیاستدانوں میں سمجھے جا سکتے ہیں جن کے ہاں مثبت سیاسی روایات و اقدار کی پاسداری اور سیاسی وفاداری کو جہاں فوقیت حاصل تھی وہاں ان کے ڈیرے سیاسی کارکنوں کے لیے تربیت گاہوں کی بھی حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے 1964کے صدارتی الیکشن میں صدر ایوب خان کے مقابلے میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا اور کسی ترغیب اور تحریص کی پروا کئے بغیر پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کے پرچم کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ مرحوم نثار احمد نثار صوبہ سرحد کے سابق وزیرِ اعلیٰ مردِ آہن خان عبدالقیوم خان کے نام سے منسوب مسلم لیگ قیوم کے اہم راہنما اور مرکزی عہدیدار ہی نہ تھے بلکہ علمی اور صحافتی حلقوں میں بھی اپنی خاص پہچان رکھتے تھے اور آخر وقت تک ایک قومی معاصر میں ہفتہ وار کالم لکھ کر انہوں نے اپنی اس پہچان کو قائم رکھا۔
محب مکرم اور محترم ڈاکٹر جمال ناصر جن کے حلقہ احباب میں اس نا چیز کو شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہے کا یہ خاندانی اور گھریلو پس منظر اور پیش منظر اُن کے لیے اہم پہچان کا ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن دیکھا جائے تو انہوں نے اس سے بڑھ کر اپنی پہچان اس طرح بنا رکھی ہے کہ ایک طرف وہ سٹی لیب جیسی معروف اور معتبر پتھالوجی لیبارٹری کے چیف ایگزیکٹو کی انتہائی اہم اور ہمہ وقت مستعد اور مصروف رکھنے والی ذمہ داریاں سر انجام دے رہے ہیں تو دوسری طرف پاکستان گرین ٹاسک فورس کے صدر اور بیگم قمر جہاں فاو¿نڈیشن کے سربراہ کے طور پر سماجی اور معاشرتی بہبود اور خدمتِ خلق کے شعبوں میں گراں قدر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اُن کی ذمہ داریوں اور خدمات کا سلسلہ اسی پر ختم نہیں ہوتا وہ علم و ادب ، تعلیم و صحافت اور دین و سیاست کے میدانوں کے ایسے شاہسوار ہیں جو کسی تعلیمی ادارے میں جلسہ تقسیم انعامات یا کسی اور تقریب میں بطورِ مہمانِ خصوصی خطاب کے دوران اپنے علمی جوہر بکھیر رہے ہوتے ہیں تو کسی دینی مدرسے یا مسجد میں سیرت نبی ﷺ یا ختم نبوت کی کانفرنس میں اپنی خطیبانہ مہارت اور دینی تعلیمات سے لگاو¿ کے نقش ثبت کر رہے ہوتے ہیں۔ صحافت کے شعبے میں ان کے شغف کا اس سے پتہ چلتا ہے کہ جہاں وہ خود گاہے گاہے ایک سے زاید قومی معاصروں میں طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں وہاں ملک کے نامور صحافیوں ، کالم نگاروں اور اینکر پرسنز سے اُن کے ذاتی مراسم ہیں۔ ان سب شعبوں میں اُن کی دلچسپی ، اُن کی کارکردگی اور لگاو¿ اپنی جگہ لیکن یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ قومی سیاست میں اُن کی دلچسپی اور خدمتِ خلق کے شعبے میں اُن کی خدمات کا سلسلہ زیادہ بڑھ کر ہے۔ وہ یقینا چاہتے ہیں کہ اپنے آبائی شہر پنڈی سے قومی اسمبلی (یاصوبائی اسمبلی) کی کسی نشست پر کامیاب ہو کر ملک کے مقتدر قانون ساز ایوانوں تک رسائی حاصل کریں اور وہاں اپنی اہلیتوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوائیں۔ اس کے لیے وہ سیاسی بالخصوص نیم سیاسی اجتماعات ، غمی خوشی کی محفلوں اور سیاسی کارکنوں کے اعزاز میں دیئے جانے والے ناشتوں وغیرہ کی تقریبات میں اپنی حاضری کو یقینی بنائے رکھتے ہیں لیکن کیا سیاسی جماعتوں میںاثر و رسوخ حاصل کرنے کے موجودہ طریقہ کارمیں ان کے لیے کچھ گنجائش بنتی ہے یا نہیں اس بارے میں یہی کیا جا سکتا ہے کہ بظاہر اس کے امکانات کم لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ سرے سے امکانات موجود ہی نہیں ہیں۔ پھر جیسے علامہ اقبال نے کہہ رکھا ہے ۔
جہاں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے، اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
کے مصداق ڈاکٹر جمال ناصر جیسی متحرک، مستعد، ذہین و فطین، ہر دل عزیز اور اپنے شعبے میں اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی حامل ہمہ جہت شخصیت کے لئے آگے بڑھ کر اپنے لئے نیک نامی، ناموری، اعلیٰ کارکردگی اور خدمت گزاری کا استعارہ بننے کے کتنے ہی مواقع موجود رہے ہیں۔
ڈاکٹر جمال ناصر 2022-24کے دوران پنجاب کی نگران صوبائی حکومت میں وزیرِ اعلیٰ جناب محسن نقوی کی کابینہ میں وزیرِ صحت ، پرائمری ہیلتھ اور سماجی بہبود رہے ہیں۔نگران صوبائی کابینہ میں ان کی شمولیت جہاں راولپنڈی کی صوبائی حکومت میں نمائندگی تھی وہاں ڈاکٹر جمال ناصر کی اعلیٰ صلاحیتوں اور صحت عامہ اور خدمت خلق کے شعبوں میں ان کی قابل قدر خدمات کا اعتراف تھا۔ راولپنڈی میں کئی ایسے لوگ یقینا موجود تھے یا ہوں گے جنہیں اس طرح کی کسی بھی ذمہ داری کا اہل سمجھا کا جا سکتا ہے۔ لیکن ان پر ڈاکٹر جمال ناصر کو فوقیت دی گئی۔تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ انہیں اعلیٰ صلاحیتوں کا حامل گردانا گیا۔بلا شبہ ڈاکٹر جمال ناصر اپنے اس انتخاب کو ہر لحاظ سے حق بجانب ٹھہرانے میں کامیاب رہے۔ نگران صوبائی حکومت میں بطور وزیرِ صحت و پرائمری ہیلتھ ان کی کارکردگی اپنے رفقائے کار ساتھی وزراءکے مقابلے میں زیادہ نمایاں رہے ہیں۔ صحت کے شعبے میں انہوں نے انقلابی اقدامات کئے۔ صوبے بھر میں ہسپتالوں کو سنوارنے اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے ان کی کوششیں، کاوشیں اور بھاگ دوڑ مثبت نتائج کی حامل رہی ۔ راولپنڈی میں ہولی فیملی ہسپتال کی عمارت کے کچھ حصوں کی تعمیر اور تزئین وآرائش کے لئے انہوں نے بھاری فنڈز منظور کرائے تو دوسرے ٹیچنگ ہسپتالوں بے نظیر ہسپتال اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں کئی ترقیاتی کام مکمل ہوئے ۔ اس کے ساتھ انہوں نے راولپنڈی رنگ روڈ کے منصوبے کو شروع کرانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔ یہ سارے کام اور منصوبے ان کی محنت ، لگن اور راولپنڈی سے ان کی محبت اور اعلیٰ کارکردگی کا ان مٹ ثبوت ہیں۔ تاہم سماجی اور معاشرتی بہبود اور خدمتِ خلق کے شعبوں میں ان کا کردار اور علمی ، تہذیبی ، تعلیمی اور مذہبی حلقوں میں ان کا جو مقام ہے وہ ماشاءاللہ اتنا نمایاں اور ممتاز ہے کہ اس میں کم ہی کوئی ان کا مقابلہ کر سکتا ہے۔